ٹی وی ٹاک شوز بھی بہت بڑے ڈرامے ہیں‘

Image caption مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ پاکستان میں متوازی سینما قائم کرنے کی ضرورت ہے

پاکستان کے نامور اداکار مصطفیٰ قریشی نے کہا ہے کہ ٹی وی چینلز پر سیاستدانوں کے ٹاک شوز بھی بہت بڑے ڈرامے بن گئے ہیں جن میں مکالمہ، ڈرامہ، کلائمکس اور سب کچھ ہوتا ہے۔ یہاں فنون لطیفہ کے حوالے سے کوئی اکیڈمی یا ادارہ نہیں ہے جس کی وجہ سے اداکاروں کی سیکنڈ لائن نہیں بن سکی جس وجہ سے آج فنون لطیفہ تنزلی کا شکار ہے۔

فلم، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے سینئر اداکار مصطفیٰ نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو کراچی آرٹس کونسل میں جاری عالمی اردو کانفرنس کے پروگرام اردو ڈرامہ و فلم کے موضوع پر صدارتی خطاب کر تے ہوئے کیا۔اس کانفرنس میں بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے اردو کے دانشوروں اور ادیبوں نے شرکت کی۔

مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ پاکستان میں متوازی سینما قائم کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر فلمی تعلقات قائم کیے جائیں اور پاکستانی فلمیں بھی بھارت میں ریلیز ہوں۔

مصطفیٰ قریشی نے کہا کہ پاکستان میں کوئی کلچرل پالیسی نہیں ہے جس کی وجہ سے فلم اور ڈرامے کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔

Image caption ۔اس کانفرنس میں بھارت سمیت دنیا کے مختلف ممالک سے اردو کے دانشوروں اور ادیبوں نے شرکت کی

کانفرنس کے مقررین نے پاکستان کے ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈراموں اور لکھاریوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ معروف ڈرامہ نگار حسینہ معین نے کہا کہ آج ٹی وی چینلز سے سکرپٹ ایڈیٹر غائب ہو گئے ہیں اور ڈرامے کی سلیکشن مارکیٹنگ کے لوگ کرتے ہیں اور یہی ڈرامے کی ناکامی کی بڑی وجہ ہے۔

اردو اور سندھی زبان کی ڈرامہ نویس نور الہدیٰ شاہ کا کہنا تھا کہ کہ آج ڈرامہ اردو کی کوئی خدمت نہیں کر رہا پی ٹی وی کا ڈرامہ رائٹر ادب سے آتا تھا مگر آج حالات اس کے برعکس ہیں پہلے ڈرامہ رائٹر بہتر گھروں سے آتے تھے جبکہ آج کل کے ڈرامہ نویس اپنا گھر چلانے کے لیے آتے ہیں ٹی وی چینلز کے مالکان اور پروڈیوسرز انھیں مواد فراہم کرتے ہیں اور وہ ٹوٹی پھوٹی اردو میں کمرشل بنیادوں پر کام کر کے اپنا کچن چلاتے ہیں۔

نامور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید نے کہا کہ اردو صرف زبان ہی نہیں بلکہ دونوں میڈیم کے لیے بہت اہم چیز ہے۔ گیت اور فلم اردو میں ہی لکھے جاتے ہیں ماضی میں انڈیا نے ہمارے ڈراموں کو کاپی کیا آج ہم فلم اور ٹیلی وژن دونوں میڈیا کا صحیح استعمال نہ کر کے گھاٹے میں جا رہے ہیں۔

اس سے قبل اردو تنقید کا معاصر منظر نامہ کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ہندوستان سے آئے ہوئے دانشور ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی نے کہا کہ ہندوستان میں تنقید حقارت کے لیے لکھی جاتی ہے جبکہ پہلے تنقید کو ایک سائنسی پہلو سمجھا جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ تنقید کی صورتحال ہندوستان اور پاکستان دونوں میں ہی کوئی امید افزہ نہیں ہے اب تنقید ڈکٹیٹ کر رہی ہے۔ یونیورسٹیوں میں تحقیق و تنقید کے مضامین لکھے جاتے ہیں لیکن ان کی صورتحال بھی کوئی خاص قابل ذکر نہیں سمجھتی جاتی۔

کانفرنس میں’اردو کے پاکستان کی دیگر زبانوں سے رشتے‘ کے موضوع پر بھی نشست منعقد کی گئی، جس سے خطاب کرتے ہوئے نامور ادیب مظہر جمیل کا کہنا تھا کہ زبانوں کا معاملہ انسانی معاشروں کی طر ح ہے، زبانیں ایک دوسرے سے مل کر ترقی کرتی ۔ ان کے مطابق مظہر جمیل نے مزید کہا کہ سندھی اور اردو زبان کے 3 سے 4 سو سال پرانے رشتے ہیں جو مزید مضبوط ہورہے ہیں۔

Image caption آخری اجلاس میں بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار نواز استاد رئیس خان اور ان کے صاحبزادے فرحان رئیس خان نے ستار پر پرفارم کیا

سندھی دانشور امداد حسینی نے کہا کہ زبانیں کبھی آپس میں نہیں لڑتیں بلکہ زبانیں بولنے والے لڑتے ہیں زبانوں کا آپس میں کوئی تنازع نہیں تو انھیں آگے بڑھنے دیں۔

اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر قاسم بگھیو کا کہنا تھا کہ زبان کی طاقت مذہب سے زیادہ ہے۔ زبانوں اور مذہب کا فیصلے نافذ نہیں ہوتے رائج کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کو سب سے زیادہ نقصان اردو کے دوستوں نے پہنچایا ہے۔

کانفرنس میں تین کتابوں کی تقریب رونمائی منعقد کی گئی، جن میں کشور ناہید کی کتاب ’مٹھی بھر یادیں‘، ش فرخ کی کتاب ’مدار‘ اور مرحوم مصدق سانول کا مجموعہ ’یہ ناتمام زندگی جو گزری‘ شامل ہیں۔

مصدق سانول کے دوست اداکار و ہدایتکار خالد احمد نے شرکا کو بتایا کہ انھوں نے مصدق کے ساتھ بہت وقت گزارا ہے لیکن وہ اس کی شاعری کے فن سے ناواقف تھے وہ ان کو ایک ڈائریکٹر، ڈرامہ رائٹر، ایکٹر اور موسیقار کی حیثیت سے جانتا تھا۔

خالد احمد نے اس موقع پر مصدق سانول کی منتخب نظمیں بھی حاضرین کو سنائیں۔ آخری اجلاس میں بین الاقوامی شہرت یافتہ ستار نواز استاد رئیس خان اور ان کے صاحبزادے فرحان رئیس خان نے ستار پر پرفارم کیا۔

اسی بارے میں