شیکسپئیر کے ڈرامے سے ماخوذ پاکستانی فلم ’رحم‘

Image caption خالد بٹ نے فلم میں نواب صاحب کا کردار ادا کیا ہے

کئی برس کے بعد اندرون لاہور کی معروف صلاح الدین حویلی کی دیواریں رنگ برنگی پتنگوں سے سجی ہیں۔ ڈھول والے مسلسل ڈھول بجا رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیوں نے پیلے لباس زیب تن کیے ہیں اور وہ چھت پر جمع ہیں لیکن پتنگیں اڑانے کے لیے نہیں بلکہ اردو کی فلم ’رحم‘ کی عکس بندی کے لیے۔ یہ فلم معروف برطانوی مصنف شیکسپیئر کے ڈرامے ’میژر فار میژر‘ سے ماخوذ ہے۔

اندرون لاہور کے باسیوں کے لیے بسنت کا تہوار اور فلموں کی شوٹنگ کوئی انوکھی بات نہیں لیکن شیکسپیئر کے ڈرامے پر مبنی کسی فلم کی عکس بندی یہاں پہلی مرتبہ کی گئی۔

اس فلم کے مصنف اور پروڈیوسر محمود جمال ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ آخر اپنی فلم کے لیے انھوں نے شیکسپئیر کے ڈرامے کا انتخاب کیوں کیا؟ تو انھوں نے بتایا ’شیکسپیئر نے جب یہ ڈرامہ لکھا تھا تو برطانیہ میں مذہبی رجحان رکھنے والی سخت گیر حکومت قائم ہوگئی تھی۔ یہ ڈرامہ تو بہت مشہور نہیں ہوا لیکن مجھے لگا کہ بہت سے حوالوں سے یہ ہمارے حالات کے مطابق ہے اور اس کا مرکزی خیال رحم اور رواداری ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

ڈرامے میں ساجد حسن گورنر کا مرکزی کردار نبھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کاسٹ میں صنم سعید، نیر اعجاز، سنیل شنکر اور خالد بٹ شامل ہیں۔

خالد بٹ نے فلم میں نواب صاحب کا کردار ادا کیا ہے۔ جو گورنر کے سیکرٹری ہیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ گورنر ان کی فیصلہ سازی کی صلاحیت آزمانے کے لیے اپنے اختیارات نواب صاحب کے حوالے کر کے روپوش ہوجاتا ہے اور پھر نواب صاحب اپنے ہمداردانہ رویے سے سخت سزائیں دینے کے بعد سمجھانے بجھانے اور تنبیہہ کرنے کے بعد مجرموں کو چھوڑ دیتے ہیں۔

خالد بٹ کہتے ہیں ’میرا کریئر 45 سال پر محیط ہے۔ ٹی وی تھیٹر ڈائریکشن سب ہی کام کیے لیکن کسی بھی انٹرنیشنل ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا یہ میرا پہلا موقعہ تھا۔ اور میں نے پوری کوشش کی کہ پروفیشنل طریقے سے کام کروں۔ میرا تجربہ بہت خوشگوار رہا اور میں نے بہت کچھ سیکھا بھی۔‘

Image caption فلم کی تمام عکس بندی لاہور میں ہی کی گئی ہے اور شیکسپئیر کے دور کی کہانی کو اندرون لاہور کے ماحول میں جذب کیا گیا ہے جو کہ ایک دلچسپ تجربہ ہے

فلم کا عملہ پاکستانی اور برطانوی ڈائریکڑز اور ٹیکنشینز پر مشتمل ہے۔ فلم کی تمام عکس بندی لاہور میں ہی کی گئی ہے اور شیکسپئیر کے دور کی کہانی کو اندرون لاہور کے ماحول میں جذب کیا گیا ہے جو کہ ایک دلچسپ تجربہ ہے۔

فلم کے ڈائریکٹر احمد جمال کہتے ہیں ’کسی بھی ڈارمے کو فلم میں ڈھالنا ایک مشکل کام ہے۔ ڈرامے میں مکالموں پر بہت زور ہوتا ہے۔ جب فلم بنائی جاتی ہے تو اسے ایک سنیماٹک فیل دینا بہت ضروری ہوتا ہے اور وہ بھی اگر شیکسپیئر کا ڈرامہ ہو اسے لاہور کے ماحول میں بنانا اور چھوٹے سٹیج کو بڑے پردے میں تبدیل کرنا یہی ہمارا چیلنج تھا اور ہم نے کوشش کی ہے کہ اسے بہتر طریقے سے نبھا سکیں۔‘

سنیل شنکر’رحم‘ میں اینجلو کا کردار ادا کررہے ہیں۔ سنیل نے بتایا کہ ’اس فلم میں ٹوسٹ اور ڈرامہ بہت ہے۔ شیکسپیئر کے ڈرامے پر مبنی ہونے کے باوجود ’رحم‘ آپ کو اجنبی نہیں لگے گی بلکہ ناظرین یہ محسوس کریں گے کہ یہ ہمارے اپنے معاشرے اور گھروں کی کہانی ہے۔‘

فلم کی عکس بندی مکمل کرلی گئی ہے اور ایڈیٹنگ کے بعد اسے کانز فیسٹول میں ریلیز کیا جائے گا جبکہ توقع ہے کہ پاکستان میں ’رحم‘ عید کے موقعے پر نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

یہ فلم اگلے برس شیکسپیئر کی 400 سالہ تقریبات کے موقعے پر ریلیز کی جائے گی۔ فلم کے پروڈیوسر محمود جمال کا کہنا ہے کہ اسلامی ماحول میں یہ شیکسپیئر کے کسی ڈرامے پر مبنی پہلی فلم بندی ہے۔

Image caption یہ فلم اگلے برس شیکسپیئر کی 400 سالہ تقریبات کے موقعے پر ریلیز کی جائے گی
Image caption فلم کا عملہ پاکستانی اور برطانوی ڈائریکڑز اور ٹیکنشینز پر مشتمل ہے

اسی بارے میں