شیوسینا کی مخالفت کے بعد غلام علی کا پروگرام منسوخ

Image caption مہاراشٹر کے وزیر اعلی نے غلام علی کو مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی

سخت گیر ہندو نظریاتی جماعت شیوسینا کی مخالفت کے بعد ممبئی میں مشہور غزل گائیک جگجیت سنگھ کی یاد میں ہونے والا پروگرام منسوخ کر دیا گیا ہے۔

نو اکتوبر کو ہونے والے اس پروگرام میں پاکستانی گلوکار غلام علی نے بھی شامل ہونا تھا جس پر شیوسینا نے سخت اعتراض کیا تھا۔

’پاکستانی گلوکاروں کو فن کا مظاہرہ نہیں کرنے دیں گے‘

شیوسینا کے ایک عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ تنظیم کی جانب سے پروگرام کی مخالفت کے بعد منتظمین نے بدھ کی شام شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی۔

ان کے مطابق تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد منتظمین نے پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔

اس سے پہلے مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فرنويس نے غلام علی کو مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ایک مراٹھی چینل سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا تھا کہ سکیورٹی دینا ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے اور غلام علی کو مکمل تحفظ دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ہندوستان کے فنکار بھی پاکستان جا کر پروگرام کرتے ہیں اور فن اور سیاست کو نہیں ملانا چاہیے۔

تاہم ان کی یقین دہانی کے باوجود منتظمین نے پروگرام منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

شیوسینا کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا، ’پاکستان ہمیشہ سے ہندوستان کے خلاف کارروائیاں کرتا رہتا ہے اور ہندوستان وہاں کے فنکاروں کو سر آنکھوں پر بٹھاتا ہے۔ یہ اب نہیں چلے گا. ہم ممبئی میں کسی بھی پاکستانی آرٹسٹ کا کوئی پروگرام نہیں ہونے دیں گے۔‘

خیال رہے کہ ماضی میں بھی شیوسینا پاکستانی فنکاروں کے خلاف مظاہرے کرتی رہی ہے اور اس احتجاج کی وجہ سے متعدد پاکستانی فنکاروں کو اپنا کام ادھورا چھوڑ کر بھارت سے جانے پر مجبور بھی ہو چکے ہیں۔

گذشتہ برس ممبئی میں ہی شیو سینا کے کارکنوں نے ممبئی پریس کلب میں پاکستان کے میکال حسن بینڈ کے ارکان کی نیوز کانفرنس کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی تھی۔

اسی بارے میں