اور فراز چاہییں کتنی محبتیں تجھے۔۔۔

Image caption احمد فراز کے زیرِ استعمال رہنے والی گاڑی میں ان کے ڈرائیور ابراہیم بیٹھے ہوئے ہیں

جمعرات کو اسلام آباد کے نیشنل بک فاؤنڈیشن میں احمد فراز کی گاڑی کی نیلامی ہوئی جس سے فراز کے اکثر چاہنے والوں اور مداحوں کو سخت مایوسی ہوئی۔

اردو کے مشہور ترین اور مقبول ترین شاعروں میں سے ایک کی گاڑی صرف سوا چھ لاکھ روپے میں بک گئی۔ یہ قیمت اس گاڑی کی اصل مارکیٹ ویلیو سے بھی کم ہے۔

ہم نے پاکستان میں آن لائن گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ پر 1996 کرولا کی قیمت دیکھی تو معلوم ہوا کہ اس گاڑی کی اوسط قیمت چھ لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔

Image caption گاڑیوں کی آن لائن خرید و فروخت کی ویب سائٹ پر اسی ماڈل کی گاڑیاں زیادہ قیمت میں بک رہی ہیں

احمد فراز نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چیئرمین رہے ہیں اور یہ کرولا 1996 گاڑی دس سال سے زیادہ عرصے تک ان کے زیرِ استعمال رہی ہے۔

آج سے کوئی تین ہفتے پہلے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے اخباروں میں ایک اشتہار چھپوایا تھا جس میں فراز کی گاڑی بولی کے لیے پیش کی گئی تھی۔

Image caption یہ گاڑی دس سال فراز کے زیرِ استعمال رہی ہے اور وہ تیز گاڑی چلانا پسند کرتے تھے

اس بولی پر لبیک کہتے ہوئے ایک جمِ غفیر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے دفتر کے باہر جمع تھا۔ تاہم زیادہ تعداد میڈیا کے احباب کی تھی، بولی میں حصہ لینے والے گنے چنے ہی تھے۔

سیاہ رنگ کی گاڑی خاصی اچھی حالت میں دکھائی دے رہی تھی، اور اسلام آباد کے بھیگے بھیگے موسم میں لوگ گاڑی کے آگے پیچھے پھر کر اس کا جائزہ لے رہے تھے۔

Image caption بولی کی میزبانی معروف شاعر محبوب ظفر نے کی

فراز کے سفید ریش ڈرائیور ابراہیم گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے تھے اور گاڑی کے ٹیپ پر فراز کی اپنی آواز میں غزلیں نشر کی جا رہی تھیں۔

حیرت انگیز طور پر بولی صرف تین لاکھ سے شروع کی گئی۔

سست روی سے آگے بڑھتی ہوئی بولی چھ لاکھ تک پہنچی اور وہیں اس کی سانسیں پھول گئیں۔ آخری بار راؤ اسلم نے ہاتھ کھڑا کیا تھا جو نیشنل بک فاونڈیشن کے سابق ملازم اور احمد فراز کے رفیقِ کار رہ چکے ہیں۔

فراز کی گاڑی کی اس قدر کم قیمت پر وہاں کھڑے بیشتر لوگ حیران زدہ تھے۔ میڈیا سے تعلق رکھنے والے کئی افراد نے کہا کہ یہ فراز کی توہین ہے، اور فاؤنڈیشن کو بولی کم از کم دس لاکھ سے شروع کرنی چاہیے تھی۔

Image caption گاڑی کی کامیاب بولی دینے والے اسلم راؤ نے کہا کہ یہ گاڑی انھوں نے فراز کی محبت میں خریدی ہے

راؤ اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے یہ گاڑی فراز کی محبت میں خریدی ہے اور وہ اسے خود چلایا کریں گے۔ ’میرا اور فراز صاحب کا ساڑھے 13 برس کا ساتھ رہا ہے اور میں نے یہ گاڑی ان کی محبت میں خریدی ہے۔‘

انھوں نے بھی گاڑی کی اس قدر کم قیمت پر کہا کہ ’فراز صاحب کا جو مرتبہ ہے اس لحاظ سے گاڑی کی قیمت کہیں زیادہ لگنی چاہیے تھی۔‘

فراز کے ڈرائیور ابراہیم نے کہا کہ میں نے گیارہ سال تک فراز صاحب کی خدمت کی ہے۔ وہ صاحب زیادہ رفتار سے گاڑی چلانا پسند کیا کرتے تھے اور مجھ سے یہی فرمائش کرتے تھے کہ گاڑی اور تیز، اور تیز چلاؤ۔

معروف شاعر اور حلقہ اربابِ ذوق کے سابق سیکریٹری منظر نقوی نے اس بولی پر ردِ عمل دیتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ ’جس معاشرے میں انسانوں کی قدر نہ ہو وہاں چیزوں کی کیا قدر ہو گی۔‘

Image caption گاڑی خاصی اچھی حالت میں دکھائی دے رہی تھی

انھوں نے کہا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارا معاشرہ مکمل طور پر بےحس ہو چکا ہے۔ یہی گاڑی اگر یورپ یا امریکہ میں ہوتی تو آرٹ کی قدر کرنے والے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔‘

منظر صاحب نے یورپ امریکہ کی جو بات کی، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ اسی سال اگست میں آئرش ادیب جیمز جوئس کے خطوط امریکہ میں 24 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئے تھے۔ تھوڑا اور پیچھے چلے جائیں تو چارلز ڈکنز کی ایک دستخط شدہ کتاب پونے تین لاکھ پاؤنڈ میں فروخت کی لیے پیش کی گئی تھی۔

اسی بارے میں