اداکار سلمان خان ’ہٹ اینڈ رن‘ مقدمے میں بری

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ممبئی کی ہائی کورٹ نے ’ہٹ اینڈ رن‘ مقدمے میں بالی وڈ کے اداکار سلمان خان کو تمام الزامات سے بری کر دیا ہے۔

ذیلی عدالت نے انھیں اسی کیس میں غیر ارادی قتل کے جرم میں پانچ برس قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران جس طرح کے ثبوت پیش کیےگئے ان کی بنیاد پر سلمان خان کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

سلمان کی بریت پر مداحوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

عدالت میں موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ فیصلہ سنتے ہی 49 اداکار سلمان خان کی جذبات سے آنکھیں بھر آئیں اور وہ رو پڑے۔

ہائی کورٹ کے جج اے آر جوشی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا ’ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے اور سلمان خان تمام الزامات سے بری کیے جاتے ہیں۔‘

عدالت نے اس پر مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ’استغثی نے جو شواہد فراہم کیے ہیں اس کی بنیاد پر تو (سلمان خان) کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اس بارے میں عام آدمی کیا سوچتا ہے اس سے اس پر کوئي فرق نہیں پڑتا ہے۔‘

جج نے حتمی فیصلہ سنانے سے قبل سلمان خان کو عدالت طلب کیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں ٹرائل کورٹ نے جس طرح سے شواہد کو بنیاد بنا کر فیصلہ سنایا تھا وہ قوانین کی نظر میں درست نہیں ہیں اور ثبوتوں کو غلط طریقے پیش کیا گیا ہے۔

عدالت نے باندرہ کے پولیس سٹیشن کو سلمان خان کا پاسپورٹ واپس کرنے کا حکم دیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق سلمان کے اہل خانہ اور ان کے بعض قریبی دوست اور ساتھی بھی اس موقع پر عدالت پہنچے تھے۔

سلمان پر الزام تھا کہ انھوں نے 28 ستمبر 2002 کی رات نشے میں اپنی گاڑی ممبئی کے علاقے باندرہ میں امریکن ایکسپریس بیکری کے کنارے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگوں پر چڑھا دی تھی۔

Image caption سلمان پر الزام تھا کہ انھوں نے 28 ستمبر 2002 کی رات نشے میں اپنی گاڑی ممبئی کے علاقے باندرہ میں امریکن ایکسپریس بیکری کے کنارے فٹ پاتھ پر سوئے ہوئے لوگوں پر چڑھا دی تھی

اس واقعے میں ایک 38 سالہ شخص نور اللہ خان ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔

سلمان خان کا دعویٰ ہے کہ وہ حادثے کے وقت گاڑی نہیں چلا رہے تھے تاہم سیشن کورٹ کے جج ڈي ڈبلیو دیش پانڈے نے کہا تھا کہ سلمان خان پر غیر ارادی قتل کا الزام ثابت ہوا ہے۔

ذیلی عدالت نے کہا تھا کہ سلمان ہی نشے میں گاڑی چلا رہے تھے اور ان کے خلاف تمام الزامات درست ثابت ہوئے ہیں۔ اس کے لیے انہیں پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں