بڑی اداکاراؤں پر بھی معاوضے میں کمی کا دباؤ

Image caption چند فلاپ فلمیں بعض بہترین اداکاراؤں کو اپی فیس کم کرنے کے لیے مجبور کر دیتی ہیں

بالی وڈ کی بیشتر فلمیں گذشتہ کچھ عرصے سے خسارے میں جا رہی ہیں اور ان میں بڑے سٹارز والی ’گلاب گینگ‘، ’ہنسی تو پھنسي‘، ’گھن چكر‘، ’بوبی جاسوس‘، ’ریوالور رانی‘ وغیرہ سرِ فہرست ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر فلمیں ایسی ہیں جن میں اہم کردار خواتین کا تھا۔ لیکن فلموں کے فلاپ ہوجانے کے سبب اب ان ہیروئنز پر یہ دباؤ نظر آرہا ہے کہ وہ اپنے معاوضے میں کمی کریں۔

یہاں پانچ ایسی ہی ہیروئنوں کا ذکر ہے جنھوں نے کئی ہٹ فلمیں دی ہیں لیکن ان کی گذشتہ چند فلمیں ناکام کیا ہوئیں کہ ان پر فیس کم کرنے کا دباؤ پڑنے لگا۔

پرنیتی چوپڑہ

تصویر کے کاپی رائٹ YASHRAJ FILMS
Image caption پرینیتی چوپڑہ نے مسلسل کئی فلاپ دیکھنے کے بعد اب فرصت کے دن گزار رہی ہیں

فلاپ فلموں کی وجہ سے اپنی فیس کم کرنے والی اداکاراؤں میں پرینیتی چوپڑہ کا نام سرِ فہرست ہے۔

انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز یشراج بینر کی فلم ’لیڈیز ورسز رکی بہل‘ سے کیا تھا۔ اس کے بعد ’ہنسی تو پھنسی‘، ’دعوت عشق‘ اور ’كل دل‘ کے فلاپ ہونے کے بعد پرينیتی نے فلموں سے بریک لیا ہے۔

یہ کہا جا رہا ہے وہ اب اپنی بہن پرینکا چوپڑہ کے پروڈکشن ہاؤس کے تحت بننے والی فلم سے اپنی واپسی کریں گی۔

پريت نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا: ’پرینکا اور میرے درمیان کیریئر سے متعلق بات چیت ہوتی رہتی ہے اور میں اکثر سکرپٹ کے متعلق ان سے بات کرتی ہوں۔‘

کرینہ کپور

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کرینہ کپور کا بالی وڈ کی کامیاب ترین ہیروئنوں میں شمار ہوتا ہے

کرینہ کپور کچھ وقت سے ایسی فلموں میں نظر آنے لگی ہیں جن میں ہیرو کا رول ان کے رول سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

گذشتہ سال ریلیز ہونے والی فلم ’سنگھم ریٹرنز‘ میں بھی وہ اجے دیوگن کے ساتھ کچھ سین میں ہی نظر آئی تھیں۔

حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’گبر از بیک‘ میں بھی کرینہ صرف ایک گیت میں ہی نظر آئی تھیں۔

اگر کرینہ کی اہم فلموں کہ بات کریں تو عمران خان کے ساتھ ان کی فلم ’گوری تیرے پیار میں‘ فلاپ رہی تھی ایسے میں یہ بحث کا موضوع ہے کہ آیا کرینہ کپور پر بھی کم فیس میں کام کرنے کا دباؤ تو نہیں۔

رانی مکھرجی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رانی مکھرجی نے شادی کے بعد بھی فلمیں جاری رکھی ہیں

رانی مکھرجي کی آخری فلم ’مرداني‘ ان کی ہوم پروڈکشن تھی لیکن اس فلم سے پہلے رانی کے پاس کوئی خاص کام نہیں رہ گیا تھا۔

سنہ2007 میں چار، 2008 میں دو اور 2009 میں دو فلموں میں اداکاری کرنے والی رانی کو سنہ 2010 میں کوئی فلم نہیں ملی اور 2011 میں بھی وہ صرف ’نو ون كلڈ جیسکا‘ میں نظر آئی تھیں۔

سنہ 2012 میں رانی مکھرجي نے ’ايّيا‘ اور 2013 میں آنے والی فلم ’تلاش‘ کے لیے نسبتا کافی کم محنتانے پر کام کیا تھا۔

اب وہ اپنی فلم ’مردانی‘ کا سیکوئل بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ہوم پروڈکشن ہونے کی وجہ سے محنتانہ نہ بھی لیں تو کوئی تعجب کا مقام نہیں۔

ودیا بالن

تصویر کے کاپی رائٹ Hoture Images
Image caption ودیا بالن اپنی بہترین اداکاری کے لیے تین بار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازی جا چکی ہیں

تین بار مسلسل بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ جیتنے والی ودیا بالن کی باکس آفس پر تین مسلسل فلاپ فلمیں بھی آئیں۔

سنہ 2013 کی فلمیں ’گھن چكر‘ اور 2014 کی ’شادی کے سائیڈ افیكٹس‘ باکس آفس پر زیادہ بزنس نہیں کر سکی۔

اگرچہ ودیا نے یو ٹی وی کے مالک سدھارتھ رائے کپور سے شادی کی ہے لیکن اس کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ وہ ساری فلمیں یو ٹی وی کے بینر تلے ہی کریں گی۔

فلاپ فلموں کا خمیازہ تو ان کو بھی بھگتنا پڑا ہے اور آنے والی فلم ’ہماری ادھوری کہانی‘ میں وہ عمران ہاشمی کے ساتھ نظر آئیں گی لیکن کم فیس کے ساتھ۔

بالی وڈ کے تجزیہ نگار مينك شیکھر کہتے ہیں: ’بڑے پروڈكشن ہاؤس سے وابستہ ہیروئنوں جیسے رانی مکھرجی اور ودیا بالن کے فیس کم کرنے کو آپ پرائس کم کرنا نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ دراصل فلم کی پروڈیوسر بھی ہوتی ہیں۔‘

مادھوری دیکشت

تصویر کے کاپی رائٹ colors
Image caption مادھوری دیکشت کسی زمانے میں فلم ساز کی پہلی پسند ہوا کرتی تھیں

کریئر میں پانچ سال کا بریک لینے کے بعد جب اداکارہ مادھوری دیکشت نے یشراج بینر کی فلم ’آجا نچ لے‘ کے لیے حامی بھری تو یشراج فلمز انھیں اچھی فیس دینے کو راضی ہو گئی لیکن یہ فلم شائقین کی توقع پر کھری نہیں اتری۔

اس فلم کی ناکامی کے ساتھ یہ کہا جانے لگا کہ مادھوری کا وقت اب گزر چکا ہے کیونکہ اس کے بعد مادھوری دکشت کی بطور لیڈ اداکارہ ’ڈیڑھ عشقیہ‘ اور ’گلاب گینگ‘ بھی آئی لیکن ان فلموں کے لیے مادھوری نے کافی کم فیس لی۔

’گلاب گینگ‘ کے ڈائریکٹر شومك سین نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا تھا: ’مادھوری اور جوہی دونوں نے ہی ہماری بہت مدد کی اور فلم کی کہانی سننے کے بعد انھوں نے کم بجٹ ہوتے ہوئے بھی ہماری فلم کے لیے حامی بھری۔‘

اسی بارے میں