’ہماری فلم گيتا کی کہانی سے مختلف ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کبیر اور سلمان خان دونوں اس بات سے خوش ہیں کہ اس فلم سےلوگوں کی توجہ گیتا کے معاملے کی طرف مرکوز ہوئی ہے

پاکستان میں موجود ایک بھارتی لڑکی ’گیتا‘ کی کہانی کو فلم ’بجرنگي بھائي جان‘ سے جوڑ کر دیکھے جانے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ کہا جانے لگا ہے کہ شاید فلم کے ہدایت کار کبیر خان نے گيتا ہی کی کہانی کو اپنی فلم کے لیے چرا لیا ہے۔

لیکن اس طرح کی خبریں آنے کے بعد ڈائریکٹر کبیر خان نے اس معاملے پر اپنی وضاحت پیش کی ہے۔

انھوں نے نہ صرف اپنی فلم کی کہانی کا دفاع کیا بلکہ گيتا کے معاملے میں اپنا اور سلمان خان کا موقف بھی پیش کیا۔

اپنی فلم ’بجرنگی بھائي جان‘ اور گیتا کی کہانی کی مماثلت کو کبیر خان محض ایک اتفاق مانتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’ہمیں فلم کی ریسرچ کے دوران غلطی سے بارڈر پار کرنے والوں کی کئی کہانیاں ملیں لیکن گیتا کا کیس ہمیں دو روز پہلے ہی پتہ چلا ہے اور ہماری کہانی کی بنیاد اس پر بالکل نہیں ہے۔ ہم حیران ہیں لیکن ہماری فلم اور اس قصے میں بہت فرق ہے۔‘

کبیر نے مزید کہا: ’ہماری فلم سے لوگوں کو گیتا کے بارے میں پتہ چلا ہے اور ان کی کہانی سامنے آ سکی۔ اس کے لیے میں بہت خوش ہوں اور مجھے اور زیادہ خوشی ہوگی اگر اس لڑکی کواس کا خاندان مل جاتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption اپنی فلم ’بجرنگی بھائي جان‘ اور گیتا کی کہانی کی مماثلت کو کبیر خان محض ایک اتفاق سمجھتے ہیں

اس سے قبل ایک پاکستانی ٹی وی چینل نے کہا تھا کہ کبیر خان اور سلمان خان نے اس معاملے میں بھارت میں عوام اور حکومت سےاپیل کرنے کے لیے ہامی بھر لی ہے۔

کبیر نے اسے پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا: ’میں نے اس سے متعلق سلمان خان سے بات کی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ ہمیں ضرور مدد کرنی چاہیے چاہے نیوز کی طرف سے یا ٹویٹ کی طرف سے، جیسے بھی ہو سکے۔‘

کبیر اور سلمان دونوں ہی اس بات سے خوش ہیں کہ اس فلم سےلوگوں کی توجہ گیتا کے معاملے کی طرف مرکوز ہوئی ہے اور اب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی اس معاملے میں مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

منگل کو بھارتی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان میں برسوں سے مقیم بھارتی شہری گيتا کو بھارت واپس لایا جائے گا اور اس سلسلے میں ان کی ہدایت پر اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمشنر نےگيتا سے ملاقات کی ہے۔

اسی بارے میں