این بی سی کا ڈونلڈ ٹرمپ سے روابط ختم کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ متنازع بیان صدارتی امیدواری کے لیے اپنی مہم کی ابتدا کے ساتھ دیا تھا

امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی نے مشہور کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ کے میکسیکن باشندوں کے بارے میں ’ توہین آمیز بیان‘ کے بعد ان سے کاروباری روابط ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بیان حال ہی میں میکسیکو کے غیر قانونی تارکینِ وطن کے بارے میں دیا تھا۔

این بی سی نے کہا ہے کہ وہ اب مس یو ایس اے اور مس یونیورس یعنی حسینۂ امریکہ اور حسینۂ کائنات کی تقاریب کو نشر نہیں کرے گی۔

ٹرمپ ان دونوں مقابلوں کا انعقاد کرنے والی کمپنی کے شریک مالک ہیں۔

اس اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ این بی سی پر مقدمہ کرنے کے بارے میں غور کر سکتے ہیں۔

اسی ماہ پہلے جب انھوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ ریپبلیکن کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہاں ہیں تو اسی کے ساتھ انھوں نے میکسیکو کے باشندوں پر امریکہ میں منشیات اور جرائم میں اضافے کے الزمات لگائے تھے۔

انھوں نے 16 جون کی اپنی تقریر کے دوران کہا تھا: ’وہ منشیات لا رہے ہیں، وہ جرائم لا رہے ہیں، وہ ریپ کرنے والے ہیں اور میرے خیال میں ان میں بعض اچھے ہیں لیکن ہم سرحد کے محافظوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ ہمیں کیا مل رہا ہے۔‘

انھوں نے میکسیکو سے ملحق امریکہ کی سرحد پر ’ایک عظیم دیوار‘ بنانے کا بھی عہد کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا خرچہ میکسیکو والوں کو دینا ہوگا۔

انھوں نے بعد میں اس بات پر زور دیا کہ وہ امریکی قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے نہ کہ میکسیکو کے باشندوں کو۔

این بی سی پر ہسپانوی ایڈوکیسی گروپ کی جانب سے مسٹر ٹرمپ کے شو کو نشر نہ کیے جانے کے لیے دباؤ تھا جبکہ چینج ڈاٹ اوآرجی ویب سائٹ پر ان کے خلاف دو لاکھ سے زیادہ دستخط کیے گئے تھے۔

پیر کو نیٹ ورک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: ’این بی سی کے اقدار میں تمام لوگوں کے لیے عزت و وقار انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔‘

اس میں مزید کہا گیا کہ سیلیبریٹی اپرینٹس شپ کا نشریہ جاری رہے گا کیونکہ وہ دوسرے گروپ کی جانب سے ہے جبکہ ٹرمپ نے صدارتی امیدار کے مقابلے میں آنے کے بعد اس شو کی میزبانی بند کر دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مسٹر ٹرمپ مس یوایس اے اور مس یونیورس کے منعقد کرانے والوں میں شریک ہیں

این بی سی کے اعلان کے فورا بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ غیرقانونی تارکین وطن کے اپنے بیان پر قائم ہیں کیونکہ ’وہ درست ہیں۔‘

انھوں نے کہا: ’این بی سی کمزور ہے اور ہر کسی کی طرح سیاسی طور پر درست ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک سنگین پریشانی کے عالم میں ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ نیٹ ورک نے اپنے کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اور ’اس کا فیصلہ عدالت میں ہوگا۔‘

خیال رہے کہ امریکہ میں ہسپانوی زبان کے بڑے نشریاتی ادارے یونیویژن کے بعد این بی سی دوسرا نشریاتی ادارہ ہے جس نے ٹرمپ سے تعلق توڑ لیا ہے اور مس امریکہ کی نشریات کو بھی روک دیا ہے۔

یونیورژن سے ہٹائے جانے پر مسٹر ٹرمپ نے میکسیکو کی حکومت کی جانب سے نیٹ ورک پر دباؤ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا: ’وہ ڈونلڈ ٹرمپ کو خاموش کرنا چاہتے ہیں لیکن ٹرمپ کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔‘

اسی بارے میں