ڈرتا ہوں کہ ڈھونگی نہ بن جاؤں: امتیاز علی

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption امتیاز علی اگرچہ فلم جگت میں خیالی یا تصوراتی موضوع پر مبنی فلمیں بنانے کا کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ وہ منافقانہ زندگي نا گزاریں یا ڈھونگی نہ بن جائیں

‎’ہائی وے‘ اور ‎’راک سٹار‘ جیسی حساس اور سپر ہٹ فلمیں بنانے والے فلم ہدایت کار امتیاز علی کا کہنا ہے کہ فلمی دنیا کے لوگ سیاسی بیانات کے لیے فٹ نہیں ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’بطور ڈائریکٹر اور فلم ساز میں مانتا ہوں کہ ملک یا بیرون ملک میں ہونے والے واقعات سے ہم متاثر ضرور ہوتے ہیں، ہم انہیں سمجھ سکتے ہیں، دکھا بھی سکتے ہیں لیکن مکمل معلومات کے بغیر اس پر کوئی رائے نہیں دے سکتے۔‘

ملک میں گائے کے گوشت کے حوالے سے جاری بحث پر وہ کہتے ہیں: ‎’مجھے اس معاملے میں زیادہ معلومات نہیں ہے، یہ بات تسلیم کرتا ہوں کہ بطور فلمی شخصیت کے ہم مشہور ہیں لیکن یہاں (بالی ووڈ) کام کرنے والے اتنے كوالیفائيڈ یا ذہین نہیں ہوتے کی سیاسی بیان بازی کر سکیں۔‘

شاہ رخ، سلمان اور عامر ڈھونگی نہیں

امتیاز علی گرچہ فلم جگت میں خیالی یا تصوراتی موضوعات پر مبنی فلمیں بنانے کا کام کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ وہ منافقانہ طرز زندگي نا گزاریں یا ڈھونگی نہ بن جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption ہائي وے جیسی خواتین کی مرکزیت پر مبنی فلم بنانے والے امتیاز علی مانتے ہیں کہ بالی وڈ میں مرد ہی ماسٹر ہے

وہ کہتے ہیں: ’عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہاں کے لوگ فیك ہیں، ڈھونگی ہیں۔ لیکن مجھے جھوٹ سے ڈر لگتا ہے اور میں ہر روز ڈرتا ہوں کہ کہیں میں ڈھونگي نہ بن جاؤں۔‘

وہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں: ’بہت سے لوگ فلمی دنیا کے لوگوں سے وقت نہ ملنے پر ان کے بارے میں کوئی بھی تاثر بنا لیتے ہیں، لیکن میں نے دیکھا ہے کہ جو شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے وہ ڈھونگي نہیں بلکہ اتنا ہی مصروف ہو تا ہے۔‘

تینوں خانوں کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’شاہ رخ، سلمان اور عامر اصل میں ڈھونگی نہیں بلکہ ان کے پاس وقت کی کمی ہوتی ہے اس لیے وہ ہزاروں لوگوں سے نہیں مل پاتے اور اسی وجہ سے انہیں کئی بار ملاقات ملتوی کرنی پڑتی ہے جسے لوگ بھاؤ کھانا سمجھ لیتے ہیں۔‘

’ہائي وے‘جیسی خواتین کی مرکزیت پر مبنی فلم بنانے والے امتیاز علی مانتے ہیں کہ بالی وڈ میں مرد ہی ماسٹر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption امتیاز کے مطابق اب فلمی دنیا کی تصویر بدل رہی ہے اور خواتین بھی آگے بڑھ رہی ہیں

وہ کہتے ہیں: ’انڈسٹری میں کیمرے کے پیچھے خواتین بہت کم ہیں، چونکہ فلمی صنعت بڑی غیرگلیمرس جگہ ہے جہاں جسمانی کام بہت کرنا پڑتا ہے اور کام کے اوقات بھی عجیب ہوتے ہیں۔‘

اس کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’میں ایک ڈائریکٹر ہونے کے باوجود فلموں کی شوٹنگ کے دوران سڑکوں پر راتیں کاٹ چکا ہوں اور کئی بار کچھ خواتین کے لیے اس طرح کے چیلنجز انتہائی مشکل ہو جاتے ہیں۔‘

لیکن فلمی دنیا کی تصویر بدل رہی ہے اور اس کا حوالہ دیتے ہوئے امتیاز کہتے ہیں: ’بےشک ہمارا معاشرہ ہیرو ماسٹر ہے لیکن آج حالات بہتر ہوئے ہیں اور میری بہت سی فلموں میں اداکاراؤں کو ہیرو کی طرح کا کردار اور ایک آدھ بار ہیرو سے زیادہ پیسے بھی ملے ہیں۔‘

لیکن ہیرو سے زیادہ پیسہ لینے والی وہ کون سی اداکارہ تھیں اس بات پر وہ مسکرا کر کہہ دیتے ہیں کہ اگلی بار کے لیے بھی کچھ چھوڑ دیجیے، کیا سبھی راز آج ہی کھلوا لیں گے؟

اسی بارے میں