سوات میں موسیقی واپس لانے کی حکومتی کوششیں

Image caption یہ مقابلے پشاور، سوات اور مردان کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان ، ہزارہ ڈویژن ، بنوں اور کوہاٹ میں منعقد ہوں گے جبکہ فائنل مقابلہ پشاور میں ہوگا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں میں موسیقی واپس لانے کے لیے حکومت نے علاقائی موسیقی کے مقابلے ترتیب دیے ہیں۔

’یا قربان‘ کے نام سنتے ہی پشتو موسیقی کا خیال ذہن میں آتا ہے اور اسی لیے حکومت نے صوبے کے سات ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں علاقائی موسیقی کے مقابلے ترتیب دیے ہیں جو گزشتہ عرصے میں دہشت گردی سے متاثر ہوئے تھے۔ ان مقابلوں کا مقصد ان علاقوں میں موسیقی واپس لانا ہے۔

سوات میں موسیقی کی واپسی

یہ مقابلے پشاور، سوات اور مردان کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ہزارہ ڈویژن، بنوں اور کوہاٹ میں منعقد ہوں گے جبکہ فائنل مقابلہ پشاور میں ہوگا۔

خیبر پختونخوا کے بیشتر شہروں میں گلوکاروں نے یہ فن چھوڑ دیا تھا یا نقل مکانی کر گئے تھے۔

اب یہ مقابلے پشتو، ہندکو، سرائیکی اور چترالی زبان میں ہو رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

حکومت کی جانب سے علاقائی موسیقی کے مقابلے منعقد کرنے کا مقصد بھی امن کے قیام کا اعلان کرنا ہے۔

سوات میں منعقد ’یا قربان‘ کی محفل میں 50 سے زائد گلوکاروں نے حصہ لیا جن میں زیادہ تر شوقین فنکار تھے۔ سوات کے ودودیہ ہال میں حاضرین کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی جنھوں نے دل کھول کر گلوکاروں کو داد دی۔

نوجوان گلوکارہ نبیلہ وددو کا کہنا تھا ’شدت پسندی کی وجہ سے بہت سے فنکار یہ علاقہ چھوڑ گئے تھے۔ سوات میں ایسا وقت بھی آیا تھا جب موسیقی کی محفلیں ختم ہو گئی تھیں لیکن اب ایک مرتبہ پھر حالات بہتر ہو گئے ہیں اور اب یہاں لوگ اور فنکار بہت خوش ہیں اور اس طرح کے مقابلے اور محفلیں منعقد ہونی چاہییں۔‘

ودودیہ ہال کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے جہاں پولیس کے علاوہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی موجود تھے۔

Image caption سوات میں منعقد ’یا قربان‘ کی محفل میں 50 سے زائد گلوکاروں نے حصہ لیا جن میں زیادہ تر شوقین فنکار تھے

مقامی سکول کے استاد توصیف خان شوقیہ گلوکار ہیں۔ انھوں نے مقامی سطح پر موسیقی سیکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں حالات بہت خراب تھے ہرکوئی خوفزدہ تھا کہ کہیں کوئی دھماکہ نہ ہو جائے لیکن اس طرح کی محفلیں انتہائی خوش آئند ہیں۔

سوات میں منعقد اس مقابلے میں چترال سمیت چھ اضلاع سے گلوکار شریک تھے۔

موسیقی کے میدان میں سوات کی سر زمین سے نامور فنکار پیدا ہوئے ہیں۔ زیادہ تر فنکار سوات میں بنڑ کے محلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ چند سال پہلے شدت پسندی کی وجہ سے یہ فنکار علاقہ چھوڑ کر دیگر علاقوں کو چلے گئے تھے۔ اب حکومت کی کوشش ہے کہ علاقائی موسیقی کی محفلیں ماضی کی طرح معمول سے منعقد ہونی چاہییں۔

خیبر پختونخوا کے محکمۂ ثقافت و سیاحت کے ڈائریکٹر عبدالباسط خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان مقابلوں کے انعقاد کا مقصد نوجوان گلوکاروں کو سامنے لانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر ہے کہ یہاں سب شدت پسند ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ یہاں لوگ موسیق اور کھیلوں کی سرگرمیاں بہت پسند کرتے ہیں۔ ان مقابلوں کا مقصد یہاں مثبت سرگرمیوں کو اجاگر کرنا ہے اور دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان میں لوگ بہتر ہنر مند ہیں۔

سوات میں چھ سال پہلے شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے نتیجے میں علاقے میں امن قائم کر دیا گیا تھا۔ میلے اور کھیلوں کی سرگرمیاں بھی شروع کی گئی تھیں۔ اب صوبائی حکومت نے موسیقی کے مقابلے منعقد کیے ہیں لیکن ساتھ ہی سوات اور دیگر علاقوں میں سکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

اسی بارے میں