ہو مَن جہاں میں تو من بالکل نہیں لگا

پاکستانی فلم ’ہو من جہاں‘ کہانی ہے بزنس کی تعلیم حاصل کرنے والے تین دوستوں منیزے (ماہرہ خان) ارحان (شہریار منور) اور نادر (عدیل حسین) کی جنھیں موسیقی سے لگاؤ ہے اور انھوں نے ایک میوزک بینڈ بھی بنا رکھا ہے۔ وہ اسی میں نام کمانا چاہتے ہیں۔

منیزے اور نادر ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں جبکہ ارحان ایک نالائق لڑکا ہے جو پڑھائی پردھیان نہیں دیتا اسی لیےگھر میں والد کی جھڑکیاں سنتاہے، اسےصرف موسیقی ہی سےلگاؤ ہے۔

ماہرہ کی والدہ (نمرہ بچہ) ایک مصورہ ہیں جنھوں نے منیزے کو آزادی دے رکھی ہے اور وہ اپنے شوہر(جمال شاہ) سے علیحدہ رہتی ہیں۔ دونوں میں موسیقی اور مذہبی رجحانات کے باعث علیحدگی ہو گئی تھی جبکہ نادر اپنے والدین یعنی بشریٰ انصاری اور ارشد محمود کا اِکلوتا بیٹا ہے۔

مگریہ فلم نہ توموسیقی کےبارے میں ہےاور نہ ہی موسیقاروں کےبارے میں، یہ فلم اپنے خواب کی تکمیل اوراس کی راہ میں حائل معاشرتی رکاوٹوں پرمبنی ہے۔

اس فلم میں ڈائریکٹرعاصم رضانےوالدین کی جانب سےاپنے بچوں کی زندگی پر کنٹرول کے مسئلے کواٹھایا ہے۔

سونیاجہاں نےایک خودمختار درمیانی عمرکی خاتون ’سبینا‘ کا کردار نبھایا اگرچہ اس کردار میں ان کے پاس کام کرنے کازیادہ موقع نہیں تھا مگر انھوں نے اپنی مقناطیسی شخصیت کا گہرا اثر چھوڑا۔ اگرچے اُن کے اور ارہان کےدرمیان تعلق کو کبھی واضح نہیں کیاگیا اور یہ فلم کی اَن کہی داستان تھی۔

فلم کی کہانی بھارتی فلم ’دل چاہتاہے‘ سے مماثلت رکھتی ہے۔

عاصم رضانےاس کے دفاع میں کہا کہ وہ مرد اور عورت کے درمیان کسی جسمانی تعلق کو دکھانے سے اجتناب کرتے ہیں جواُن کے بقول خواتین کی عزت کوملحوظِ خاطر رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

اس فلم کا سب سے عمدہ سین وہ تھا جب ماہرہ خان اپنے والد کو سمجھاتی ہیں کہ ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے ۔ یہاں مذہب اور موسیقی کے معاملے کواچھے طریقے سے پیش کر کے برداشت اور رواداری کا پیغام دیاگیا۔

بیشتًر پاکستانی فلموں کی طرح اس فلم کی سب سےکمزور عنصر اس کا سکرپٹ تھا۔

بات کہیں جگہ پر طویل ہوئی لیکن ماہرہ خان نےاپنی کرشماتی شخصیت سےاس کمزوری پر قابو پانےکی بھرپور کوشش کی۔

عدیل اور شہریار کئی مقامات پراپنے کرداروں سے باہ رنظر آئے خاص کر ایک سین میں عدیل گھر آ کر شرابی کی طرح حرکتیں کرتا ہے اس وقت وہ سین سے باہر محسوس ہوا۔

فلم میں کئی اداکاروں، خاص کر کے ہیروئن کے کلوزاپ شاٹس کی بھرمار تھی اور ایک زوایے کا شاٹ کئی کئی بارمختلف سین میں نظرآیا۔

فلم میں مزاح کی کمی شدت سے محسوس ہوئی اگرچہ کالج کے طالبِ علم ہونے کے ناطے کرداروں سے چھیڑ چھاڑ اور جملے بازی کی توقع تھی۔

فلم میں حمزہ علی عباسی ، فواد خان، زوہیب حسن اور سائرہ شہروز سمیت مہمان اداکاروں کی بھی بہتات تھی۔

ایک بار پھر دیگر پاکستانی فلموں کی طرح ہمیں کوکاکولا کے اشتہارکو کثرت سے جھیلنا پڑا۔ فلم کے شروع ہی میں ایک گانے میں کوک کا اشتہار تھا۔ پھروقفے وقفےسےکوک پیتے پلاتےدیکھا گیا اور آخر میں پورا کوک اسٹوڈیو ہی آگیا۔

یہاں پریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر فلم بین ٹکٹ خرید کر اشتہار کیوں دیکھیں؟

فلم کی موسیقی میں سوائے ’شکر ونڈا‘ کے کوئی گانا قابلِ ذکر نہیں ہے۔

پونے تین گھنٹے کے دورانیہ کی یہ فلم تقریباً دس کروڑ روپے تیار کی گئی ہے اور یکم جنودی سے ایسے پاکستان سمیت برطانیہ ، امریکا ، کینیڈا اور مشرقِ وسطیٰ میں ریلیز کیا گیا ہے۔

پہلی فلم کے لحاظ سے ایسے عاصم رضا کی مناسب کوشش کہا جاسکتا ہے مگر یہ مسافت اس فلم ہی کی طرح طویل ہوگی بس ذرا من لگانا ہوگا کیونکہ اس فلم میں تو من بالکل نہیں لگا۔

اسی بارے میں