’پہلے عورت پھر بھارتی یا مسلمان ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Star
Image caption شبانہ اعظمی معروف اردو شاعر کیفی اعظمی کی بیٹی ہیں

شبانہ اعظمی کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے ’انکر،‘ ’منڈی،‘ ’نشانت،‘ ’پار،‘ ’ارتھ‘ جیسی معرف آرٹ فلموں میں اداکاری سے اپنی الگ جگہ بنائی تو وہیں ’پرورش‘ اور ’امر اکبر انتھوني‘ جیسی کمرشل فلمیں بھی کیں۔

بی بی سی سے خصوصی بات چیت میں شبانہ نے اپنی زندگی اور کام سے وابستہ کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

اس سوال پر کہ متوازی اور کمرشل فلموں میں سے کون سا تجربہ بہتر رہا؟ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں الگ الگ دنیائیں ہیں۔

’ہمارے زمانے میں فلموں میں سکرپٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی۔ کئی بار ایسا ہوتا تھا کہ میں اور راجیش کھنہ جب کوئی سین کر رہے ہوتے تھے تو پہلے صفحے کے بعد دوسرے کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہوتا تھا۔‘

شبانہ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہوتی کہ ’قادر خان کسی تیسرے سٹوڈیو میں بیٹھ کر سین لکھ رہے ہوتے تھے۔ ظاہر ہے ایسے ماحول میں سین میں کسی طرح کی حقیقت اتار پانا مشکل تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شبانہ اعظمی کو شہرت آرٹ فلموں سے ملی

انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس ’شیام بینیگل کی اور متوازی سینیما کی دیگر فلموں میں گہرائی میں جا کر کام کرنے کا موقع ملتا تھا کیونکہ ان کا پوری سکرپٹ ہوتا تھا، حقیقت سے اس کا واسطہ تھا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر متوازی سینیما نہ ہوتا تو انھیں کبھی خواتین کے موضوعات پر مبنی اچھی فلمیں نہ ملتیں: ’میرے دور میں بالی وڈ میں عورت یا تو دیوی کا روپ تھی یا پھر ولن لیکن آرٹ ہاؤس فلموں نے عورت کے دل و دماغ کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption فلم فقیرا میں انھوں نے ششی کپور کے ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے

شبانہ اعظمیٰ کا کہنا تھا کہ اداکاری اور فنونِ لطیفہ سے ان کا تعلق بچپن سے ہی جڑ گیا تھا۔

’تب میں صرف چار ماہ کی تھی۔ ماں شوکت کیفی مجھے اپنی پیٹھ پر لاد کر پرتھوی تھیٹر ریہرسل میں لے جایا کرتی تھیں۔ ابا کیفی اعظمی مجھے مشاعروں میں بھی لے جایا کرتے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ماحول میں رفتہ رفتہ تھیئٹر کی جانب دلچسپی بڑھی۔ بعد میں میں نے پونا فلم اینڈ ٹی وی انسٹي ٹيوٹ جانا شروع کیا۔ وہاں ورلڈ سینیما دیکھنے کا موقع ملا۔ ان سب نے مجھ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔‘

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ’نو سال کی عمر تک میں کمیونسٹ پارٹی کے ماحول میں رہی۔ وہاں ہر كامریڈ کے پاس صرف 225 مربع فٹ کا ایک کمرہ ہوتا تھا۔ آٹھ خاندان ایک باتھ روم اور ٹائلٹ شیئر کرتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نغمہ نگار اور سکرپٹ رائٹر جاوید اختر شبانہ کے جیون ساتھی ہیں

شبانہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پہلی شناخت ایک عورت کے طور پر کروانا چاہتی ہیں اور سماجی کاموں اور اداکاری دونوں سے ان چیزوں کو فروغ دیتی ہوں جن پر وہ یقین رکھتی ہیں۔

’سب سے پہلے میں ایک عورت ہوں۔ پھر ایک ہندوستانی ہوں، ماں ہوں، بیٹی ہوں، بیوی ہوں، اداکارہ ہوں، مسلم ہوں۔ سب ایک ساتھ۔ ایکٹنگ اور ایكٹیوزم کو میں ایک دوسرے سے علیحدہ تصور نہیں کرتی۔‘

ان کے مطابق ’میری پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں میں نے سماجی تبدیلی کے لیے فن کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھا۔‘

Image caption لوگوں نے مجھے بے پناہ محبت اور عزت دی۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جسے واقعی میرا کام پسند نہیں‘

فلم ’فائر‘ میں ایک ہم جنس پرست عورت کے متنازع کردار پر بات کرتے ہوئے شبانہ نے کہا کہ ’ایسا نہیں ہے کہ میں جان بوجھ کر تنازع پیدا کرتی ہوں۔ لیکن مجھے سکھایا گیا ہے کہ جو درست ہے اس کے لیے آواز اٹھاؤ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم جنس پرستوں کے بھی مساوی حقوق ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس كردار کو دیکھ کر بہت سے لوگ دنگ رہ گئے، کئی ناراض تھے، بعض تذبذب میں تھے لیکن کم از کم ایک بحث شروع ہوئی اور کسی بھی مسئلے سے نمٹنے کا پہلا قدم یہی ہوتا ہے۔‘

اس سوال پر کہ وہ خصوصاً سماجی مسائل کے حوالے سے تنقید کا ہدف کیوں رہی ہیں، شبانہ نے کہا کہ ’تنقید کو نہ نظر انداز کرتی ہوں نہ اس پر غصہ آتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق، ایڈز، عورتوں سے متعلق کئی مسائل پر کام کیا۔ نیلسن منڈیلا والی تقریب بھی ہوئی جہاں بِن بات کے تنازع کھڑا کر دیا گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے مجھے بے پناہ محبت اور عزت دی۔ لیکن ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جسے واقعی میرا کام پسند نہیں۔ اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ہر انسان کو اپنا خیال ظاہر کرنے کی آزادی ہے۔‘

Image caption شبانہ اعظمی سماجی کارکن کے طور پر بھی معروف ہیں

اسی بارے میں