’چینلز آ گئے لیکن تکنیکی عملہ نہیں‘

Image caption ’میں ایسا ایک نیوز چینل تشکیل دینا چاہتی ہوں جہاں تمام صحافیانہ اقدار کو مدِنظر رکھاجائےگا‘

پاکستان کے سب سے بڑے نجی تفریحی چینل ہم ٹی وی کی سربراہ سلطانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری میں بہت جلدی سے چینلز وغیرہ تو آگئے لیکن تکنیکی باریکیوں کو دیکھنے سمجھنے والا عملہ نہیں ہے۔

سلطانہ صدیقی نےیہ بات بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ملک کی ڈرامہ انڈسٹری کو درپیش مسائل کے بارے میں کہا۔

انھوں نے کہا کہ ’عملے کے علاوہ ہمارے پاس زیادہ اداکار نہیں ہیں اور جوتھوڑے بہت ہیں، انہیں جب تیار کرتے ہیں تو وہ اتنے زیادہ پیسے مانگتے ہیں جس کی وجہ سے چینلز کہہ لیں یا پروڈیوسرز کہہ لیں کہ وہ پھنستا چلاجاتا ہے۔ چینلز کی تعداد بڑھ جانے کی وجہ سےمقابلہ اتنا ہے کہ اُسے واپس اپنے پیسے تو نہیں ملیں گے۔‘

سلطانہ صدیقی نے کہا کہ وہ ایک نیوز چینل کھولنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

’جس طرح میں نے ’ہم ٹی وی’ کی شکل میں لوگوں کوایک خالص تفریحی چینل فراہم کیا، میں ایسا ہی ایک نیوز چینل تشکیل دینا چاہتی ہوں جہاں تمام صحافیانہ اقدار کو مدِنظر رکھاجائےگا۔‘

’میں پاکستان کا ایک بہتر اور مثبت چہرہ دکھاناچاہتی ہوں۔ میرا خود سے بھی یہ سوال ہے کہ آیا جہاں لوگوں کو ان نیوز چینلز پہ لوگوں کو لڑتے دیکھنے کی عادت ہوگئی ہو وہاں کوئی مختلف چینل کامیاب ہو پائےگا۔ لیکن مجھےلگتا ہے کہ جب آپ ایک صاف چیز لوگوں کو دیتے ہیں تو اسے قبول کرنے میں تھوڑا وقت ضرور لگتا ہے لیکن وہ کام پائیدارہوتا ہے۔‘

پاکستان میں خالص تفریحی چینلز کے تجربوں کے بعد کیا وہ مقامی نیوز چینلز جیسا مزاج اپنا پائیں گی کے جواب میں انھوں نے کہا ’نیوز انڈسٹری میں میری کسی سے بات ہورہی تھی تو کسی نہ کہا کہ کچھ لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہے وہ تو صرف اس وجہ سے نیوز چینل نکالتے ہیں کہ تکلیف اور پریشانی والی خبروں کامعاوضہ زیادہ ہے۔ میں ایسا کوئی معاوضہ نہیں چاہتی۔‘

پاکستان میں تقریباً دو دہائیوں کے بعد اب ٹیلی ویژن پر ڈراموں نے اپنی مقبولیت بحال کی ہے۔ نجی ٹی وی چینلز کی بہتات کے باوجود یہ خیال عام تھا کہ معیاری ڈراموں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ وجہ بھارت اور پھرترکی کے ڈراموں کی مقبولیت تھی لیکن پھر پاکستان کے مقامی ڈراموں میں مقابلے کا رجحان بڑھا۔

اب نجی چینلز میں سب سے زیادہ ڈرامے ہم ٹی وی کے پسند کئے جاتے ہیں جس نےخاص طور پر خواتین کو اسٹار پلس کے سحر سے نکالا۔

اس بارے میں سلطانہ صدیقی کہتی ہیں’پاکستان میں بہت اچھے ڈرامے بن رہے ہیں اور نہ صرف پاکستان میں بلکہ بھارت سمیت جہاں جہاں اردو بولنے والے لوگ ہیں وہاں ان کو پسند کیا جا رہا ہے۔ اگر بھارت ہی کو لیں تو وہ خود کہتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنے موضوعات اور اس طرح کے ڈرامے نہیں ہیں جتنے کہ پاکستان کے پاس ہیں۔ تو مواد بہت اچھا ہے۔‘

سلطانہ صدیقی کے خیال میں’میڈیا کی صنعت اُسی وقت بھر پور طریقے سے پھل پھول سکتی ہے جب پاکستان میں فن اور تکنیکی کام سیکھنے سکھانے کے لیے بہت سے ادارے قائم ہوجائیں گے۔ اس سے نہ صرف فنکار بلکہ پوری میڈیا انڈسٹری، جس میں صحافت بھی آتی ہے، کو فائدہ ہوگا جس کے لیے تربیت یافتہ لوگ سامنے آسکیں گے۔‘

اسی بارے میں