’میں تو تاج واپس نہیں کروں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پالینا ویگا بدستور حسینۂ کائنات کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گی

کولمبیا سے تعلق رکھنے والی حسینۂ کائنات پالینا ویگا نے اپنے ملک کی جانب سے ان مقابلوں کی منتظم کمپنی کے مالک ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کے باوجود اپنا اعزاز واپس کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

میکسیکن تارکینِ وطن کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ ماہ سامنے آنے والے متنازع بیان کے بعد کولمبیا نے مس یونیورس کے آئندہ مقابلے کی میزبانی حاصل کرنے کی کوشش سے بھی دستبرداری کا اعلان کیا ہے۔

اس فیصلے کے بعد پالینا ویگا کو عوامی دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ اپنا اعزاز واپس کر دیں۔

22 سالہ پالینا نے ڈونلڈ ٹرمپ کے تبصرے کو ’ناجائز اور تکلیف دہ‘ قرار دیا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ بدستور حسینۂ کائنات کے طور پر اپنا کام جاری رکھیں گی۔

انھوں نے پیر کو کولمبیا کے ایک مقامی ریڈیو سٹیشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنا تاج واپس نہیں کر رہی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرا موقف تبدیل ہوگیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مس یونیورس آرگنائزیشن بامعنی سماجی کام کرتی ہے اور اس تمام ’پاگل پن‘ کے باوجود یہ کام جاری رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے پالینا کو منافق قرار دیا تھا

ڈونلڈ ٹرمپ خود بھی پالینا ویگا پر حسینۂ کائنات کا اعزاز واپس نہ کرنے پر تنقید کر چکے ہیں اور انھوں نے پالینا کو منافق قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مس یونیورس پالینا ویگا نے مجھ پر غیرقانونی امیگریشن پر سچ بولنے پر تنقید کی اور پھر کہا کہ وہ تاج واپس نہیں کریں گی۔ یہ منافقت ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ جب ٹرمپ نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہاں ہیں تو اسی کے ساتھ انھوں نے میکسیکو کے باشندوں پر امریکہ میں منشیات اور جرائم میں اضافے کے الزمات لگائے تھے۔

انھوں نے 16 جون کی اپنی تقریر کے دوران کہا تھا: ’وہ منشیات لا رہے ہیں، وہ جرائم لا رہے ہیں، وہ ریپ کرنے والے ہیں اور میرے خیال میں ان میں بعض اچھے ہیں لیکن ہم سرحد کے محافظوں سے پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ ہمیں کیا مل رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 22 سالہ پالینا نے 2014 میں حسینۂ کائنات کا مقابلہ جیتا تھا

انھوں نے میکسیکو سے ملحق امریکہ کی سرحد پر ’ایک عظیم دیوار‘ بنانے کا بھی عہد کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کا خرچہ میکسیکو والوں کو دینا ہو گا۔

تاہم بعد میں وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ وہ امریکی قانون سازوں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے نہ کہ میکسیکو کے باشندوں کو۔

ڈولڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکہ میں کئی ٹی وی نیٹ ورکس نے ان سے کاروباری روابط منقطع کر لیے ہیں جبکہ میکسیکو نے کہا ہے کہ وہ حسینۂ عالم اور حسینۂ کائنات کے اگلے مقابلے میں اپنی نمائندگان نہیں بھیجے گا۔

اسی بارے میں