’صرف ہیروئن کے بوسے پر اعتراض کیوں؟‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستانی اداکارہ حمائمہ ملک نے کہا ہے کہ ’منی کی بدنامی‘ اور ’شیلا کی جوانی‘ پر ناچنے والے لوگ جب بالی وُڈ میں پاکستانی اداکاراؤں کے بے باک مناظر پر تنقید کرتے ہیں تو انھیں دکھ ہوتا ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں انھوں نے کہا کہ لوگوں کو دہرا معیار نہیں رکھنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب پاکستانی اداکار بھارتی فلموں میں بوس و کنار کریں یا بے باک اداکاری کرتے ہیں تو ان کے لیے وہ شرم کا مقام نہیں ہوتا لیکن میں چونکہ پاکستان کی لڑکی ہوں اور میں نے جا کے بے باک سین کیا تو وہ ان کے لیے شرم کا مقام ہو جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی اداکاروں اور اداکاراؤں کے درمیان یہ فرق روا نہیں رکھنا چاہیے۔

’جس طرح سے آپ باقی ہالی وڈ اور بالی وڈ کی اداکاراؤں کو واؤ واؤ کر کے سیکسی سیکسی کہتے ہیں تو ہمارے لیے بھی اور ہمارے آرٹسٹ کے لیے بھی آپ کے ذہن کے، دل کے اور شعور کے دروازے کھلے ہونے چاہییں۔‘

حمائمہ ملک نے پاکستانی فلم ’نامعلوم افراد‘ کے آئٹم نمبر کا اشارتاً ذکر کیے بغیر کہا کہ ’جب یہاں پہ بلیاں میاؤں میاؤں کر رہی ہیں تو اس میں کون سی بُری بات ہے کہ ہم کام نہ کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایکٹر کو جج مت کریں، وہ کردار ادا کرتا ہے۔ حمائمہ ملک کیا ہے، وہ ایک الگ انسان ہے۔ وہ نہ ضیا ہے، نہ زینب ہے، نہ عینی ہے۔‘

حمائمہ نے پاکستانی فلم ’بول‘ میں زینب، بھارتی فلم ’راجہ نٹور لال‘ میں ضیا کا کردار ادا کیا تھا اور اب وہ اب اپنی آنے والی فلم ’دیکھ مگر پیار سے‘ میں عینی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

’دیکھ مگر پیار سے‘ سے پاکستان کے یومِ آزادی پر نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

حمائمہ نے فلم میں اپنے کردار کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ’عینی ایک لڑکی ہے جو کہ بہت ہی مست ہے۔ بہت ہی اچھا جیتی ہے اور زندگی کھُل کے جیتی ہے۔ پراسرار، بے دھڑک لڑکی ہے۔ اس کی شخصیت میں بہت سارے سرپرائز ہیں اور بہت پٹاخہ قسم کی لڑکی ہے۔‘

حمائمہ نے فلم میں اپنے مشہور مکالمے کے بارے میں بتایا کہ ’میں فلم میں ایک بہت ہی مزیدار سی چیز کرتی ہوں اور کہتی ہوں کہ میں تم سے کچھ بھی کروا سکتی ہوں۔‘

انھوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ یہ فلم ان کے اور فواد خان کے لیے لکھی گئی تھی مگر فواد خان کی مصروفیات کی وجہ سے سکندر رضوی کو ان کا کردار دیا گیا اور انہوں نے بہت اچھی طریقے سے ہیرو کا کردار نبھایا۔

بھارتی فلم انڈسٹری میں اپنی اداکاری کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک نیا تجربہ تھا۔ مجھے لگتا ہے کہ ٹیلنٹ اور ایکٹر کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ انھیں آپ ملکوں کی سرحدوں تک محدود نہیں کرسکتے۔‘

Image caption ’دیکھ مگر پیار سے‘ سے پاکستان کے یومِ آزادی پر نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان دونوں جگہوں پر کام کر کے انھیں بہت عزت ملی، بہت پیار ملا اور بہت کچھ سیکھنے کو بھی ملا۔‘

حمائمہ نے بالی وڈ کی فلم راجہ نٹور لال میں عمران ہاشمی کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا تھا مگر بالی وڈ کی ہی ایک اور فلم ’شیر‘ میں بھی انھوں نے ہیروئن کا کردار ادا کیا جو ریلیز نہیں ہو سکی۔

انھوں نے کہا کہ ’شیر‘ اصل میں انڈیا کی مشہور فلم ’مدر انڈیا‘ کا ری میک ہے جس میں پریش راول، ونود کھنہ، سنجے دت، سیما بسواس اور وہ خود اس کی کاسٹ میں شامل ہیں۔

حمائمہ نے بتایا کہ سنجے دت کے جیل چلے جانے کی وجہ سے فلم رک گئی تھی۔ ’اب انشاء اللہ جب وقت آئے گا تو وہ فلم ریلیز ہوگی لیکن مزید کام آگے بڑھ رہا ہے اور میں بالی وڈ کی دو اور فلموں میں کام کر رہی ہوں۔ ‘

ایک سوال کے جواب میں حمائمہ نے کہا کہ ’تنقید کس چیز پہ نہیں ہوتی؟ ہم تو اُس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں عورت کی ہر چیز پر تنقید کی جاتی ہے کیونکہ ہمارے یہاں عورت کو کمزور سمجھا جاتا ہے جبکہ دیکھا جائے تو عورت ہمارے معاشرے کا سب سے زیادہ ضروری اور مضبوط حصہ ہے۔‘

اسی بارے میں