کیا فلموں میں آئٹم سانگز نہیں ہونے چاہیے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Salim Rizvi
Image caption اوم پوری نے ابھی حال میں ایف ٹی آئی آئی کے سربراہ کے تنازعے پر وہاں کے طلبہ کے مطالبے کو درست قرار دیا ہے

بالی وڈ کے معروف اداکار اوم پوری کا کہنا ہے کہ بھارتی سینیما میں ’آئٹم سانگ‘ نے خواتین کی شبیہ کو نقصان پہنچانے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔

جون کے آخری ہفتے میں ریلیز ہونے والی فلم ’مس ٹنكپور حاضر ہو‘ میں وہ پولیس والے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اوم پوری کا کہنا ہے: ’اس طرح کے ڈانس نمبرز کی وجہ سے ہی خواتین کے متعلق مردوں کی سوچ بگڑ جاتی ہے۔ ایک لڑکی کے ارد گرد رقص کرنے والے 20 مرد اس عورت کو کوئی چیز بنا دیتے ہیں۔‘

تو کیا فلموں میں آئٹم سانگز نہیں ہونے چاہیے؟ اس سوال پر اوم پوری کہتے ہیں کہ وہ آئٹم سانگ کو فلموں میں رکھنے کے خلاف قطعی نہیں ہیں لیکن وہ انھیں قدرے مہذب بنانے کی وکالت کرتے ہیں۔

پرانے زمانے کی فلموں میں آئٹم نمبرز کا حوالہ دیتے ہوئے اوم پوری کہتے ہیں: ’کیبرے تو ہیلن (اداکارہ) بھی کرتی تھیں لیکن وہ فحش نہیں ہوتا تھا۔‘

ہیلن اپنے زمانے کی معروف اداکارہ تھیں۔ وہ سلمان خان کے والد سلیم خان کی اہلیہ ہیں۔

’ٹائپ كاسٹ‘

Image caption مس ٹنکپور حاضر ہو میں اوم پوری نے پولیس والے کا کردار ادا کیا ہے

خود کو کو کریکٹر آرٹسٹ قرار دیتے ہوئے اوم پوری نے کہا: ’مجھ جیسے فنکاروں کو شروع سے ہی ٹائپ كاسٹ کر دیا جاتا ہے اور ہمارے لیے مسالا فلموں میں ولن یا کسی دوسرے قسم کے کردار تیار کیے جاتے ہیں۔‘

ان دنوں 60 سال کی عمر سے زیادہ کے اداکاروں کو مرکز میں رکھ کر کہانی لکھے جانے پر انھوں نے کہا: ’یہ کہانیاں امیتابھ کے لیے لکھی جاتی ہیں، ہمیں سٹار نہیں مانا جاتا، نہ ہی ہمارے لیے ایسے کردار لکھے جاتے ہیں۔‘

حال ہی میں کئی فلموں پر سینسربورڈ کی قینچی کے سوال پر انھوں نے سیاسی لیڈروں کو فلمیں دیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’جو فلمیں سچائی پر مبنی ہوں اسے انھیں تو دیکھنا ہی چاہیے۔‘

فلم ’مس ٹنکپور حاضر ہو‘ اس وقت تنازعے میں گھر گئی جب اترپردیش کی ایک پنچایت نے اس پر پابندی کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے مطابق اس میں کھاپ پنچایت کی خراب شبیہ پیش کی گئی ہے۔

اسی بارے میں