فلموں کے مناظر سنسر کرنا درست نہیں: شیام بینیگل

Image caption شیام بینیگل نے ’انکر‘، ’نشانت‘، ’منتھن‘ اور ’بھومیکا‘ جیسی فلموں سے بھارت میں ایک نئی تحریک شروع کی

بھارت کے معروف ہدایتکار شیام بینیگل کا کہنا ہے کہ فلموں کے مناظر کاٹ دینے سے فلم بنانے والے کی تخلیقی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

بھارت میں اطلاعات و نشریات کی وزارت نے شیام بینیگل کی صدارت میں سینسر بورڈ کی ایک نئی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

شیام بینیگل نے بی بی سی کے واتسلیہ رائے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلموں کو سینسر نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کی ’گریڈنگ‘ یا درجہ بندی کرنا چاہتے ہیں۔

شیام بینیگل نے کہا: ’یورپ کی طرح بھارت میں بھی فلموں کی گریڈنگ کی بات ہو رہی ہے، یعنی کون سی فلم کس طرح کے ناظرین کے لیے بنائي گئی ہے۔ اس کے لیے ناظرین کی عمر کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔‘

شیام بینیگل نے کہا کہ اطلاعات و نشریات کی وزارت نے جو کمیٹی بنائی ہے، اس کی پہلی میٹنگ میں وزارت اور اس کے وزیر کی طرف سے کمیٹی کو مختصر طور پر معلومات فراہم کی گئی ہے۔

شیام بینیگل کے مطابق: ’کمیٹی دو ماہ میں حکومت کو ایک رپورٹ سونپے گی۔ لیکن اس سے پہلے اسے اس پورے کام کا مطالعہ کرنا ہے جن کے تحت گذشتہ چند برسوں کے دوران فلموں کو سرٹیفیکیٹ دی گئی ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ shyam benegal
Image caption شیام بینیگل کی معروف فلموں میں سورج کا ساتواں گھوڑا، ممو، زبیدہ اور ہری بھری بھی شامل ہے

فلموں کو سرٹیفکیٹ دینے کے سلسلے میں کئی قسم کی رپورٹ پہلے بھی تیار کی گئی ہیں اور بینیگل کے مطابق کمیٹی ان کو بھی سامنے رکھے گی۔

شیام بینیگل کا خیال ہے کہ ’سنسر شپ کا مطلب یہ ہے کہ آپ بعض چیزوں کو روکنا چاہتے ہیں یا ہٹانا چاہتے ہیں۔ یہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہر فلم تمام طرح کے ناظرین کے لیے نہیں ہوتی ہے۔‘

گذشتہ دنوں بھارت میں عدم رواداری پر جو تنازع سامنے آیا اس کے بارے میں شیام بینیگل نے کہا تھا: ’ہمارا ان سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ہماری کمیٹی کا کام ان سے بہت مختلف ہے۔‘

خیال رہے کہ شیام بینیگل نے ’انکر‘، ’نشانت‘، ’منتھن‘ اور ’بھومیکا‘ جیسی فلموں سے بھارت میں ایک نئی تحریک شروع کی۔

اسی بارے میں