میل گبسن پر فوٹوگرافر پر ’حملے‘ کا مقدمہ نہیں چلے گا

میل گبسن تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption میل گبسن اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں

اداکار میل گبسن پر سڈنی میں ایک خاتون فوٹوگرافر کو دھکا دینے اور برا بھلا کہنے کے الزامات کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت تک ملنے والی شہادتوں کے بعد کوئی باقاعدہ کارروائی نہیں کی جائے گی۔

فوٹوگرافر کرسٹی ملر نے پولیس کو 23 اگست کو ایک سینیما کے سامنے ہونے والے واقعے کے متعلق شکایت کی تھی کہ ان کو لگا تھا کہ میل گبسن انھیں مکہ مارنے والے ہیں۔

میل گبسن کی اشتہاری کمپنی نے کہا کہ وہ پولیس کے فیصلے سے مطمئن ہیں۔

سڈنی میں میل گبسن کے وکیل کرسٹوفر مرفی کو بھی پولیس کے فیصلے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

ان کے تشہیری ادارے راجر اینڈ کوون نے ایک بیان میں کہا کہ ’میل گبسن ان شرمناک الزامات کی شروع ہی سے تردید کرتے آئے ہیں۔ ’اب وہ مطمئن ہیں کہ پولیس کو گواہوں کے بیانات اور سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اس دعوے میں کوئی جان نہیں ہے۔‘

روزنامہ دی ڈیلی ٹیلیگراف کی 39 سالہ فوٹوگرافر کرسٹی ملر نے دعویٰ کیا تھا کہ جب انھوں نے 23 اگست کو میل گبسن اور ان کی 24 سالہ دوست روزالنڈ راس کی سڈنی کے نواح میں واقع پیلیس ویرونا سینیما سے باہر آتے ہوئے تصاویر اتاریں تو گبسن نے انھیں برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔

’میڈ میکس‘ اور ’لیتھل ویپن‘ جیسی فلموں کی وجہ سے عالمگیر شہرت کے حامل اداکار میل گبسن ہالی وڈ میں بھی عوامی مقامات پر اپنے غصے پر قابو نہ رکھنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔

وہ آج کل آسٹریلیا میں جنگِ عظیم دوم پر مبنی ایک فلم ’ہیک سا رِج‘ بنا رہے ہیں۔

اسی بارے میں