’پاکستانی بچوں کو ان کے اپنے سپر ہیروز دینا چاہتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ SOC films
Image caption شرمین عبید چنائے کی اینیمیٹڈ فلم تین بہادر ایک اچھا قدم ہی کہلائے گی

پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ فیچر فلم’تین بہادر‘ 22 مئی کو عام نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

اس فلم کی آسکر ایوارڈ یافتہ فلمساز شرمین عبید چنائے کا کہنا ہے یہ فلم بنانے کا مقصد پاکستانی بچوں کو ایسے سپر ہیروز دینا ہے جنھیں وہ اپنا سمجھ سکیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ فلم اس لیے بنائی گئی ہے کیونکہ پاکستانی بچوں کو اپنے سپر ہیروز کی ضرورت ہے جو ان جیسا لباس پہنیں اور ان کی اپنی زبان بولیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اب تک سارے سپر ہیروز امریکہ ہی سےآئے ہیں، اور ہمارا اپن ا کچھ نہیں ہے اسی لیے یہ سپر ہیروز بنائے ہیں اور لوگوں کےگھر تک پہنچائے ہیں۔‘

شرمین کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ اینیمیشن دیکھنا چاہتے ہیں مگر انگریزی میں نہیں دیکھ سکتے ان افراد کے لیے بھی اردو میں اینیمیٹڈ فلم بنانا ضروری تھا۔

شرمین نے بتایا کہ یہ فلم پوری کی پوری پاکستان میں بنی ہے اور اس کا سکرپٹ، اینیمیشن ، ڈیزائین اور پوسٹ پروڈ کشن سب کچھ پاکستان ہی میں ہوا ہے۔

اس فلم کی کہانی بالکل روایتی ہے جس میں نیکی اور بدی کے درمیان جاری جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے۔

یہ کہانی ایک گاؤں روشن نگر کی ہے جہاں ہر طرف خوشحالی ہے تاہم اس گاؤں کی قسمت اس دن بگڑ جاتی ہے جس دن منگو نامی ایک جرائم پیشہ شخص کو بالام نامی ایک شیطان ملتا ہے اور اسے بدی کی قوتوں کی کنجی تھمادیتاہے۔

منگو طاقت حاصل کرتے ہی گاؤں والوں کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے اور پہلے ہی دن گاؤں کے ایک شخص کو قتل کرکے سب پر دل میں اپناخوف بٹھا دیتاہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOC fims
Image caption تین بہادر‘ اس لحاظ سے ضرور منفرد ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ فیچر فلم ہے

پھر بدی سے لڑنے کے لیے نیکی کی قوت میدان میں اترتی ہے اور وہ گاؤں کے تین بچوں ، سعدی ، آمنہ اور کامِل کو کچھ غیبی طاقتیں عطا کرتی ہے تاکہ وہ منگو کا مقابلہ کرسکیں اور یوں وہ تینوں سپر ہیرو بن کر اپنے گاؤں کو غلامی سے آزاد کرواتے ہیں۔

اس کہانی میں روشن بستی میں، جو منگو کے زیرِ سایہ اندھیر بستی کہلانے لگی تھی، بھتہ خوری ، موبائل چھیننے ، پانی کی چوری سمیت امنِ عامہ کی دگرگوں صورتِ حال دکھائی گئی ہے جس سے کم از کم کراچی کے باسی اچھی طرح واقف ہیں۔

روشن بستی میں جب بچے سپر پاورز حاصل کر کے لڑنے جانا چاہتے ہیں تو کچھ بڑے انہیں روکتے ہیں تاہم عمران نامی شخص بچوں کا ساتھ دیتا ہے۔

اس سوال پر کہ اس نام کا استعمال کہیں کوئی سیاسی پیغام دینے کی کوشش تو نہیں، شرمین عبید چنائے کہتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے اور سعدی ، آمنہ اور کامِل کی طرح عمران بھی ایک عام نام ہی ہے۔

یہ فلم میں مزاح اور ایکشن دونوں ہی بہت اچھے ہیں۔ ایک موقع پر جب قوی الجثہ غنڈہ ’پتیلہ‘ اپنے کمرے میں ایک گانے پر کتھک کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہال قہقہوں سے گونج اٹھتاہے۔

’تین بہادر‘ اس لحاظ سے ضرور منفرد ہے کہ یہ پاکستان کی پہلی اینیمیٹڈ فیچر فلم ہے تاہم اس کے گرافکس اور اینیمیشن کا معیار ابھی عالمی معیار سے کافی کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SOC films
Image caption اس فلم کی کہانی بالکل روایتی ہے جس میں نیکی اور بدی کے درمیان جاری جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے

مگر فلم کے آخر میں اس کے دوسرے حصے کی جھلک دیکھ کر یہ امید ضرور کی جا سکتی ہے کہ یہ فاصلہ مستقبل میں کم ہوگا۔

پاکستان میں سینیما کی بحالی کی کوششیں گزشتہ کئی سال سے جاری ہیں اور گزشتہ سال کچھ اچھی فلموں نے یہ امید بحال کی ہے کہ پاکستانی سنیما ترقی کرسکتاہے۔

اس صورتِ حال میں شرمین عبید چنائے کی اینیمیٹڈ فلم تین بہادر ایک اچھا قدم ہی کہلائے گی کیونکہ تکنیکی مہارت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوگا اور آئندہ بننے والی فلمیں اس سے بہتری کی طرف جا سکیں گی۔