اور بڑا آدمی کسے کہتے ہیں؟

Image caption عبداللہ حسین کا 84 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا

1982 میں پانچویں کلاس کے ایک دس گیارہ سالہ بچے کی نگاہ گھر میں کتابوں کے ریک میں ایک بھُوری جلد والی موٹی سی کتاب پر اکثر پڑتی تھی جس پر سنہرا سا اداس نسلیں، عبداللہ حسین لکھا تھا۔

سردیوں کی چھٹیوں میں جب سب کہانیاں ختم ہو گئیں اور کچھ بھی نہ بچا تو اس بچے نے وہی کتاب پڑھنی شروع کر دی۔

کچھ سمجھ نہیں آتا تھا مگر اس کتاب کے کچھ مناظر لاشعور میں ثبت ہوتے چلے گئے۔ ایک منظر میں ایک بوڑھا کمزور سا آدمی انگریز فوجیوں سے بھاگتا پھرتا ہے۔ ایک اور منظر اندھیرے کمرے میں ایک شخص ہے جس کا بازو اور ہاتھ لکڑی کا ہے، وہ ایک جوان لڑکی کے چہرے پر لکڑی والا ہاتھ پھیرتے ہوئے بتا رہا ہے کہ یہ گال ہے اور یہ ناک ہے۔

ایک اور منظرمیں میاں بیوی اپنا گھر بنانے کے بعد سوچ رہے ہیں کہ اس گھر کا نام کیا رکھیں۔ اور پھر وہ گھر کے باہر کی تختی پر لکھتے ہیں کہ یہاں نعیم اور عذرا رہتے ہیں۔

بس کچھ اسی طرح کے مناظر تھے جو اس بچے کے ساتھ رہے اور پھر یہ بچہ مجھ میں ڈھل کے تیس برس کا ہوگیا۔ پھر ایک دن کراچی ایئرپورٹ کے بک سٹال سے تیس برس بعد اداس نسلیں اس لیے خریدی کہ وہ مناظر سچ مچ اسی کے ہیں یا میں نے اتنے دن کسی مغالطے میں بسر کیے۔

جیسے جیسے یہ کتاب پڑھتا گیا پورا بچپن اور اس کے مناظر ایک ایک کر کے سامنے سے گزرتے چلے گئے۔ عبداللہ حسین کا ہیولا میرے دیوتا میں بدلتا چلا گیا۔ ایسا دیوتا جو اپنے کرداروں کے دل میں اتر کے ان کی کیفیت کو بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔

فروری 2013 کی بات ہے جب میرے ساتھی وسعت اللہ خان نے اچانک کہا شام کو آرٹس کونسل میں ان کے ساتھ ایک نشست ہے۔

میں نے پوچھا کن کے ساتھ؟ وسعت نے کہا ’تمہارے بچپن کے دوست عبداللہ حسین کے ساتھ۔۔۔پورے چھ بجے پہنچ جانا آرٹس کونسل۔‘

پانچ بجے میں سکتے کے عالم میں عبداللہ حسین کی تمام کتابیں تھامے کراچی آرٹس کونسل میں بےقرار ٹہل رہا تھا کہ وسعت نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔

خاکی پتلون، سفید جوگرز، چیک کی سادہ سی شرٹ پہنے، چھ فٹ قد کے عبداللہ حسین سامنے آ گئے۔

’عبداللہ حسین صاحب، یہ شرجیل ہیں۔‘ وسعت نے میرا ان سے تعارف کروایا۔

’ارے شرجیل بلوچ یہ تو میرے فیس بک فرینڈ ہیں۔‘ یہ کہہ کر انھوں نے پیار سے گلے لگا کر تھپکی دی۔

پہلی بار احساس ہوا کہ ’جادو کی جپھی‘ کسے کہتے ہیں۔ جسم پر ایک ہلکی سی کپکپاہٹ طاری ہو گئی۔ مجھے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا لیا۔

Image caption عبداللہ حسین بڑا احسان کر کے بھول جانے اور معمولی تحفوں کو یاد رکھنے والے انسان تھے

