ایک شام باغیوں کے نام

Image caption فیس بُک کے ذریعے پتہ چلا کہ 12 دسمبر کی شام حیدرآباد کے ممتاز مرزا آڈیٹوریم میں’باغیوں‘ کے ساتھ ایک شام منائی جا رہی ہے

سندھ کے صوفیانہ ادب اور کلام کے پرچار کی جب بات آتی ہے تو شاید اس وقت پورے برصغیر میں عابدہ پروین سے بڑا کوئی نام نہیں۔

انھوں نے عالمی سطح پر سندھ اور پاکستان کے صوفی شعرا کا کلام گایا اور پھیلایا۔ لیکن اندرونِ سندھ کے قصبوں دیہاتوں میں کئی ایسے گمنام شاعر اور فنکار پائے جاتے ہیں جنھیں شاید بڑے شہروں میں کوئی نہ جانتا ہو لیکن وہ سندھی سماج میں پائی جانے والی بے چینی اور امنگوں کی موثر عکاسی کرتے ہیں۔

یہ وہ غریب لیکن بہادر لوگ ہیں جو تھنک ٹینکس کے اجلاسوں اور سیمیناروں میں نہیں بلکہ عوام کے بیچ رہ کر رجعت پسند قوتوں کو اپنے فن کے ذریعے للکارتے ہیں۔

حال ہی ایک محفل میں میری ایسے ہی کچھ صوفی شعرا اور فنکاروں سے ملاقات ہوئی۔ اس محفل کی خاص بات یہ تھی کہ روایتی ذرائع ابلاغ یعنی اخبار ریڈیو ٹی وی کے ذریعے اس کی پہلے سے کوئی تشہیر کی گئی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی ٹکٹ تھا۔ سندھ بھر سے جو لوگ آئے انھیں صرف فیس بُک کے ذریعے پتہ چلا کہ 12 دسمبر کی شام حیدرآباد کے ممتاز مرزا آڈیٹوریم میں ُ’باغیوں‘ کے ساتھ ایک شام منائی جا رہی ہے۔

پھر بھی لوگ اتنے سارے آگئے کہ کرسیاں کم پڑ گئیں اور ہال میں پیر رکھنے کی جگہ نہ بچی جس کی وجہ سے خاصی بدنظمی بھی ہوگئی لیکن پھر جسے جہاں جگہ ملی وہ وہیں ٹِک گیا۔

اس صوفیانہ محفل میں کوئی وی آئی پی نہیں تھا، نہ کوئی صدرِ محفل نہ کوئی مہمانِ خاص۔ بس اسٹیج پر کرسیوں کی قطار میں عوامی شاعر اور فنکار تھے، اور اُن کے ہر طرف آڈیٹوریم میں نوجوانوں کا بےہنگم مجمع۔

Image caption آج کل کی اس نام نہاد جمہوریت نے تو ہمارے لوگوں کو مزید غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہماری جدوجہد آج بھی جاری ہے: بیجل سندھی

جن باغی شاعروں کو سُننے لوگ آئے انھی میں ایک بیجل سندھی ہیں۔ بیجل کا شمار سندھ کے انقلابی شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں جاگیردار، سرمایہ دار اور جمہوریت کے دعویدار غاصب طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔’ ُُہم نے مارشل لا کے دور میں گاؤں گاؤں جا کر اپنے گیتوں کے ذریعے لوگوں میں شعور بیدار کیا۔ تب سندھ عتاب میں تھا۔ ہم نے بھی جیلیں کاٹیں لیکن گھبرائے نہیں۔ مگر آج کل کی اس نام نہاد جمہوریت نے تو ہمارے لوگوں کو مزید غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہماری جدوجہد آج بھی جاری ہے۔‘

