ادب کا نوبیل انعام بیلاروس کی ادیبہ کو مل گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سویتلانا الیکسیاوچ کے والدہ بیلاروسی اور والدہ یوکرینی ہیں

اس برس کا ادب کا نوبیل انعام بیلاروس کی ادیبہ سویتلانا الیکسیاوچ کو ملا ہے۔

سویتلانا الیکسیاوچ 1948 میں یوکرین میں پیدا ہوئی تھیں، تاہم ان کے والد کا تعلق بیلاروس سے تھا۔

نوبیل کمیٹی نے کہا کہ الیکسیاوچ کو یہ انعام ان کی کثیر آوازوں والی تحریروں پر دیا گیا ہے جن میں عصرِ حاضر کا کرب اور جرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔

ان کا پہلا ناول ’جنگ کا غیر نسوانی چہرہ‘ 1985 میں شائع ہوا، جس میں دوسری جنگِ عظیم کے خواتین پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ پیش کیا گیا تھا۔

ایک اور کتاب میں انھوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بچوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سویڈن کے نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے الیکسیاوچ نے کہا کہ نوبیل انعام جیتنے کے بعد ان کے جذبات ’پیچیدہ‘ سے ہیں۔

’مجھے بہت خوشی ہے، تاہم یہ دوسری طرف ایک لحاظ سے پریشان کن بھی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جب انھیں نوبیل انعام جیتنے کی خبر دی گئی تو وہ گھر پر کپڑے استری کر رہی تھیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ جیتی جانی والی نو لاکھ 60 ہزار ڈالر رقم کا کیا کریں گی تو انھوں نے کہا: ’میں صرف ایک کام کروں گی، اور وہ یہ کہ اپنے لیے آزادی خریدوں گی۔ مجھے کتابیں لکھتے ہوئے بہت وقت لگتا ہے، پانچ سے لے کر دس سال۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے پاس نئی کتابوں کے دو نئے آئیڈیا ہیں اور اب مجھے ان پر کام کرنے کی آزادی مل جائے گی۔‘

الیکسیاوچ نے اپنے کریئر کا آغاز بطور صحافی کیا اور اس سلسلے میں کئی اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہیں۔ ان کی مشہور کتابوں میں ’زنکی بوائز‘ شامل ہے جس میں افغانستان میں روسی فوجیوں کی زندگیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے چرنوبل کے ایٹمی حادثے کے بارے میں بھی ایک کتاب لکھی ہے۔

الیکسیاوچ ادب کا نوبیل انعام جیتنے والی 14 ویں خاتون ہیں۔ ان سے قبل 2013 میں امریکہ افسانہ نگار ایلس منرو نے یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

اسی بارے میں