آسکرز 2016 پر جارج کلونی کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption دو آسکر انعام جیتنے والے کلونی کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اس میں بہتری کرنی ہوگی‘

اس سال کے آسکر ایوارڈز میں تنوع کی کمی کی وجہ سے کھڑے ہونے والے تنازعات کے سلسلے میں آسکر ایوارڈ جیتنے والے اداکار جارج کلونی نے اکیڈمی ایوارڈز پر’غلط راستے پر جانے‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

’آسکر نامزدگیوں میں تنوع کی کمی نے دل توڑ دیا‘

سیاہ فاموں کو نظرانداز کیے جانے پر آسکرز کا بائیکاٹ

یہ وہ دوسرا سال ہے جس میں کسی بھی سیاہ فام یا اقلیت سے تعلق رکھنے والے اداکار کو ایوارڈز میں اداکاری کے چار زمروں میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

سٹار وارز میں کارکردگی دکھانے والی اداکارہ لوپیتا یونگو نے کہا کہ وہ نامزدگیوں ’میں شمولیت کی کمی کی وجہ سے مایوس‘ ہوئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لوپیتا یونگو نے گذشتہ سال کی آسکرز کی تقریب میں ’بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس‘ کا انعام حاصل کیا تھا

آسکرز دینے والی اکیڈمی آف موشن پکچرز کی سربراہ چیرل بُون آئزیکس نے ان ایوارڈز کی رکنیت کے’خدوخال کی تبدیلی‘ کا وعدہ کیا ہے۔

کئی اداکاروں نے آسکرز کی تقریب میں شریک نہ ہونے کا اعلان بھی کیا ہے۔

دو آسکر انعام جیتنے والے کلونی نے کہا کہ: ’ہمیں اس میں بہتری کرنی ہوگی۔ ہم پہلے اس میں بہتر ہوا کرتے تھے۔‘

گذشتہ سال کی آسکرز کی تقریب میں ’بہترین معاون اداکارہ‘ کا انعام حاصل کرنے والی لوپیتا یونگو نے انسٹا گرام پر لکھا کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کھڑی ہیں جو ’تبدیلی کا مطالبہ‘ کر رہے ہیں۔‘

برطانوی ڈائریکٹر سٹیو مکوین نے، جن کی فلم ’ ’12 ایئرز اے سلیو‘گذشتہ سال سب سے بہترین فلم کا آسکر انعام حاصل کیا تھا، کہا کہ سیاہ فام اداکاروں کو ایک ’مناسب موقع‘ دیا جانا چاہیے۔

ورائٹی میگزین سے بات کرتے ہوئے جارج کلونی نے کہا: ’اگر آپ 10 سال پہلے کے حالات یاد کریں، تو اکیڈمی بہتر کام کر رہی تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’آپ سوچیں کہ تب کتنے زیادہ سیاہ فام لوگوں کو نامزد کیا گیا تھا۔ میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کس کو نامزد کیا جا رہا ہے بلکہ یہ کہ اقلیتوں کو اچھی فلموں میں کام کرنے کے کتنے مواقعے دیے جاتے ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Netflix
Image caption کلونی کا کہنا ہے کہ فلم ’کریڈ‘ کو زیادہ نامزدگیاں ملنی چاہیے تھیں

کلونی نے مزید کہا کہ سیاہ فام امریکیوں کا یہ کہنا بالکل جائز ہے کہ ’فلم انڈسٹری ان کی عکاسی صحیح طریقے سے نہیں کر رہی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس سال میں ریلیز ہونے والی فلموں ’کریڈ، کونکاشن، بیسٹس آف نو نیشن اور سٹریٹ آؤٹہ کامپٹن‘ کو زیادہ نامزدگیاں ملنی چاہیے تھیں۔‘

کلونی نے کہا: ’مجھے لگتا ہے کہ سنہ 2004 میں زیادہ سیا فام لوگوں کو نامزد کیا گیا تھا جن میں ڈان چیڈل اور مورگن فریمین جیسے ادا کار شامل تھے۔ اب اچانک یہ لگتا ہے کہ ہم نے غلط راستہ پکڑ لیا ہے۔‘

ہالی وڈ کے ہدایت کار سپائیک لی اور اداکارہ جاڈا پنکٹ سمتھ نے بھی کہا ہے کہ وہ آسکر ایوارڈز کے لیے زیادہ تر سفید فام فنکاروں کی نامزدگیوں کی وجہ سے آئندہ ماہ ان ایوارڈز کی تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔

لی نے انسٹاگرام پر کہا کہ وہ ’للی وائٹ ایوارڈ شو کی حمایت نہیں کر سکتے۔‘

اکیڈمی میں فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے چھ ہزار تین سو اراکین شامل ہیں جو ہر برس آسکرز کی نامزدگیوں کو چنتے ہیں۔

اسی بارے میں