اسرائیلی وزیراعظم کےقاتل پر مبنی فلم پر تنازعہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’بیونڈ دی فِیئر‘ ڈاکومنٹری میں عمر قید کی سزا پانے والے ایگال عامر کی جیل میں زندگی کا احاطہ کرتی ہے

یروشلم فلم فیسٹیول میں اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کے قاتل پر مبنی ڈاکومنٹری فلم کی نمائش کے فیصلے سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔

’بیونڈ دی فِیئر‘ ڈاکومنٹری میں سنہ 1995 میں اسحاق رابن کو قتل کے بعد عمر قید کی سزا پانے والے ایگال عامر کی جیل میں زندگی کا احاطہ کرتی ہے۔

یہ ڈاکومنٹری فلم لیٹویا میں پیدا ہونے والے ڈاکومنٹری ڈائریکٹر ہرز فرنک کا آخری کام ہے، وہ اس ڈاکومنٹری کی تیاری کے دوران انتقال کر گئے تھے۔

یہ فلم جولائی میں منعقد ہونے والے یروشلم فلم فیسٹیول میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

وائی نیٹ ویب سائٹ کے مطابق بہت سارے اسرائیلی شہری اس بات پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں کہ یہ فلم ایگال عامر کے جرم کے بجائے ان کی ذاتی زندگی کی عکاسی کرتی ہے۔

اس فلم میں ایگال عامر کی اہلیہ لاریسا ٹرمبوولر کے انٹریوز بھی شامل ہیں جنھوں نے جیل میں ان کے ساتھ شادی کی تھی۔ اس کے علاوہ ایگال عامر کے فون پر اپنے بچے کو رات کے وقت کہانیاں سنانے کے مناظر بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں بھی اس فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سابق صدر شمون پیریز اسحاق رابن کے دوست اور قریبی ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں کہ یہ ’ایک ہولناک قاتل کو جائز قرار دینے کی کوشش‘ ہے، جبکہ ملک کے وزیرثقافت اس حوالے سے تحقیقات کرنا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن کو سنہ 1995 میں قتل کیا گیا تھا

اسحاق رابن کی پوتی نوا روتھمن نے فلم سازوں پر ’انھیں نقصان پہنچانے کے غرض سے آزادی اظہارِ رائے کے استعمال‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

فی الوقت فیسٹیول کی سلیکشن کمیٹی نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ وہ ’غصے کے اظہار‘ سے اتفاق نہیں کرتے لیکن اس فلم کی نمائش اہم ہے کیونکہ یہ فلم ’ڈاکومنٹری فلموں میں پیش کش کی حدود کے حوالے سے بحث کا آغاز کرتی ہے۔‘

اس فیصلے کو یروشلم کی میونسپل اتھارٹی کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہے، جو اس فلم کے لیے مالی معاونت بھی کر رہی ہے۔

میونسپلٹی نے وائی نیٹ کو بتایا: ’ہم سینسر نہیں کریں گے اور جس تقریب کی ہم حمایت کر رہے ہیں وہ اس کے مسودے ہمیں منظوری کے لیے نہیں بھیجتے۔‘

اسی بارے میں