’تنہائی کے سو سال‘ کا نایاب نسخہ پرانی کتب کے سٹال سے برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک اندازے کے مطابق اس کتاب کی قیمت ساٹھ ہزار امریکی ڈالر ہے

کولمبیا کی پولیس کا کہنا ہے کہ نوبیل انعام یافتہ ناول نگار گیبریل گارشیا مارکیز کے ناول ’تنہائی کے سو سال‘ کا چوری ہونے والا پہلا ایڈیشن برآمد کر لیا گیا ہے۔

یہ نایاب نسخہ دو مئی کو کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کتاب میلے میں ایک مقفل الماری سے چرا لیا گیا تھا۔

اس کتاب کے مالک اہم اور نایاب کتب جمع کرنے کے شوقین ہیں اور انھوں نے 1967 میں اسے خریدا تھا اور بعدازاں مارکیز نے اس پر اپنے دستخط بھی کیے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق اس کتاب کی قیمت 60 ہزار امریکی ڈالر ہے، تاہم اس کے مالک کا کہنا ہے کہ یہ ان کے نزدیک انمول ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یہ کتاب بوگوٹا میں پرانی کتابوں کے ایک سٹال سے ملی۔

پولیس کو شبہ ہے کہ اس چوری کے پیچھے آثارِ قدیمہ اور نایاب اشیا کا کام کرنے والے تاجر ہیں۔

جس کتاب میلے کے دوران یہ نسخہ غائب ہوا تھا وہ جنوبی امریکہ میں سب سے زیادہ مقبول ہے۔

اس کتاب میلے کا مرکزی خیال ایک تصوراتی شہر ماکوندو سے ماخوذ تھا جس کا ذکر گارشیا مارکیز نے اپنے ناول ’تنہائی کے سو سال‘ میں کیا تھا۔

سنہ 1982 میں ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ادیب گیبریل گارشیا کی گذشتہ برس موت کے بعد ان کے ناولوں کے پہلے ایڈیشنز کی قیمت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

سنہ 1967 میں شائع ہونے والے ناول ’تنہائی کے سو سال‘ کا پہلا نسخہ پرانی کتابوں کے ایک تاجر الوارو کاسٹیلو نے سنہ 2006 میں یوراگوئے کے دارالحکومت مونٹیوڈیو سے خریدا تھا۔

بعدازاں گیبریل گارشیا مارکیز نے اس کتاب پر اپنے دستخط کیے اور اسے الوارو کاسٹیلو کے نام یہ الفاظ لکھے تھے: ’الوارو کاسٹیلو کے لیے، پرانی کتابیں فروخت کرنے والا، آج اور ہمیشہ کے لیے، تمہارا دوست، گابو۔‘

اسی بارے میں