سلمان خان کو پانچ سال قید، جمعے تک کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمان خان نے عدالت کے احاطے میں ہی خود کو حکام کے حوالے کر دیا

ممبئی کی عدالت کی جانب سے 12 سال پرانے ’ہٹ اینڈ رن‘ کیس میں اداکار سلمان خان کو غیر ارادی قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے پانچ سال قید کی سزا سنانے کے چند گھنٹوں بعد ہی اداکار کو جمعے تک کی عبوری ضمانت مل گئی ہے۔

انھیں عدالت سے ہی ممبئی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

’الزامات ثابت‘: سلمان خان پانچ سال کے لیے جیل میں

سلمان جیل چلے گئے تو۔۔۔

عدالت کے فیصلے کے بعد سلمان خان کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ ممبئی ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیے درخواست دیں گے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ اس واقعے کے متاثرین کو مزید کوئی زرِ تلافی ادا نہیں کیا جائے گا۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق سلمان خان کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

سلمان خان پر الزام ہے کہ انھوں نے سنہ 2002 میں سڑک کے کنارے سونے والے پانچ افراد پر گاڑی چڑھا دی تھی جن میں سے ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔

سلمان خان اس الزام سے انکار کرتے آئے ہیں، تاہم جمعرات کو عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سلمان خان ہی نشے کی حالت میں وہ گاڑی چلا رہے تھے اور ان پر عائد تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔

سلمان خان فیصلہ سننے کے لیے عدالت میں موجود تھے اور سیشن جج ڈي ڈبلیو دیش پانڈے نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’گاڑی آپ ہی چلا رہے تھے۔ یہ ناممکن ہے کہ سٹیرنگ وہیل کے پیچھے آپ کا ڈرائیور تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سلمان خان پر ہٹ اینڈ رن کے مقدمے کے علاوہ کالے ہرن کے شکار کا بھی معاملہ زیر سماعت ہے

جج نے جس وقت فیصلہ سنایا اس وقت سلمان کٹہرے میں کھڑے تھے اور فیصلہ سننے کے بعد وہ بالکل بجھ سے گئے۔ انھوں نے عدالت کے احاطے میں ہی خود کو حکام کے حوالے کر دیا۔

’ہٹ اینڈ رن‘ کا واقعہ 28 ستمبر سنہ 2002 کا ہے اور اس رات سلمان خان کی ٹویوٹا لینڈ کروزر ممبئی کے علاقے باندرہ میں امریکن ایکسپریس بیکری سے ٹکرائی تھی۔

حکام کے مطابق سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر پانچ افراد سو رہے تھے جو گاڑی کی زد میں آ گئے۔ ان میں سے 38 سالہ نوراللہ خان کی موت ہو گئی جبکہ تین افراد شدید جبکہ ایک شخص معمولی زخمی ہوا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Spice PR
Image caption فیصلے سے قبل شاہ رخ خان سمیت بالی وڈ کے کئی بڑے نام سلمان کے گھر ان سے ملنے گئے تھے

استغاثہ کا الزام تھا کہ سلمان خان خود گاڑی چلا رہے تھے اور انھوں شراب پی رکھی تھی۔

تاہم رواں برس مارچ میں عدالتی کارروائی کے دوران سلمان خان نے کہا تھا کہ نہ تو وہ گاڑی چلا رہے تھے اور نہ ہی انھوں شراب پی رکھی تھی۔

27 مارچ کو عدالت میں بیان دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں نشے میں نہیں تھا اور نہ ہی گاڑی چلا رہا تھا۔ جب یہ حادثہ ہوا تو ڈرائیونگ سیٹ پر میرا ڈرائیور اشوک تھا۔‘

بعدازاں 31 مارچ کو سلمان کے ڈرائیور اشوک سنگھ نے خود ڈرائیونگ سیٹ پر ہونے کا اعتراف کیا۔ انھوں نے عدالت میں کہا: ’پولیس میرا یقین نہیں کر رہی تھی اس لیے میں اتنے سال خاموش رہا لیکن اس دن میں ہی گاڑی چلا رہا تھا۔‘

تاہم بہت سے عینی شاہدین سلمان خان اور ان کے ڈرائیور کے بیانات سے متفق نہیں تھے۔

اسی بارے میں