’میری ایک غلطی شہرت کا ذریعہ بن گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فلم بجرنگی بھائی میں صحافی چاند نواب کا کردار نواز الدین صدیقی نے ادا کیا ہے

کبھی کبھی معمولی غلطی بہت بڑے خمیازے کا سبب بنتی ہے مگر کراچی کے صحافی چاند نواب کی ایک غلطی نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔

بالی وڈ کے اداکار سلمان خان کی عید پر ریلیز ہونے والی فلم بجرنگی بھائی جان نے باکس آفس پر تو دھوم مچائی ہی ہے مگر فلم میں صحافی چاند نواب کے کردار سے اصل چاند نواب کو نئی زندگی مل گئی ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی سی میں اکثر رپورٹر غلطیاں کرتے رہتے ہیں مگر میری غلطی کو بہت بڑی غلطی کے طور پر دیکھا گیا لیکن اللہ نے میری اسی غلطی کو میری شہرت اور عزت کا ذریعہ بنادیا۔‘

چھ سال پہلے عید کا موقع تھا جب چاند نواب کی ایک ویڈیو یو ٹیوب پر نشر ہوئی جس میں وہ کراچی کے کینٹ ریلوے سٹیشن پر پیس ٹو کیمرہ کے لیے کئی بار ری ٹیک کرتے ہیں مگر ہر بار یا تو ان کی زبان لڑکھڑاجاتی ہے یا پھر کوئی ان کے اور کیمرے کے بیچ سے گزرجاتا ہے جس پر وہ آنے جانے والوں کو کوستے بھی نظر آتے ہیں۔

ان کے دلچسپ اور بے دھڑک انداز کی وجہ سے یہ ویڈیو چند ہی دنوں میں پاکستان کے اندر اور باہر سپر ہٹ ہوگئی اور کچھ ماہ کے اندر اس کے دیکھنے والوں کی تعداد ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ گئی۔

چاند نواب کو آج بھی وہ دن یاد ہے جب انھیں اپنی اس ویڈیو کی بنا پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ chand nawaz
Image caption فلم میں صحافی چاند نواب کے کردار سے اصل چاند نواب کو نئی زندگی مل گئی ہے

وہ کہتے ہیں ’میں عید کا ایک پیکیج بنارہا تھا کینٹ سٹیشن پر اور مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ آخری ٹرین تھی تو ٹرین جارہی ہے اور میں کہہ رہا تھا کہ کراچی سے لوگ اپنوں میں عید منانے جارہے ہیں۔ ایسے میں لوگ آ جارہے تھے تنگ کررہے تھے اور مجھے دفتر پہنچ کر رپورٹ بھی بنانی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ بہتر سے بہتر رپورٹ بنے لیکن میرا یہ کلپ انٹرنیٹ پر چلا گیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ ایک دوسرے نجی ٹی وی کے کیمرہ مین کی شرارت تھی جو اپنی رپورٹ کے لیے ریلوے سٹیشن کی فوٹیج لینے ان کے دفتر آیا تھا اور غلطی سے ان کی ریکارڈنگ بھی اس کے پاس چلی گئی اور اس نے انٹرنیٹ پر نشر کردی۔‘

’میں اتنا پریشان تھا کہ ایک ہفتے تک شرمندگی کی وجہ سے گھر سے نہیں نکل رہا تھا۔ سوچتا تھا یا اللہ میرا کیریئر ہی تباہ ہوگیا۔ اب میں کیا کروں گا کیسے کروں گا لیکن میرے دوستوں نے مجھے بڑا حوصلہ دیا اور ہمت دی۔‘

چاند نواب نے بتایا کہ اس ویڈیو کی وجہ سے ان کی نوکری بھی مشکل میں آگئی تھی۔

’اس ویڈیو پر طرح طرح کے تبصرے ہوتے تھے۔ کوئی مجھے اچھا کہتا تھا اور کوئی برا کہتا تھا لیکن اب جب یہ فلم آئی ہے تو مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔‘

بجرنگی بھائی جان فلم میں نہ صرف چاند نواب کے ہی نام سے صحافی کا کردار شامل ہے بلکہ ان کی شہرہ آفاق ویڈیو کو فلم کے سین کے طور پر بھی شامل کیا گیا ہے۔ اگرچہ بہت سے مبصرین کے بقول فلمی سین میں وہ بات کہاں جو چاند نواب کی اپنی ویڈیو میں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption چاند نواب بجرنگی بھائی جان فلم کے پروڈیوسر کبیر خان، سلمان خان اور نواز الدین مشکور ہیں

چاند نواب نے کہا کہ ’میں بجرنگی بھائی جان فلم کے پروڈیوسر کبیر خان، سلمان خان اور نواز الدین صدیقی جنھوں نے میرا کردار ادا کیا ہے، میں ان کا بھی شکریہ ادا کروں گا اور پاکستانی عوام اور ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کروں گا جو اس فلم کو دیکھ کر مجھے مبارکباد دے رہے ہیں اور مجھ سے انٹرویوز کررہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ کبیر خان کے خاص طور پر مشکور ہیں جنھوں نے میری شخصیت کے بارے میں منفی تاثر کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا فلم بجرنگی بھائی جان میں ان کے کردار کو جس طرح سے پیش کیا گیا ہے وہ اس سے مطمئن ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں جس سے یہ ہوتا ہے اگر وہی کرے تو بہت اچھا ہے لیکن میں تنقید نہیں کروں گا۔ نواز الدین صدیقی کا میرے سے چہرہ بھی ملتا ہے اور آواز بھی ملتی ہے اور اُس نے بہت اچھے طریقے سے اس کردار کو نبھانے کی کوشش کی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ unknown
Image caption فلم میں ان کی مشہور ویڈیو کو فلم کے سین کے طور پر بھی شامل کیا گیا ہے

چاند نواب نے بتایا کہ بجرنگی بھائی جان ریلیز ہونے کے بعد انھیں نہ صرف بھارتی اور پاکستانی ٹی وی چینلوں سے انٹرویوز کے لیے مسلسل فون کالز آ رہی ہیں بلکہ انھیں فلموں اور ٹی وی اشتہارات میں کام کرنے کی بھی پیشکشں ہوئی ہیں۔‘

’پہلے میں پریس کلب میں فارغ بیٹھا ہوتا تھا آج مجھ سے ٹی وی چینل مجھ سے ٹائم مانگ رہے ہیں۔ فلموں میں بھی آفر ہورہی ہے، ڈراموں میں بھی ہو رہی ہے اور اب دوسرے ٹی وی چینل بھی کہہ رہے ہیں کہ رپورٹنگ کے لیے ہمارے پاس آجاؤ۔‘

انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا کہ ’صحافی ایکٹر ہی تو ہوتا ہے، قلم سے بھی ایکٹنگ کرتا ہے ویسے بھی کرلے گا۔‘

اسی بارے میں