بیجل کا اصل نام خالد محمد خاصخیلی ہے اور ان کا تعلق ٹنڈو محمد خان سے ہے ۔ انھوں نے اپنے گیتوں کی ابتدا شیخ ایاز کی شاعری سے کی۔ وہ سندھی قوم پرست رہنما جی ایم سید اور عبدالواحد آریسر کے پیروکار ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سندھ کے صوفیانہ مزاج کو آج سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہا پسندی سے ہے۔

’ُجس تصوف کا پرچار آپ اس محفل میں دیکھ رہے ہیں یہ سندھ کی روح اور اس کی اصلیت ہے۔ ہم دقیانوسی مذہب پرستوں کے خلاف ہیں اور صوفی ازم میں یقین رکھتے ہیں کیونکہ یہی وہ فکر ہے جس سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔‘

Image caption اگر حق بات کہنے والے کو باغی کہتے ہیں، تو میں سینہ ٹھوک کر کہتا ہوں ہاں میں باغی ہوں: شاعر شرف نظامانی

بیجل جیسے لوگ دین کے خلاف نہیں۔ اُن کی لڑائی ’مذہب کو کاربار بنا دینے والوں‘ کے ساتھ ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ ’سندھ کے ایسے ایسے دیہات میں جہاں غربت کے سوا کچھ نہیں، چند مہینوں کے اندر کروڑوں روپے کی مسجدیں اور مدرسے کیسے تعمیر ہو جاتے ہیں؟ سندھ کے چھوٹے بڑے قصبوں میں فرقہ وارانہ تنظیموں کا جال کس کی ایما پر پھیلتا چلاگیا؟ سندھی ہندؤوں پر اُن کی اپنی دھرتی کیوں تنگ کر دی گئی؟‘

اسی محفل میں جُمن دربدر سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق صحرائے تھر کے علاقے عمر کوٹ سے ہے اور سندھ کی قوم پرست اور مزاحمتی شاعری میں ان کا بڑا نام ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کا کام لوگوں میں ثقافتی شعور بیدار کرنا ہے تاکہ وہ اپنے حقوق کو سمجھیں اور ان کے لیے آواز بلند کر سکیں۔

’جاگیردار کبھی جمہوریت پسند نہیں ہو سکتا، اور اس پاکستان میں تو اس لیے بھی نہیں کیونکہ اُس کی چابی کسی اور کے پاس ہوتی ہے۔‘

پاکستان میں طالبان کی خونریزی پر کہتے ہیں کہ ’انھیں جن قوتوں نے پالا پوسا وہ اُن کے ہاتھ سے نکل گئے۔ ُُیہ بالکل ایسے ہی ہے کہ موچی نے جو جوتے بنائے وہ اسی کو پڑے (موچی جا جُتا موچی جی متھی میں!)۔‘

یوں تو سندھ میں ٹوپی اور اجرک پہن کر ناچ گانا کرنے والے کافی فنکار ہیں لیکن وہ خود کو باغی نہیں کہتے۔ لیکن جو مزاجاً اور فکری لحاظ سے آزاد ہوتے ہیں سرکاری پروگراموں سے کچھ دور دور ہی رہتے ہیں۔

Image caption اس محفل میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی

شاعر شرف نظامانی کہتے ہیں: ’اگر حق بات کہنے والے کو باغی کہتے ہیں، تو میں سینہ ٹھوک کر کہتا ہوں ہاں میں باغی ہوں۔‘

’باغیوں‘ کی اس محفل کا اہتمام چار پانچ دوستوں نے مل کر اپنی جیب سے کیا۔ انھیں میں ایک صحافی نثار کھوکھر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بغاوت کے لیے ہتھیار اٹھانا ضروری نہیں۔ ان محفلوں کے ذریعے ہم سندھ کے باشعور لوگوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہے ہیں جو کسی کے ذاتی سیاسی عزائم کے لیے نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ملائیت کے خوف سے باہر آئیں اور کھل کر ایک فرسودہ نظام اور مذہب کے ٹھکیداروں کے خلاف اٹھائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’چونکہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور اسی میں سندھی معاشرے کی بقا ہے۔‘

اسی بارے میں