’شرجیل بلوچ کی خاطر۔۔۔عبداللہ حسین۔‘ وہ ہر کتاب پر یہی آٹوگراف دیتے تھے۔

’آپ نے ہم پر بہت احسان کیا ہے۔‘ ساری ہمت جمع کرنے کے بعد میرے منہ سے بس یہ نکلا۔

’احسان؟ وہ کیسے؟؟‘

’آپ نے ’نادار لوگ‘ میں بلوچستان کا ذکر کر کے ہم پر بہت بڑا احسان ہے۔‘ میں نے عرض کیا۔

وہ چند لمحے ہوا میں دیکھتے ہوئے کچھ سوچتے رہے اور پھر بولے۔ ’نہیں احسان تو نہیں کیا، میں نے تو بس اپنا کام کیا ہے۔ احسان تو آپ کا ہے کہ آپ میری کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔‘

یہ کہتے ہوئے انھوں نے آخری دستخط کیے اور پھر دیر تک اپنے پرستاروں کو اپنے حالات و واقعات سنا سنا کر محظوظ کرتے رہے۔

تقریباً ایک سال بعد ایک نصف شب فیس بک پر ان کا میسج سکرین پر آیا۔ ’شرجیل تم کہاں تھے نظر نہیں آئے میں کراچی آیا ہوا تھا؟‘

اس وقت میری حالت کا اندازہ کون لگا سکتا تھا کہ عبداللہ حسین مجھ سے نہ ملنے کا گلہ کر رہے ہیں۔ کوئی اتنا خوش قسمت بھی ہو سکتا ہے؟ میری بے یقینی عروج پر تھی۔ پھر انھوں نے لکھا میں فروری میں آؤں گا ملنا ضرور۔

اور پھر فروری میں ہی محمد حنیف کے گھر پر سرِ شام شہر بھر کے لکھاری، صحافی ، فلم میکرز ، ایکٹرز اور جانے کون کون عبداللہ حسین سے ملنے کو جمع ہونے لگے۔

وہ آئے اور دروازے کے قریب رکھے ہوئے صوفے پر ہی بیٹھ گئے۔ میں میزبانوں میں شامل تھا۔ اچانک اپنی عینک کو درست کرتے ہوئے انھوں نے اونچی آواز میں کہا، یار یہ شرجیل ہے نا ؟

Image caption عبداللہ حسین کے پہلے ہی ناول اداس نسلیں کو عالمی شہرت ملی

ساری محفل کی نظریں مجھ پر یوں پڑیں کہ یہ کون ہے ؟

’بھئی وہاں کیا کر رہے ہو ادھر آؤ۔‘ کون میری خوشی اور خوش نصیبی کا اندازہ لگا سکتا ہے ؟

اپنے قریب بٹھاتے ہوئے بہت شفقت سے پوچھا اور کیا ہو رہا ہے؟

کچھ بھی نہیں۔

ڈونٹ وری۔ جب آپ کچھ نہیں بھی کر رہے ہوتے تب بھی تخلیقی دماغ اپنا کام کر رہا ہوتا ہے۔ انہوں نےتسلی دی۔ اور پھر ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ مجھے آج تک ہزاروں پرستار ملے ہونگے۔ہرجگہ ہر روز ملتے رہتے ہیں۔سب تعریف کرتے ہیں۔۔۔۔ مگر مجھے تمہارا جملہ نہیں بھولے گا۔

جی ؟ میں نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ تم نے کہا تھا نا آپ نے ہم پر احسان کیا ہے۔ یہ بات مجھے آج تک کسی نے نہیں کہی۔۔۔اور یہ کہہ کر انہوں نے مجھ پر ایک اور احسان کر دیا۔

محفل کے آخری پہر جب وہ ایک کونے میں سٹول پر بیٹھے تھے، بولے یار شرجیل ایک کام کر دو۔ دراصل کسی نے میرا لائٹر اٹھا لیا ہے۔ اب میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں جاؤنگا تو مجھے سگریٹ جلانے کے لیے لائٹر چاہیے ہوگا۔ تم مجھے ایک لائٹر دے سکتے ہو؟

اور پھر تین دن بعد رات کو فیس بک پر میسج آیا۔

تمھارا لائٹر میرے پاس ہے۔ اس تحفے کا بے حد شکریہ۔

عبداللہ حسین بڑا احسان کر کے بھول جانے اور معمولی تحفوں کو یاد رکھنے والے انسان تھے۔ اور بڑا آدمی کسے کہتے ہیں ؟

اسی بارے میں