’حسن کی قیمت،‘ اور ’دہشت میں محبت‘

Image caption امریکی ادیب پال ہارڈنگ

تیسرا اسلام آباد ادبی میلہ دارالحکومت کی گھٹی گھٹی ثقافتی فضا کو تین دن تک تازہ ہوا کے جھونکے فراہم کر کے رخصت ہو گیا۔

آج سے تین سال قبل آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کے زیرِ اہتمام اسلام آباد میں جس ادبی میلے کا آغاز ہوا تھا وہ اب ایک روایت کا درجہ اختیار کر گیا ہے جو ہر گزرتے ہوئے سال کے ساتھ توانا تر ہوتی جا رہی ہے۔

اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں 24 تا 26 اپریل کو منعقد کیے جانے والے آکسفرڈ کے میلے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کے تینوں دن لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی۔ اور اس سے بھی زیادہ خوش آئند بات یہ تھی کہ ان میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی، جو لگاتار تین دن اپنی کمپیوٹر گیمز، فیس بک اور دوسری سائبر سرگرمیاں چھوڑ کر کتابوں اور ان کے لکھنے والوں میں دلچسپی لیتے ہوئے پائے گئے۔

میلے میں نہ صرف پاکستان کے مختلف شہروں سے مشاہیرِ ادب نے شرکت کی، بلکہ دوسرے ملکوں کے ادیبوں نے بھی حصہ لیا۔ ان میں خاص طور پر امریکہ سے آئے ہوئے ناول نگار پال ہارڈنگ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جنھوں نے 2010 میں اپنے ناول ’ٹنکرز‘ پر امریکہ کا سب سے معتبر ادبی اعزاز پیولٹزر انعام جیتا تھا۔

Image caption میلے کے دوران بک سٹال بھی لگائے گئے تھے جن میں رعایتی داموں کتابیں دستیاب تھیں

پال ہارڈنگ نے اپنے ساتھ منعقد کی جانے والی ایک خصوصی نشست میں کہا کہ جب انھوں نے اپنا ناول مکمل کیا تو جس ناشر کو بھیجا اس نے اسے مسترد کر دیا۔ لیکن انھوں نے ہمت نہیں ہاری، اور ہر ’ریجیکشن کو ریجیکٹ‘ کرتے چلے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی سال کی جدوجہد کے بعد جب یہ ناول ایک چھوٹے سے ناشر نے محدود تعداد میں شائع کیا تو بات سینہ بہ سینہ پھیلتی چلی گئی جو بالآخر پیولٹزر پر منتج ہوئی۔

میلے میں شرکت کے لیے بھارت سے تاریخ دان اروشی بٹالیہ بھی آئی ہوئی تھیں۔ انھوں نے تقسیمِ ہند کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ 1947 کے تباہ کن فسادات کے بعد دونوں ملکوں کے عوام کے علاوہ تاریخ دان بھی دو حصوں میں بٹ کر جذبات کے لہر میں بہہ گئے تھے تاہم اب وقت گزرنے کے ساتھ یہ شعور آتا جا رہا ہے کہ حالات کو معروضی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے۔

اس میلے میں کئی کتابوں کی تقاریبِ رونمائی منعقد ہوئیں۔ معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور شاعر علی اکبر ناطق کے افسانوں کا ترجمہ What Will You Give for This Beauty کے عنوان سے پینگوئن انڈیا نے چھاپا ہے۔

اس سیشن کے دوران کتاب کے انگریزی مترجم علی مدیح ہاشمی ان گوں اگوں مشکلات کا ذکر کیا جو انھیں علی اکبر ناطق کے افسانوں کی ٹھیٹھ وسط پنجابی ماحول انگریزی میں منتقل کرتے ہوئے پیش آئیں۔ ہاشمی صاحب نے اس کی کئی مثالیں دیں لیکن ایک عمدہ مثال خود کتاب کے عنوان ہی میں موجود تھی جس کا ذکر کرنا وہ بھول گئے۔ یہ اصل میں ناطق کے افسانے ’قائم دین‘ کا ایک فقرہ ہے، جس میں ایک رسہ گیر ایک چوری شدہ بھینس کے بارے میں سوداگر سے کہتا ہے: ’تم اس ’’ڈب کُھری‘‘ کا کیا لو گے؟‘

’دہشت میں محبت،‘ یہ نام ہے حمید شاہد کے افسانوی مجموعے کا جس کی تقریبِ رونمائی اسی میلے کے دوران منعقد ہوئی۔

Image caption اسلام آباد کے معروف ادیب علی اکبر ناطق

اس کتاب میں افغان ’جہاد،‘ نائن الیون کے بعد امریکی ردِعمل، اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں افسانے شامل ہیں۔ اس موقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے افسانہ نگار اور دانشور مسعود مفتی نے کہا کہ ہم پر چاروں طرف سے دہشت مسلط ہے اور ہم اس طرح سے دہشت کے ماحول میں رہ رہے ہیں جیسے مچھلی پانی میں رہتی ہے۔

اصغر ندیم سید بےحد مقبول ڈرامے لکھ کر انگریزی محاورے کے مطابق ’گھریلو نام‘ بن گئے ہیں، لیکن وہ ایک عرصے سے شاعری بھی کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کی کتاب ’ادھوری کلیات‘ حال میں شائع ہوئی ہے، جس کی تقریبِ رونمائی میں انھوں نے کئی نظمیں پڑھ کر سنائیں اور حاضرین سے خوب داد سمیٹی۔ تاہم سٹیج پر موجود بزرگ ادیب انتظار حسین نے کہا کہ اصغر جب ڈراما لکھتے ہیں تو وہ سب کی سمجھ میں آتا ہے لیکن جب جدید نظم لکھتے ہیں تو اسے سمجھنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے۔

البتہ انتظار صاحب نے بار بار اصغر ندیم سید کا موازنہ ن م راشد سے کیا، جو راشد کے ساتھ زیادتی ہے کیوں کہ سید صاحب بےشک ڈرامے کی دنیا میں نمایاں مقام رکھتے ہوں، انھوں نے اس محفل میں جو نظمیں سنائیں ان سے کہیں یہ شائبہ نہیں گزرا کہ ان کا نام راشد کے ساتھ ایک ہی سطر میں لینا چاہیے۔

Image caption ٹی وی کے مشہور اداکار آصف رضا میر بھی میلے میں نظر آئے

آکسفرڈ میلے کی مہتمم امینہ سید نے کہا کہ لٹریچر فیسٹیول کا آغاز کرتے وقت انھیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ یہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک اہم ثقافتی مظہر کے طور پر سامنے آئے گا۔

انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں اس روایت کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے آگے بڑھا کر چھوٹے شہروں تک بھی پھیلایا جائے گا۔

میلے کے تینوں دن ایک سوال ہم نے مختلف ادیبوں کے سامنے رکھا کہ کیا ایسے ادبی میلوں سے پاکستان کے مرتے ہوئے کتاب کلچر کو دوبارہ فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔

کچھ ادبا نے تو اس میں بھی استعمار کی سازش کی بو سونگھ لی، کچھ نے مقامی ادیبوں کو نظر انداز کرنے کا گلہ کیا، تاہم اکثریت کا خیال تھا کہ شاید مریض کو فوری افاقہ تو نہ ہو، لیکن اگر ایسی ہی خوراکیں بار بار دی جاتی رہیں اور علاج طویل مدت تک جاری رہے تو کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہو کر رہے گا۔

اسی بارے میں