’یادیں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گی‘

Image caption رِدھم ہاؤس کو گذشتہ سات دہائیوں سے ایک ہی خاندان ’ کرملیس‘ کے افراد چلا رہے ہیں

بھارت کے مغربی شہر ممبئی کے مشہور ثقافتی ضلع ’کالا گھوڑا‘ میں واقع موسیقی کی ایک مشہور دکان ’رِدھم ہاؤس‘ اگلے سال کے آغاز پر بند ہونے جا رہی ہے۔

سدھارتھ بھاٹیا نے شہر کی سب سے پرانی موسیقی کی دکان کے بند ہونے اور ثقافتی ضلع کے زوال پر اپنے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔

1970 کی دہائی کے سوشلسٹ بھارت میں مغربی، مقبول یا کلاسیکل موسیقی کو سننا آسان نہیں تھا۔

درآمدات پر سخت پابندیوں کے باعث کچھ ہی غیر ملکی چیزیں ملتی تھیں، جس میں ونائل ریکارڈ بھی شامل ہیں جس کو بھارت کے لیے تیار کیا جاتا تھا۔

حکومت کی جانب سے ریڈیو پر پر بھی کڑی نظر رکھی جاتی تھی اور شاید ہفتے میں صرف ایک بار پاپ موسقی چلائی جاتی تھی۔ ہم جیسے راک کے ترسے نوجوانوں کے لیے رِدھم ہاؤس ایک جنت تھا۔

رِدھم ہاؤس کو گذشتہ سات دہائیوں سے ایک ہی خاندان ’ کرملیس‘ کے افراد چلا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anushree FadnavisIndus Images
Image caption سٹور کے ملازمین نوجوان جوڑوں پر بھی گہری نظر رکھتے تھے

یہاں سے نہ صرف بہت سارے نوجوانوں کی موسیقی کی تربیت ہوئی ہے بلکہ کئی تجربہ کار سنگیت کاروں نے بھی یہاں سے بین الاقوامی رجحانات کے بارے میں سیکھا۔

سٹور کی پالیسی میں غریب طالب علموں کو چھوٹے ائیرکنڈیشن کمروں میں تین گانوں سے لطف اندوز ہونے کی سہولت بھی دی جاتی تھی۔

سٹور کے ملازمین نوجوان جوڑوں پر بھی گہری نظر رکھتے تھے جو اِن کمروں میں تھوڑی سی ’پرائویسی یعنی تنہائی‘ کی تلاش میں ہوتے تھے۔

لیکن آج تقریباً 70 سال موسیقی فراہم کرنے والا اور گاہکوں کی نسلوں سے لطف اُٹھانے والا رِدھم ہاؤس بند ہونے جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anushree FadnavisIndus Images
Image caption تقریباً 70 سال موسیقی فراہم کرنے والا اور گاہکوں کی نسلوں سے لطف اُٹھانے والا رِدھم ہاؤس بند ہونے جا رہا ہے

پہلے پائیریسی یعنی گانوں کی چوری اور اب ٹیکنالوجی کے باعث صرف چند لوگ ایسے ہیں جو سی ڈی خریدتے ہیں۔ جب آسانی سے ایم پی تھری موبائل فون پر میسر ہو تو کیوں کوئی نوجوان ایسی جگہوں پر اپنا وقت گزارےگا؟۔

رِدھم ہاؤس کے بند ہونے کے اعلان نے اُن لوگوں کو بہت اُفسردہ کر دیا ہے جنھیں اب بھی ونائل یاد ہے اور اُن کے لیے رِدھم ہاؤس صرف دکان نہیں ہے بلکہ اِس سے بہت بڑھ کر ہے۔ وہ جب بھی کالا گھوڑا جاتے ہیں تو وہاں ضرور جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anushree FadnavisIndus Images

یہ 1940 کی دہائی کی باتیں ہیں۔ تین دہائیوں بعد مشہور شاعر ارون کولہتکار نے اپنی نظم کالا گھوڑا لکھی۔ جس میں اُنھوں نے اِس جگہ پر گزری ہوئی یادوں اور دیگر چیزوں کو بیان کیا۔

اِس دکان کی دوسری جانب ایک سڑک پر جہانگیر آرٹ گیلری موجود ہے۔ جہاں بھارت کے کئی معروف فنکاروں نے اپنے فن کی نمائش کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anushree FadnavisIndus Images

ہر سال منعقد ہونے والے سالانہ کالا گھوڑا میلے میں مختلف قسم کے جذبات دکھائی دیتے ہیں۔ یہ میلا تقریباً 20 برس سے شہریوں کا ایک گروپ چلا رہا ہے۔ اِس میں فن، موسیقی اور ادب پر زور دیا جاتا ہے۔

لیکن یہ صرف سال میں ایک بار ہوتا ہے۔ یہاں حقیقی خدشات ہیں کہ یہ محلہ جلد ہی نہ صرف بلڈروں کے ہاتھوں بلکہ سیاستدانوں کے ہاتھوں بھی، جو اِس علاقے کو ٹائم سکوائر بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، ختم ہو جائے گا۔

اِس علاقے میں کچھ ریستوران اور ڈیزائنر سٹور کھل گئے ہیں اور بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ اِس علاقے کی بحالی کے لیے درست قدم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Anushree FadnavisIndus Images

کیا رِدھم ہاؤس ایسے ہی چلتا رہے گا؟ کیا یہ شوقین مزاج لوگوں کا کلب بن جائے گا یا مہنگے کپڑوں کا کوئی سٹور یا کوئی بینک؟ مالکوں نے اِس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے لیکن اِس کی نئی شکل کوئی بھی ہو یہاں کئی نسلوں کی یادیں ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گی۔

سدھارتھ بھاٹیہ thewire.in کے اڈیٹر اور ایک کتاب کے مصنف ہیں

اسی بارے میں