’11 ملکوں کی پولیس ۔۔۔ چارلز شوبھراج کا ہی ڈائیلاگ ہے‘

بالی وڈ کی نئی فلم ’میں اور چارلز‘ میں مشہور زمانہ مجرم چارلز شوبھراج کا کردار اداکار رنديپ ہوڈا ادا کر رہے ہیں جن کا کہنا ہے کہ شوبھراج کے کردار کا فائدہ تو امیتابھ بچن نے بھی اٹھایا ہے۔

رنديپ ہوڈا کہتے ہیں ’ڈان‘ کے مکالمے بھی چارلز کے اصل کردار سے ہی لیے گئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رنديپ نے کہا ’امت جی کی فلم ڈان کا مشہور ڈائیلاگ ’11 ملکوں کی پولیس ۔۔۔‘ چارلز شوبھراج کی ذاتی زندگی سے ہی لیا گیا تھا۔‘

رنديپ ہوڈا کا کہنا ہے کہ جب وہ دس برس کی عمر کے تھے تبھی چارلز شوبھراج کے بارے میں سنا تھا۔ اور وہ ’ بچپن سے ہی ۔۔۔ چارلز کو بہت ہی گلیمرس انسان‘ کے طور پر جانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption رندیپ ہوڈا جب دس برس کی عمر کے تھے تبھی چارلس شوبھراج کے بارے میں سنا تھا اور وہ بچپن سے ہی چارلس کو بہت ہی گلیمرس انسان کے طور پر جانتے ہیں

ڈان کے مکالمے کے ذکر کے ساتھ ہی وہ کہتے ہیں ’آج امیتابھ بچن اتنے بڑے سپر سٹار ہیں، شاید میرے لیے بھی چارلز شوبھراج پر بنی یہ فلم خوش قسمت ثابت ہو!‘

14 برس کے اپنے فلمی کیریئر میں رنديپ نےگرچہ کئی ہٹ فلمیں دی ہیں لیکن انہیں فلموں کے انتخاب پر ملال بھی ہے۔

سنہ 2006 میں آنے والی ڈائریکٹر راکیش اوم پرکاش مہرا کہ فلم ’رنگ دے بسنتی‘ میں رنديپ کو بھگت سنگھ کے کردار کی پیش کش ہوئی تھی جسے بعد میں اداکار سدھارتھ سوريہ نارائن نے نبھایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ spice
Image caption سنہ 2006 میں آنے والی ڈائریکٹر راکیش اوم پرکاش مہرا کہ فلم ’رنگ دے بسنتی‘ میں رنديپ کو بھگت سنگھ کے کردار کی پیش کش ہوئی تھی جسے بعد میں اداکار سدھارتھ سوريہ نارائن نے نبھایا تھا

رنديپ نے کہا کہ انہیں اس بات کا بڑا افسوس ہے کہ وہ ’رنگ دے بسنتی‘ نہیں کر سکے۔ مگر انہیں یہ بات سوچ کر اور تکلیف ہوتی ہے کہ انہیں ’اس کردار کو انکار کرنے کی وجہ بھی یاد نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں اگر اس کی وجہ یاد آ جائے تو شاید افسوس بھی نہیں رہےگا۔

فلم ’میں اور چارلز‘ 30 اكتوبر کو ریلیز ہو نے والی ہے۔ رنديپ کا کہنا ہے کہ فلموں کے کردار سے نوجوان نسل پر غلط اثر نہیں ہوتا۔

’جب رامائن دیکھ کر کوئی رام نہیں بنا اور‎’منا بھائی۔۔‘ سے کوئی گاندھی نہیں بنا تو اس فلم کو دیکھ کر کوئی مجرم کس طرح بن جائے گا؟ ‘

ان کا مشورہ ہے کہ ‎چارلز کو بطور مجرم نہیں بلکہ ایک کردار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اگرچہ وہ آخر میں یہ کہنا نہیں بھولتے کہ فلم تفریح کے لیے بنائی گئی ہے نہ کہ سبق دینے کے لیے۔