دو سو سال سے زندہ موسیقی کا آلہ

Image caption کرٹ کوپر میوزک باکس انڈسٹری کی شبیہہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں

وقت کے ساتھ ساتھ موسیقی کے آلات بدلتے رہے ہیں جیسے کہ کیسٹ ریکارڈر، ایم پی تھری پلیئر اور سی ڈی۔ ان سب کا ایک دور رہا ہے، اور یہ اُس وقت تک قائم رہا جب تک ڈیجیٹل ڈاؤن لوڈ نے اُنھیں پیچھے چھوڑ نہ دیا۔

لیکن موسیقی کا ایک نظام جو تقریباً 200 سال پہلے ایجاد کیا گیا تھا وہ آج بھی جوں کا توں موجود ہے۔

مغربی سوئٹزرلینڈ کے پہاڑوں کے دامن میں قائم ایک کمپنی آج بھی دنیا بھر کے موسیقی کے عاشقوں کے لیے موسیقی کے خودکار آلے تیار کررہی ہے۔

روژ کمپنی کو موسیقی کے یہ روایتی آلے تیار کرنے والا آخری صنعت کار سمجھا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ صنعت سوئٹزرلینڈ کی گھڑی سازی کی مشہور صنعت سے ٹکر لیتی تھی۔

سنہ 1865 میں اِس کمپنی کی بنیاد گھڑی ساز چارلز روژ نے رکھی تھی۔ بعد میں فونوگراف اور پھر ایک کے بعد ایجادات سامنے آتی رہیں، لیکن یہ کمپنی چلتی رہی۔ آج بھی سوئٹزرلینڈ کے ایک علاقے سینٹ کروئے کی ایک چھوٹی سی فیکٹری میں موسیقی کے آلے بنانے کا کام جاری ہے۔

سینٹ کروئے کا یہ چھوٹا سا گاؤں اس صنعت میں مہارت رکھتا تھا، اور یہاں میوزک باکس یعنی موسیقی کے آلے تیار کرنے والی درجنوں کارخانے تھے ، جو اب کہیں وقت کی گرد تلے دب گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Mechanical Music
Image caption ایک خاتون اور بچہ سنہ 1850 میں میوزک باکس کے ذریعے موسیقی سن رہے ہیں

سینٹ کروئے میں موسیقی کے آلوں کی تاریخ پر لکھی گئی ایک کتاب ’دی میوزک باکس میکرز‘ کے مصنف ژاں کلود پیگے کا کہنا ہے ’موسیقی کا یہ میڈیم اپنے زمانے سے کٹا ہوا ہے۔

’میرا خیال ہے یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ ایک قدیم فن جدید دور کے رجحانات کے مطابق ڈھلنے اور اُسے اپنانے کے قابل ہے۔‘

سینٹ کروئے کی یہ فیکٹری جو برطانوی فلم ساز فلورنس کینرڈ کی ایک مختصر دورانیے کی دستاویزی فلم کا موضوع بھی ہے، اپنی 150 ویں سالگرہ منارہی ہے۔

فیکٹری کے اندر 40 سے بھی کم کارکنوں پر مشتمل ٹیم موسیقی کے آلے بنانے کے لیے خصوصی مشینری کا استعمال کرتی ہے۔

یہ ایک ایسی مہارت ہے جس کی تعلیم کسی کالج میں نہیں دی جاتی لیکن نسل در نسل سینٹ کروئے میں منتقل ہوتی آئی ہے۔

یہ آلے سپرنگوں پر مشتمل ہوتے ہیں، کچھ چھوٹے ڈبوں میں دس ہزار سے بھی زیادہ پنیں ہوتی ہیں، اور اِن سے موتسارٹ سے لے کر مشہور فلمی سیریز سٹار وارز کی تھیم تک کے کئی ساز بجائے جاتے ہیں۔

سلنڈر کی شکل کے موسیقی کے یہ آلے 19 ویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئے تھے اور اس وقت انھیں تفریح کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔

آج کل زیادہ مقبول جدید موسیقی والے زیورات کے ڈبے ہیں جن کے اندر پنجوں کے بل ناچتی بیلی ڈانس رقاصہ بھی ہوتی ہے اور یہ بچوں کو دیے جاتے ہیں۔

روژ کے چیف ایگزیکٹیو کرٹ کیوپر کہتے ہیں کمپنی وسیع بنیادوں پر مہنگی مارکیٹ کے متعلق بھی سوچ رہی ہے تاکہ ایشیا کے سستے صنعت کاروں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuge
Image caption یہ کافی مشین کافی کے بیج کرائنڈ کرتے وقت موسیقی پیدا کرتی ہے

ایک معیاری نئے روژ آلے کی قیمت 250 پاؤنڈ (350 یورو) سے شروع ہوتی ہے جبکہ مزید پیچیدہ آلات کی قیمت 200,000 پاؤنڈز تک جا سکتی ہے۔ ایسا ہی ایک آلہ آذربائیجان کے صدر علیوف نے خریدا تھا۔

کوپر کے مطابق نئے خریداروں میں سے زیادہ تر ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سرکاری افسران ہیں جو ان مصنوعات کی خریداری کسی کو تحفتاً پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں۔

کوپر نے بتایا کہ اومان کے سلطان نے برطانوی شہزادہ ولیم اور اُن کی بیگم کو اُن کی شادی کے تحفے کے طور پر گاتے ہوئے لو برڈز کی جوڑی دی تھی۔

کمپنی اپنی شبیہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نئے خیالات پر بھی کام کر رہی ہے۔ مثلاً اس کا ایک آلہ مشن امپاسبل، جیمز بانڈ اور گاڈ فادر جیسی معروف فلموں کی موسیقی بجاتا ہے۔ اس کی لاگت 11 ہزار پاؤنڈز کے لگ بھگ ہے۔ اس کے علاوہ اس نے کافی بنانے والی مشین

بھی تیار کی ہے جو کافی بنانے کے دوران موسیقی بجاتی ہے۔

پیگے کو یقین ہے کہ موسیقی کے یہ آلے اب بھی خاص طور پر اس وجہ سے مقبول ہیں کہ کیوں کہ یہ ’آج کل موسیقی کو تخلیق کرنے کے لیے میسر آلات سے مکمل طور پر مختلف ہیں۔‘

اور اُن کے مطابق مجھے یقین ہے کہ ’یہ آلے اب بھی اِن جدید آلاتِ موسیقی سے کہیں آگے ہیں۔‘

اسی بارے میں