نیو یارک میں فریدہ کاہلو کا ’گھر‘

تصویر کے کاپی رائٹ the new york botanical garden
Image caption فریدہ کاہلو سنہ 1925 میں ایک بس حادثے کا شکار ہونے کے بعد مسلسل تکلیف میں مبتلا رہیں

امریکہ کے شہر نیویارک کے ایک باٹینیکل گارڈن کو میکسیکو کی معروف مصورہ فریدہ کاہلو کے گھر، باغیچے اور سٹوڈیو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

فن، باغ اور زندگی کے عنوان سے یہ نمائش گذشتہ 25 برسوں میں فریدہ کوہلو سے منسوب نیویارک میں منعقد ہونے والی پہلی تقریب ہے۔

اس نمائش میں فریدہ کوہلو کی مصور کردہ اصل تصویریں بھی پیش کی گئی ہیں جس میں انھوں نے پھول اور پودوں کو مصور کیا تھا۔

فرہدہ کاہلو کا انتقال آج سے 60 سال پہلے ہوا تھا اور ان کا شمار اپنی شخصیت کو مصور کردہ تصویروں اور شوخ رنگوں کے استعمال کے حوالے بہترین مصوروں میں کیا جاتا ہے۔

اس نمائش کی منتظم جوانا گرورکے کہتی ہیں: ’ہم فریدہ کاہلو کے فن سے متاثر تو ہیں ہی لیکن میکسیکو سٹی میں ان کے باغیچے میں ان کے فن کارانہ کام سے بھی بے حد متاثر ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ rex features
Image caption فریدہ کاہلو کے فن میں پودوں اور قدرتی مناظر کا بے بہا استعمال نظر آتا ہے

’ان کی بنائی ہوئی تصاویر کو دیکھ کر ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ قدرت اور پودوں کا انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کرتی تھیں، لیکن ان کے بارے میں مزید پڑھنے پر ہمیں معلوم ہوا کہ وہ پودوں سے بہت لگاؤ رکھنے والی خاتون تھیں۔‘

’دی کاہلو شو‘ یکم نومبر تک جاری رہے گا، اس کے لیے باٹینیکل گارڈن کے انیڈ اے ہاؤپٹ کنزرویٹری کو فریدہ کاہلو کے گھر ’دی بلیو ہاؤس‘ کی شکل دی گئی ہے۔

یہاں صحن کی دیواروں کو نیلا رنگ کیا گیا ہے، فریدہ کاہلو اور ان کے شوہر ڈیگو رویرا کا تیار کردہ اہرام کے مجسمے کا نمونہ اور فریدہ کاہلو کا سٹوڈیو پیش کیا گیا ہے۔

فریدہ کاہلو نے اپنی تقریباً تمام زندگی سنہ1907 سے 1954 تک میکسیکو سٹی سے باہر کویوکن کے علاقے میں اپنے گھر میں بسر کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ rex features
Image caption فریدہ کاہلو نے اپنی تقریباً تمام زندگی سنہ1907 سے 1954 تک اپنے گھر میں ہی بسر کی تھی

سنہ 1925 میں ایک بس حادثے کا شکار ہونے کے بعد وہ مسلسل تکلیف میں مبتلا رہیں اور اسی دوران انھوں نے مصوری کا آغاز کیا تھا۔ انھیں صحت یاب ہونے میں طویل عرصہ لگا، ان کے 30 سے زیادہ آپریشن ہوئے اور وہ مستقل طور پر معذوری کا شکار رہیں۔

فریدہ کاہلو کے فن میں پودوں اور قدرتی مناظر کا بے بہا استعمال نظر آتا ہے لیکن اس میں 1940 اور 50 کی دہائیوں میں مزید شدت آگئی جب ان کی صحت مزید گر رہی تھی اور زیادہ وقت گھر پر ہی گزارتی تھیں۔

حال ہی میں ان کے فن کو نامور عجائب گھروں کی زینت بنایا گیا ہے۔ ان کی تصویر میکسیکو کے 500 پیسو کے نوٹ پر بھی موجود ہے ۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بھی بنائی گئی جسے سنہ 2002 میں اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

اسی بارے میں