سادھنا کو بھلا پانا مشکل ہے: سائرہ بانو

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption سادھنا کی فلموں میں میرے محبوب، آرزو، وقت، ہم دونو، میرا سایہ وغیرہ اہم تھیں

کسی ایسے شخص کے بارے میں اختصار کے ساتھ کچھ کہنا بہت آسان نہیں ہے جس کا خوبصورت چہرہ، آواز اور انداز آپ کی یادوں میں ہمیشہ بسا رہے۔

جب میری پہلی فلم ’جنگلی‘ کو زبردست پذیرائی مل رہی تھی اس وقت تک سادھنا سٹار بن چکی تھیں۔

وہ ’فلماليہ ایکٹنگ سکول‘ سے آئی تھیں اور ان کی اداکاری کے جوہر کو ایس مکھرجی نے تراشا تھا اور اس وقت تک میری دو ابتدائی فلموں کے ڈائریکٹر آر کے نیر کے ساتھ ان کی منگنی ہو چکی تھی۔

ہمارے تعلقات وقت کے ساتھ پھلتے پھولتے رہے۔ ہر چند کہ ہم ممبئی کے باندرہ علاقے میں ہی رہتے تھے تاہم ہم مشکل سے ہی مل پاتے تھے۔

مگر فون کے ذریعہ اور بعد میں موبائل پر میسج کے ذریعے بات کرتے رہتے تھے یا ہمیں ایک دوسرے کی خیریت کا پتہ ہمارے خاندانی ڈاکٹر سری کانت گوکھلے سے ملتی رہتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ramanand Sagar

یہ ڈاکٹر گوکھلے ہی تھے جنھوں نے مجھے یہ خوش کن خبر سنائی تھی کہ ان کی صحت میں بہتری ہے اور وہ اس بیماری سے نجات حاصل کر رہی تھیں جس سے وہ دوچار تھیں۔ میں ان کے ارادے اور صبر سے متاثر تھی۔

میں چپکے چپکے ان کی صحت کے لیے دعا کرتی رہتی۔

ایک ذاتی زندگی پسند کرنے والے شخص کی حیثیت سے میں ان کی خواہش کا احترام کرتی تھی اور اسی لیے ان کے گھر جا کر ان کی صحت کے بارے میں بار بار دریافت نہیں کرتی تھی۔ جب ہم فون پر بات کرتے تو لگتا تھا کہ وہ صحت مند اور خوش تھیں اور اس سے مجھے بھی خوشی ملتی تھی۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہم ان کی جائداد کے متعلق جاری عدالتی مقدموں کے بارے میں باتیں کرتے تھے۔ تب لگتا تھا کہ یہ کتنا صبر آزما اور تھکا دینے والا مرحلہ تھا۔

میں نے انھیں اپنی طرف سے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا تھا کیونکہ میں خود ایک طویل عدالتی معاملے میں الجھی تھی اور اس کی وجہ سے تقریبا قانون کی ماہر بن گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سادھنا فلموں کے بعد کسی بھی تقاریب میں کم ہی نظر آتی تھیں

’وہ انڈسٹری کی بہترین اداکارہ تھیں اور ان کے چاہنے والے ان کی اداکاری کی صلاحیت اور سکرین پر ان کی موجودگی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔

بطور خاص ان کا سب کچھ بیان کرنے والا چہرہ جس کی پیشانی پر ایک لٹ گری رہتی تھی اور ان کا ہیئر سٹائل جو کبھی ان کے مداحوں کے درمیان تیزی سے مقبول ہوا تھا۔

ان کی روح کو سکون ملے۔۔۔ آمین

اسی بارے میں