کامیابی کے زینے اترنا کتنا تکلیف دہ؟

Image caption انکریڈیبل انڈیا یعنی حیرت انگیز ہندوستان بھارتی حکومت کی سیاحت کو فروغ دینے کی مہم ہے اور عامر خان ایک عرصے تک اس سے منسلک رہے

بالی وڈ کے سپر سٹار عامر خان کی جانب سے ملک میں عدم رواداری کے تعلق سے ان کے بیان پر تنقید اور تائید کا سلسلہ تو ختم ہوا لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے اثرات اب واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ عامر خان اب ’انکریڈیبل انڈیا‘ یا حیرت انگیز ہندوستان مہم کے برانڈ ایمبیسڈر نہیں رہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے ان کا معاہدہ میک کین ورلڈ وائڈ ایجنسی کے ساتھ تھا۔ اس ایجنسی نے اس کام کے لیے عامر کو منتخب کیا تھا۔ اب اس ایجنسی کے ساتھ معاہدہ ختم ہو چکا ہے۔ وزارت نے عامر خان کو ملازمت پر نہیں رکھا تھا۔‘

بالی وڈ راؤنڈ اپ سننے کے لیے کلک کریں

عامر کے معاہدے کی مدت ختم ہو گئی ہے اس لیے اب وہ اس مہم کا حصہ نہیں ہیں۔ اب اس مہم کے لیے امیتابھ بچن کا نام لیا جا رہا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ’انکریڈیبل انڈیا‘ مہم کے برانڈ ایمبیسڈر کے معاہدے کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے عامر نے تو کہہ دیا کہ وہ اس مہم کے سفیر ہوں نہ ہوں لیکن انڈیا انکریڈیبل ہے اور ہمیشہ رہے گا تاہم حکومت کے اس فیصلے کے بعد کچھ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا انڈیا واقعی انکریڈبل ہے یا پھر ملک میں عدم برداشت کی یہ ایک اور مثال ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ universal
Image caption سنی دیول کی کامیاب فلموں میں بیتاب، سوہنی مہیوال، گھایل وغیرہ شامل ہیں

بالی وڈ سے ایک دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ اداکار سنی دیول کا خیال ہے کہ فلموں کا ری میک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فلم کے کرداروں اور کرشموں کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جا سکتا اور ری میک میں وہ بات آ ہی نہیں سکتی جو اصل فلم کی جان ہوتی ہے۔

اب سنی پا جی سے کوئی پوچھے کہ بھائی یہ خیال آپ کو اپنی فلم گھائل ریٹرن بنانے کے بعد ہی کیوں آیا؟ یا پھر آپ اپنی غلطی کی تلافی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟

خیر جلدی ہی دیکھیں گے کہ ’گھائل ریٹرن‘ میں سنی پا جی کیا کرشمہ کرنے والے ہیں جو دوسرے فلمساز نہیں کر پائے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Zeenat Aman
Image caption زینت امان کی فلموں میں ستیم شیوم سندرم، ہرے راما ہرے کرشنا، انصاف کا ترازو اور ہیرا پنا وغیرہ شامل ہیں

دنیا کا چلن ہے کہ لوگ چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں اور بالی وڈ بھی اس سے اچھوتا نہیں ہے یعنی جو بکتا ہے وہی دکھتا ہے۔

حال ہی میں ایک ایوارڈ فنکشن میں ماضی کی اول درجے کی اداکارہ زینت امان کو ’ٹائم لیس دیوا‘ ایوارڈ دیا گیا۔ جیسے ہی زینت امان نے سٹیج پر آ کر تقریر شروع کی ویسے ہی فنکشن میں سلمان خان داخل ہوئے پھر کیا تھا لوگ ان کے استقبال میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک ہلچل سی مچ گئی۔

اور جب تک سلمان اپنی سیٹ پر بیٹھتے تب تک زینت امان اپنی تقریر ختم کر چکی تھیں جو شاید ہی کسی نے سنی ہو۔

کہتے ہیں کہ سیڑھیاں چڑھنا مشکل اور اترنا آسان ہوتا ہے لیکن شو بز میں کامیابی کی سیڑھیاں اترنا کتنا مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے یہ کوئی زینت امان سے پوچھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Raindrop media
Image caption آفتاب شیو دسانی نے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر فلموں میں قدم رکھا تھا

بالی وڈ میں معصوم چہرے کے ساتھ بالغ کامیڈی کے ماہر آفتاب شیو دیسانی نے اس صنف میں اپنی ایک الگ پہچان بنا لی ہے جن میں فلم ’مستی، ’گرینڈ مستی‘ شامل ہیں اور آج کل وہ ’گریٹ گرینڈ مستی‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

آفتاب جلد ہی فلم ’کیا کول ہیں ہم تھری‘ شروع کرنے والے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ آفتاب کی بیگم اس بات سے خوش نہیں ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ اب آفتاب کو اس طرح کی فلمیں چھوڑ کر دوسرے قسم کی فلمیں بھی کرنی چاہییں۔ویسے آفتاب کو چاہیے کہ وہ اپنی بیگم کو سمجھائیں کہ دوسری قسم کی فلمیں کہاں سے لاؤں اس طرح کم از کم کام تو مل رہا ہے اور ویسے بھی کچھ نہ ہونے سے کچھ تو بہتر ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AnupamPkher
Image caption انوپم کھیر گذشتہ دنوں عدم روادری کے معاملے پر پیش پیش نظر آئے

اداکار انوپم کھیر نے جہاں عامرخان، سلمان خان اور شاہ رخ کے ساتھ کئی فلموں میں کام کیا اور نام کمایا وہیں حال ہی میں شاہ رخ خان اور عامرخان کے عدم برداشت پر جاری ہونے والے بیانات پر تیکھا ردِ عمل دے کر سوشل میڈیا پر بھی خوب نمبر حاصل کیے جس کے نتیجے میں اب ٹوئٹر پر 60 سالہ انوپم کھیر کے 60 لاکھ فالوورز ہو گئے ہیں۔

اس موقعے پر انوپم کھیر نے اپنے تمام مداحوں ، فالوورز اور ناقدین کا شکریہ ادا کیا لیکن وہ شاہ رخ اور عامر کا شکریہ ادا کرنا بھول گئے جن کی شہرت کے گھوڑے پر سوار ہوکر انھیں یہ مقام حاصل کیا ہے۔ ویسے انوپم کھیر پر یہ مثال صادق آتی ہے کہ ’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔‘

اسی بارے میں