’ففٹی شیڈز کی ناشر ایک کروڑ ڈالر ہرجانہ دیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ای ایل جیمز کی لکھی ہوئی دی ففٹی شیڈز کتابی سیریز کی دس کروڑ کاپیاں دنیا بھر میں فروخت ہو چکی ہیں

ففٹی شیڈز نامی کتابی سیریز کو شائع کرنے میں مدد دینے والی خاتون جنھیں اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے دھوکے سے محروم کر دیا گیا تھا، اب انھیں ہرجانے کے طور پر ایک کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔

ایک امریکی جج نے آسٹریلوی ناشر امینڈا ہیورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کتابی سیریز سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے امریکی ریاست ٹیکسس کی رہائشی جینیفر پیڈروزا کو ایک کروڑ سات لاکھ ڈالر بطور ان کا حصہ دیں۔

یہ دونوں خواتین ایک چھوٹی سی آن لائن پبلشنگ فرم ’دا رائٹرز کافی ہاؤس‘ میں شراکت کار تھیں جس نے یہ تین رومانوی کتابوں کی سیریز شائع کی تھی۔

ججوں نے فروری میں یہ فیصلہ دیا تھا کہ پیڈروزا کو اس وقت دھوکہ دیا گیا تھا جب اس کتاب کے حقوق ایک اور ناشر رینڈم ہاؤس کو فروخت کر دیے گئے۔

اس فیصلے سے معلوم ہوا ہے کہ مس ہیورڈ نے اپنی فرم ’دی رائٹرز کافی شاپ‘ کی جانب سے ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے اور انھوں نے پیڈروزا کو دھوکہ دے کر ان سے ایسے معاہدے پر دستخط کروائے جس میں لکھا تھا کہ انھیں آمدنی میں سے حصہ لینے کا حق حاصل نہیں ہے۔

جج کا کہنا ہے کہ اس تصفیے کی صحیح رقم ان دونوں خواتین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد ہی بتائی جا سکے گی۔

ای ایل جیمز کی لکھی ہوئی دی ففٹی شیڈز کی کتابی سیریز کی دنیا بھر میں دس کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں اور اس کتابی سیریز سے متاثر ہو کر بنائی جانے والی فلم ’دی ففٹی شیڈز آف گرے‘ نے دنیا بھر کے باکس آفس پر 57 کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

اسی بارے میں