جمیکن مصنف نے مین بُکر پرائز جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز‘ جیمز مارلن کا تیسرا ناول ہے

جمیکا سے تعلق رکھنے والے مصنف مارلن جیمز نے لندن میں منعقد ہونے والا اس سال کا ’مین بُکر پرائز‘ کا مقابلہ جیت لیا ہے۔

انھیں یہ ایوارڈ ان کے ناول ’اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز‘ پر دیا گیا۔

’اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز‘ سنہ 1970 کی دہائی میں باب مارلے پر ہونے والے قاتلانہ حملے سے متاثر ہے۔

اس مقابلے کے ججوں کے سربراہ مائیکل وڈ نے ’اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز‘ کو شارٹ لسٹ کی جانے والی کتابوں میں ’سب سے زیادہ دلچسپ‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 680 صفحات پر مشتمل یہ ناول ’حیرت سے بھرپور‘ ہونے کے ساتھ ساتھ ’بہت متشدد‘ ہے۔

لندن کے گلڈ ہال میں منگل کی رات کو 50,000 پاؤنڈ کے فاتح مارلن جیمز کے نام کا اعلان کیا گیا۔

جمیکا سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ مصنف مارلن جیمز کو ڈچس آف کورنول نے انعام دیا۔

خیال رہے کہ وہ پہلے جمیکن مصنف ہیں جنھوں نے ’مین بُکر پرائز‘ جیتا ہے۔

مارلن جیمز نے اس ایوارڈ کو اپنے مرحوم والد کے نام منسوب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے ان کی ’ادبی حساسیت‘ کو اجاگر کیا

اس مقابلے کے ججوں کے سربراہ مائیکل وڈ کا کہنا تھا کہ ان کے باقی ساتھیوں نے متفقہ طور پر اس انعام کے حقدار کا فیصلہ دو گھنٹوں سے کم وقت میں کیا۔

مائیکل وڈ نے ’اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز‘ میں ’متعدد آوازوں‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس ناول میں 75 سے کرداروں کو پیش کیا گیا‘

ان کا مزید کہنا تھا: اس ناول کو پڑھنے کا سب سے زیادہ مزہ یہ ہے کہ جب آپ اس کا صفحہ پلٹتے ہیں تو آپ کو یہ قطعاً معلوم نہیں ہ ہوتا کہ اگلا نریٹر کون ہو گا؟‘

خیال رہے کہ یہ دوسرا سال تھا کہ مین بُکر پرائز مقابلے کو انگریزی میں لکھنے والے تمام مصنفین کے لیے ان کی قومیت کے قطع نظر کھولا گیا تھا۔

جیمز مارلن وہ پہلے جمیکن نژاد مصنف ہیں جنھیں مین بُکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔

’اے بریف ہسٹری آف سیون کلنگز‘ جیمز مارلن کا تیسرا ناول ہے۔

اسی بارے میں