’اداکاری میرے ڈی این اے میں ہے‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے نوجوان فلم سٹار اور ملکہ ترنم نور جہاں کے پوتے سکندر رضوی کی پہلی فلم ’دیکھ مگر پیار سے‘، 14 اگست کو ریلیز ہورہی ہے۔

سکندر رضوی کے دادا شوکت حسین رضوی کا شمار پاکستانی فلم انڈسٹری کے معماروں میں ہوتا ہے جبکہ ان کی بہن سونیا جہاں بھی، بالی وڈ اور ہالی وڈ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھاچکی ہیں۔

اگرچہ وہ خود کراچی میں دو ریستوران چلاتے ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ اداکاری شاید ان کے ڈی این اے میں ہے۔

’ڈی این اے میں تو ہے کیونکہ میری دادی میڈم نورجہاں، دادا شوکت حسین رضوی سے لے کر پورے خاندان میں میرے خیال میں فنکارانہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ میرے کزن احمد علی بٹ کی بھی فلم آرہی ہے۔ سونیا جہاں میری بہن ہیں انھوں نے بھی انڈیا میں تین فلمیں کی ہیں تو لوگ کہتے ہیں کہ میرے ڈی این اے میں تو ہے۔‘

مگر سکندر کے بقول ان کا فلمی دنیا میں قدم رکھنا محض اتفاق ہے۔

’میں ریستوران چلارہا تھا اور مجھے ایک کمرشل کے لیے بلوایا گیا۔ کمرشل کی شوٹنگ کے بعد انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ ایک فلم بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ میں وہ فلم کروں تو بس یہ اچانک سے ہوگیا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ ایک آرٹسٹ خاندان سے تعلق رکھنے کو خوش نصیبی سمجھتے ہیں لیکن اس کی وجہ سے کسی دباؤ کا شکار نہیں۔

’میں نہیں سمجھتا کہ مجھ پر میرے خاندان کی وجہ سے کوئی دباؤ ہے کیونکہ دباؤ اس وقت ہوتا ہے جب لوگ آپ کا موازنہ کرتے ہیں۔ میڈم نورجہاں کے ساتھ آپ موازنہ نہیں کرسکتے۔ وہ تو ایک لیجنڈ ہیں۔‘

فلم کی کہانی کے بارے میں انھوں نے محض اتنا بتایا کہ وہ ایک رومانوی کامیڈی ہے اور انھوں نے اس میں ایک ایسے شخص کا کردار ادا کیا ہے جو خواب دیکھنے والا رومانوی شخص ہے۔

’فلم میں آپ دیکھیں گے کہ میں بار بار خوابوں میں جاتا ہوں اور پھر اچانک سے نکل آتا ہوں کیونکہ میں حمائمہ جو ہیروئن ہیں، ان کی محبت میں گرفتار ہوں۔ تو یہ ایک ہلکی پھلکی فلم ہے جو آپ اپنے بچوں سے لے کر دادا دادی تک کے ساتھ بیٹھ کے دیکھ سکتے ہیں۔‘

سکندر رضوی نے بتایا کہ انھوں نے فلم میں ڈانس بھی کیا ہے اور وہ عام زندگی میں بھی ڈانس کرتے رہتے ہیں۔ ’اگر آپ پاکستان میں رہتے ہیں تو شادی بیاہ میں تو آپ کو ناچنا ہی پڑتا ہے تو اس فلم میں بھی کچھ ڈانس نمبرز ہیں۔‘

آج کل پاکستانی اداکار بھارت میں بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ فلم میں ان کی ساتھی اداکارہ حمیمہ ملک خود بالی وڈ میں کام کرچکی ہیں۔ سکندر بھی کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں انھیں پیشکش ہوئی تو وہ بالی وڈ میں ضرور کام کریں گے۔

Image caption سکندر رضوی نے بتایا کہ انھیں ہالی ووڈ سٹارز میں ایڈورڈ نارٹن اور بالی ووڈ میں نانا پاٹیکر بہت پسند ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی پسند فیصل قریشی ہیں

’اگر آپ یہ سوال چھ مہینے پہلے پوچھتے تو میں کہتا کہ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ میں ایکٹنگ کروں۔ اب تو میری فلم ایک ماہ میں آرہی ہے تو میں یہ کہوں گا کہ اگر کوئی پیشکش کرے گا تو میں اس کے لیے تیار ہوں۔‘

پاکستان میں پچھلے چند برسوں میں نئی فلموں کی وجہ سے سنیما بحال ہوا ہے مگر جو فلمیں بن رہی ہیں، اُن پر یہ اعتراض بھی سامنے آرہا ہے کہ وہ اصل میں ٹی وی ڈرامے ہیں جو بڑی سکرین پر پیش کیے جارہے ہیں۔

مگر سکندر رضوی کا کہنا ہے کہ ان کی فلم ٹی وی ڈرامہ نہیں۔ ’ہماری پوری ٹیم بہت پروفیشنل ہے اور ہر شوٹ کے بعد ہم دیکھتے تھے کہ سین کیسا لگ رہا ہے اور میں نے ایسی کوئی شے نہیں دیکھی، تو میرے خیال میں ’دیکھ مگر پیار سے‘ ٹی وی ڈرامہ بالکل نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ان کی بہن سونیا جہاں نے انھیں اداکاری کی ٹپس دی ہیں۔ ’میں نے انھیں ایک دو بار فون کرکے پوچھا کہ آپ یہ کیسے کرتی ہیں کیونکہ ان کے پاس اداکاری کا تجربہ ہے۔‘

سکندر رضوی نے بتایا کہ انھیں ہالی ووڈ سٹارز میں ایڈورڈ نارٹن اور بالی ووڈ میں نانا پاٹیکر بہت پسند ہیں جبکہ پاکستان میں ان کی پسند فیصل قریشی ہیں۔

اسی بارے میں