بی بی کنگ کی موت کی تفتیش اب قتل کے شبے کے تحت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بی بی کنگ کی جائیداد کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی موت کی وجوہات کے دعوے بے بنیاد اور ہتک آمیز ہیں

بلوز موسیقی کے مشہور امریکی گلوکار بی بی کنگ کی موت کی تحقیقات قتل کے تحت کی جا رہی ہیں کیونکہ ان کی بیٹیوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں زہر دے کر مارا گیا تھا۔

کیرن ولیمز اور پیٹی کنگ کا کہنا ہے کہ ان کے والد کی بزنس مینیجر لیورن ٹونی نے انھیں ’ایک ایسی کھانے کی چیز دی جس سے اپنے وقت سے پہلے ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔‘

بی بی کنگ کی جائیداد کے وکلا کا کہنا ہے کہ یہ دعوے بے بنیاد اور ہتک آمیز ہیں۔

لیکن امریکی ریاست نیواڈا میں تفتیش کار اب ان کی موت کی تحقیقات قتل کے تحت کریں گے۔

کلارک کاؤنٹی کے تفتیش کار کے آفس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا کہ ’بی بی کنگ کی لاش کی ذمہ داری ہمارے علاقے کے تفتیش کار کی ہے جس نے ان کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔‘

تفتیش کار جان فیوڈن برگ نے سی این این کو بتایا کہ ابتدا میں کیے گئے پوسٹ مارٹم کے نتائج میں ’کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے بی بی کنگ کی بیٹیوں کے دعویٰ کو ثابت کیا جا سکتا ہو۔‘

لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ مکمل فورینسک نتائج سامنے آنے میں چھ سے آٹھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

بی بی کنگ لاس ویگس میں اپنے گھر میں سوتے ہوئے فوت ہو گئے تھے۔ ان کی عمر 89 برس تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بی بی کنگ سال 1925 میں 16 سپتمبر کو ایک کاشتکار کے گھر پیدا ہوئے تھے اور گیٹار بجانے سے پہلے کپاس کے کھیتوں میں کام کیا کرتے تھے

ان کی موت کے وقت ان کے ڈاکٹر اور تفتیش کار کا کہنا تھا کہ ان کی موت کی وجہ ذیابیطس درجۂ دوم سے منسلک کئی سٹروک تھے جن کا وہ سوتے وقت شکار ہوئے تھے۔

لیکن بی بی کنگ کی بیٹیوں کا کہنا ہے کہ ان کے والد کے ذاتی معاون مائرن جانسن اور لیورن ٹونی نے انھیں ایسی دوا دی جس سے وہ ڈایابیٹک شاک میں چلے گئے۔

ان کی بیٹیوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی موت سے ایک ہفتے پہلے بی بی کنگ کو ’اپنے رشتہ داروں سے دور رکھا گیا تھا اور اس دوران ان کے ساتھ صرف مائرن جانسن اور لیورن ٹونی تھے۔‘

لیورن ٹونی بی بی کنگ کی جائیداد کی نگران بھی ہیں۔ انھوں نے زہر کے دعوے کو رد کر دیا۔

انھوں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے کہا ’یہ اتنی دیر سے الزام لگا رہی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘

کنگ کی جائیداد کے ایک وکیل نے بھی الزامات کو ’ مضحکہ خیز‘ کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔

اس سال کی ابتدا میں بی بی کنگ کی تین بیٹیوں نے لیورن ٹونی کے خلاف غفلت کا کیس درج کیا تھا لیکن کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کیس مسترد کر دیا گیا تھا۔

بی بی کنگ سال 1925 میں 16 ستمبر کو ایک کاشت کار کے گھر پیدا ہوئے تھے اور گٹار بجانے سے پہلے کپاس کے کھیتوں میں کام کیا کرتے تھے۔

ان کی دو بار شادی ہوئی اور ان کے 15 اپنے اور لے پالک بچے تھے جن میں سے 11 زندہ ہیں۔

ان کی تدفین مسی سپی کی ریاست میں 29 مئی کو ہو گی۔

اسی بارے میں