ناول نویس جیکی کولنز انتقال کر گئیں

Image caption برطانیہ میں پیدا ہونے والی جیکی کولنز نے اپنی زندگی لاس اینجلس میں گزاری

مشہور ناول نویس جیکی کولنز 77 سال کی عمر میں چھاتی کے سرطان کی وجہ سے انتقال کر گئیں ہیں۔

جیکی کولنز کے خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمیں بہت ہی افسوس کے ساتھ ہماری خوبصورت، متحرک اور بے مثال ماں کے انتقال کا اعلان کرنا پڑ رہا ہے۔‘

جیکی کولنز کی ترجمان کا کہنا تھا کہ برطانوی نژاد مصنفہ اور اداکارہ جوان کولنز کی بہن کا انتقال امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں ہوا ہے۔

کولنز کا کرئیر چار دہائیوں پر میحط ہے اور اس دوران انھوں نے 40 ممالک میں 50 کروڑ کتابیں فروخت کر چکی ہیں۔

ان کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے ’نہایت خوبی سے سے مکمل زندگی گزاری ہے۔‘ انھیں ان کے خاندان والے، دوست اور پڑھنے والے بہت چاہتے تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اداکارہ جوان کولنز کہتی ہیں کہ ان کی بہن بہت زبردست، بہادر اور خوبصورت خاتون تھیں

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’انھوں نے ادب اور تخلیقی دنیا میں بہت سی خواتین کو متاثر کیا ہے۔وہ ہمیشہ اپنی کرداروں کے ذریعے زندہ رہیں گیں، لیکن ہم انھیں یاد کر رہے ہیں جو کہ ہم بیان نہیں کر سکتے۔‘

امریکی مشہور شخصیات کے جریدے پیپلز کے مطابق کولنز کو ڈیڑھ سال قبل چھاتی کے سرطان کے چوتھے درجے کی تشخیص ہوئی تھی۔

ان کی 82 سالہ بہن اداکارہ جوان کولنز نے پیپلز جریدے کو بتایا کہ وہ یہ خبر سن کر انتہائی صدمہ پہنچا ہے۔

’وہ میری سب سے اچھی دوست تھیں۔ جس طرح انھوں نے یہ سب برداشت کیا میں اس کی قدر کرتی ہوں۔ وہ زبردست، بہادر اور خوبصورت خاتون تھیں اور مجھے ان سے محبت ہے۔‘

جیکی کولنز کی ویب سائٹ کے مطابق وہ لندن میں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے چھوٹی عمر سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ وہ اپنے سکول کے دوستوں کے لیے جوشیلی کہانیاں لکھتی تھیں۔

ان کا پہلا ناول ’دی ورلڈ از فل آف میریڈ مین‘ سنہ 1968 میں شائع ہوتے ہی سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول بن گیا تھا۔ اس ناول پر آسٹریلیا میں پابندی لگا دی گئی تھی اور رومانس ناول لکھنے والی مسنفہ باربرا کارٹلینڈ نے اسے ’بیہودہ‘ کہا تھا۔

سنہ 1985 میں ان کے ایک ناول ’ہال وڈ وائیوز‘ پر اے بی سی چینل نے ایک چھوٹی سیریز بنائی تھی جس میں اینتھونی ہاپکنز اور کینڈیس برجن نے کردار ادا کیے تھے۔

کولنز کہتی ہیں کہ انھیں سیکس پر لکھتے ہوئے کبھی شرم محسوس نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ میں نے لوگوں کی جنسی زندگیوں میں ان کی مدد کی ہے۔‘

اسی بارے میں