شمالی کوریا کا میوزک بینڈ چین سے اچانک واپس چلا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گروپ نے بیجنگ میں نیشنل سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس میں 12 سے 14 دسمبر تک اپنے فن کا مظاہرہ کرنا تھا

شمالی کوریا کے خواتین پر مشتمل پاپ گروپ نے چین کا خیرمقدمی دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیا ہے۔

مورن بونگ بینڈ کی ارکان کی اپنی پہلی پرفارمنس سے چند گھنٹے پہلے ہی غیرمتوقع طور پر بیجنگ کے ہوائی اڈے پر پہنچیں اور وہاں سے واپس شمالی کوریا روانہ ہو گئیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس گروپ نے دورہ کیوں منسوخ کیا۔

شمالی کورین بینڈ چین میں فن کا جادو جگانے کے لیے تیار

دونوں ممالک کے حکام کی جانب سے کنسرٹ منسوخ ہونے اور اس کے بینڈ کے اچانک واپس چلے جانے کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا۔

اس گروپ کے دورے کا مقصد چین اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنا تھا۔

مورن بونگ بینڈ شمالی کوریا کے مقبول ترین میوزک گروپس میں سے ایک ہے اور اطلاعات کے مطابق اس گروپ کی ارکان کا انتخاب شمالی کوریا کے رہنما کم جان اُن نے خود کیا تھا۔

جمعے کو اس گروپ نے بیجنگ کے نیشنل سینٹر فار پرفارمنگ آرٹس میں پریکٹس کی تھی اور اس وقت کسی قسم کی مشکلات یا مسائل کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں ملا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی کوریا کی مطلق العنان حکومت کے معیار کے مطابق یہ بینڈ اپنے پرجوش اور مغربی انداز میں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مشہور ہے

چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا کے گروپ کی پرفارمنس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا تھا تاہم ترجمان نے مذاق میں کہا ہے کہ انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کنسرٹ کی ٹکٹیں کہاں سے ملنی ہیں۔

تاہم سنیچر کو غیر متوقع طور پر گروپ بیجنگ ایئرپورٹ پہنچا اور شمالی کوریا جانے والے فلائٹ سے واپس روانہ ہو گیا۔ یہ فلائٹ مقررہ وقت سے کئی گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوئی۔

بیجنگ میں اس گروپ کی پرفارمنس منسوخ کرنے کے بعد تیار کیے جانے والے سٹیج کو ختم کر دیا گیا۔

شمالی کوریا کی مطلق العنان حکومت کے معیار کے مطابق یہ بینڈ اپنے پرجوش اور مغربی انداز میں فن کا مظاہرہ کرنے کے لیے مشہور ہے۔

اس کے گیتوں میں شمالی کوریا کا پروپیگینڈا ہوتا ہے جیسے ’تھنک آف دی مارشل (مسٹر کم) ڈے اینڈ نائٹ‘ اور ’مائی کنٹری از دا بیسٹ‘ جیسے گیت شامل ہیں۔ لیکن مغرب کی چھاپ والے گیت جیسے ’تھیم فرام راکی‘ بھی اسی بینڈ کے گیتوں میں شامل ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں۔جدید چین کے بانی رہنما ماؤ زے تنگ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ دونوں ممالک ہونٹ اور دانت کی طرح نزدیک ہیں۔

تاہم حالیہ کچھ عرصے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کچھ سردمہری محسوس کی جا سکتی ہے۔ خاص کر شمالی کوریا کی جانب سے 2013 میں جوہری تجربہ کرنے پر چین کی طرف سے ناراضی کا اظہار کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں