’مجرے اور آئٹم نمبر میں کوئی فرق نہیں‘

معروف پاکستانی اداکار حمزہ علی عباسی کے لیے تنازعات کوئی نئی بات نہیں۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے فیس بُک پیج پر ایسے جملے لکھتے ہیں جن پر چھوٹا یا بڑا تنازع پیدا ہونا معمول ہے۔

چند ہفتے پہلے انھوں نے فلم ’جلیبی‘ کی ہیروئین ژالےسرحدی کی تعریف کی مگر اداکاری کے لیے نہیں بلکہ کپڑے نہ اتارنے پر۔

اس پر کچھ پاکستانی اداکاراؤں نے برہمی کا اظہار کیا توحمزہ نے وضاحتی بیان جاری کیا کہ انھوں نےکسی کا نام تو نہیں لیا تھا تاہم وہ پھر بھی کسی کی دل آزاری پر معافی مانگتے ہیں۔

ڈراماسیریل ’پیارےافضل،‘ فلم ’وار‘ اور’میں ہوں شاہد آفریدی‘ سے شہرت حاصل کرنے والے حمزہ علی عباسی نے اپنا فنی سفر تھیئٹر سےشروع کیا تھا۔

گذشتہ دنوں ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان سے یہی پوچھا کہ آخر انھیں آئٹم نمبرز کےساتھ مسئلہ کیا ہے؟

اس پر انھوں نے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ چاہے کسی کو یہ بات بری لگے مگرحقیقت میں آئٹم نمبر یہی ہوتا ہے نا کہ خاتون کو ہیجان انگیز کپڑے پہنا کر ہیجان خیزگانا گوایا جاتا ہے، جس کی کوئی کمرشل حیثیت نہیں ہوتی اور پنجابی تھیٹر کے مجروں اور آئٹم نمبر میں دراصل کوئی فرق نہیں ہے۔

حمزہ نے واضح کیا کہ وہ آئٹم نمبر کے خلاف ہیں، کرنے والیوں کے بارے میں وہ کچھ برا نہیں سوچتے بلکہ اگر کوئی اس بات سے خفا ہوا ہے تو وہ اس سے معافی مانگتے ہیں۔

تاہم حمزہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ پاکستانی فلمی صنعت کی حالیہ تاریخ کی کامیاب ترین فلم’نامعلوم افراد‘ کی کامیابی میں مہوش حیات کے آئٹم نمبر کا کوئی کردار تھا اور وہ فلم کی بہترین ڈائریکشن کو کامیابی کی وجہ سمجھتے ہیں اور اگر اس میں آئٹم نمبر نہ بھی ہوتا تو کوئی فرق نہ پڑتا۔

البتہ حمزہ علی عباسی اس بات سے قطعی انکار کرتے ہیں کہ وہ کسی قسم کی غیرت بریگیڈ چلانےکی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا دعوٰی ہے کہ غیرت بریگیڈ وہ ہوتی ہے جو افراد کی نجی زندگی میں مداخلت کرے اور فلم عوام کا معاملہ ہے۔

حمزہ کا کہنا تھا کہ وہ گانے کے خلاف نہیں ہیں کیوں کہ گانے تو ہماری ثقافت کا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو کسی کی ذاتی زندگی پر نکتہ چینی کا حق نہیں تاہم فلموں میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اس سوال پر کہ اگر اداکارائیں اپنی مرضی سے ایسا کرتی ہیں تو اس پر انھیں کیوں اعتراض ہے، حمزہ کا کہنا تھا کہ پروڈیوسر، ڈائریکٹر ، تقسیم کار اور اداکاروں کے ساتھ ساتھ یہ سینسر بورڈز کا بھی قصور ہے کہ وہ انھیں پاس کیسے کر دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ سینسر بورڈ کے حکام سے مل کر اس پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

جب حمزہ سے ان کی آنے والی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی‘ کے ٹریلر کے بارے میں پوچھا جس میں وہ سوئمنگ پول سے نکلتے ہوئے دیکھے گئے اور ان کے سامنے سے تیراکی کے لباس میں ایک خاتون گزر رہی ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کو غلط ہی کہا تھا اس کی تعریف نہیں کی۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتے تو اس پر خاموش بھی ہو سکتے تھے مگر انھوں نے چُپ رہنے کی بجائے اس پر ندامت کا اظہار کیا۔

تحریکِ انصاف کے کلچرل سیکریٹری کی حیثیت سے استعفٰی دینے کی بابت ان کا کہنا تھا کہ انھوں لوگوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی وجہ سے استعفٰی دیا کیونکہ جو وہ کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی سیاسی کریئر بنانا نہیں چاہتے اور جس ملک میں ہم رہتے ہیں وہاں اگر تعلیم یافتہ طبقہ سیاست سے بھاگے گا تو پھر صرف گند ہی سامنے آئے گا۔

حمزہ نے بتایا کہ انھیں ساجد ناڈیا والا کی جانب سے بالی وڈ کی ایک فلم کی آفر ہوئی تھی مگر انھیں وہ کردار پسند نہیں آیا تھا اس لیے منع کردیا۔

حمزہ بالی وڈ میں کام کرنے کے حق میں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جسے موقع ملے وہ ضرور کام کرے مگر اچھا کام کرے، کوئی چھوٹا کام نہ کرے اور اس کے لیے وہ فواد خان کی مثال دیتے ہیں۔

حمزہ کے مطابق وہ بالی وڈ میں کام ضرور کریں گے اگر اچھا کام ملا تو۔

حمزہ پشاور میں ہونے والے 16 دسمبر کے واقعہ پر آئی ایس پی آر کی مدد سے ایک ٹیلی فلم بنارہے ہیں جس میں وہ لوگوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ آخر وہاں ہوا کیا تھا اور بچوں کو کیوں مارا گیا اور آخر تحریکِ طالبان ہے کیا۔

اسی بارے میں