متنازع انٹرویو کے بعد سنی لیون کی حمایت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنی لیون کا اصلی نام کیرن ملہوترا ہے جنھیں امریکہ کی پورن انڈسٹری میں انتہائی شہرت ملی تھی

بالی وڈ کی ایک اداکارہ کی نئی فلم ریلیز ہوتی ہے اور وہ بھارت کے ایک مشہور میزبان کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو کرتی ہیں۔ تو پھر اس میں خرابی کی کیا بات ہو سکتی ہے؟

بہت کچھ، جب انٹرویو دینے والی اداکارہ سنی لیون ہوں۔

’سنی کے اشتہار سے ریپ میں اضافے کا اندیشہ‘

فلمی مکالمے پر سنی دیول کے خلاف ایف آئی آر

کینیڈا سے تعلق رکھنے والی سابق پورن سٹار بھارت میں ایک انتہائی متنازع شخصیت سمجھی جاتی ہیں جہاں گذشتہ کچھ برسوں میں وہ ملک کی سب سے زیادہ گوگل پر تلاش کی جانی والی شخصیت بھی رہ چکی ہیں۔

لیکن اس معاملے میں بری شہرت سنی لیون نے نہیں حاصل کی بلکہ ان کے بجائے ایک تجربہ کار میزبان بھوپندر چیاؤبے کے حصے میں آئی جسے سنی لیون کے انٹرویو کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

کئی مبصرین نے کہا ہے کہ ان کا انٹرویو ’عورتوں سے نفرت انگیز رویہ‘ جھلک رہا تھا۔دریں اثنا بھوپیندر کے سوالات کے رد عمل میں اپنے پرسکون اور مہذب انداز سے نمٹنے کے طریقے پر سنی لیون کی تعریف کی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بالی وڈ کی دیگر اداکاروں نے سنی لیون کے ساتھ حمایت ظاہر کی ہے

اس انٹرویو کے بعد سنی لیون نے اتنی حمایت حاصل کی کہ ان کی طرف سے فیس بک پر ایک ویڈیو شائع کی گئی جس میں انھوں نے لوگوں کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ اس ویڈیو کے شائع ہونے کے بعد پہلے گھنٹے میں ہی اسے دو لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

انٹرویو شروع کرتے ہوئے بھوپندر چاؤبے نے سنی لیون سے پوچھا کہ انھیں کس چیز کا سب سے زیادہ پچھتاوا ہے۔ اس سوال کے بارے میں بڑے پیمانے پر کہا جا رہا ہے کہ یہ اداکارہ کے ماضی کے بارے میں تھا جب وہ پورن سٹار تھیں۔

جب اپنے جواب میں لیون نے کہا کہ انھیں سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ وہ اپنی والدہ کے انتقال سے پہلے ان کے پاس نہیں پہنچ سکیں تو چاؤبے نے دوبارہ اپنا سوال دہرایا، جس بات سے یہ واضح ہو گیا کہ وہ اصلی میں لیون کی ماضی کی زندگی کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے۔

اور وہیں سے کئی ناظرین کے لیے پروگرام خراب سے خراب تر ہوتا گیا۔

فیس بک کے ایک صارف نے لکھا: ’اتنا بُرا انٹرویو! مجھ سے کچھ منٹ کے بعد تو یہ دیکھا ہی نہیں گیا۔ پرسکون رویہ اختیار کرنے پر میں سنی لیون کو داد دیتی ہوں۔ مجھے ذاتی طور پر وہ لوگ زہر لگتے ہیں جنھیں ہمیشہ یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ’زیادہ عظیم‘ ہیں۔‘

ایک دیگر شخص نے لکھا کہ ’سنی لیون ایک سمجھدار خاتون لگ رہی تھیں۔ میں ان کے پیشے یا طرز زندگی کے انتخاب کی حمایت نہیں کر رہا ہوں لیکن ایسے لگتا ہے جیسے انھوں نے اپنے ماضی کو اپنے ذہن پر دباؤ ڈالنے نہیں دیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter Sunny Leone
Image caption بالی وڈ سپر سٹار نے بھی سنی لیون کے ساتھ حمایت ظاہر کی ہے

انٹرویو میں چاؤبے نے پوچھا کہ: گذشتہ چار برسوں میں ’پورن ہب‘ سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق جب سے آپ قومی دھارے کے سینیما میں تشریف لائی ہیں تب سے بھارت میں پورن دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی اتنا اضافہ ہوا ہے کہ ہم پورن دیکھنے والے سب سے بڑی قوم ہیں۔ ان دونوں چیزوں کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق ہے؟‘

سنی لیون نے اپنے جواب میں کہا کہ ’نہیں، کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

چاؤبے نے پھر کہا کہ کچھ بھارتی شہریوں کا یہ بھی خیال ہے کہ سنی لیون کی ایک ہی فلم محض دیکھنے سے ہی ایک شخص کرپٹ ہو سکتا ہے۔

انھوں نے پوچھا: ’میں تو یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ آپ کو انٹرویو کرنے کے دوران کیا میں بھی اخلاقی طور پر کرپٹ ہو رہا ہوں؟‘

سنی لیون نے بڑے پر سکون انداز سے جواب دیا کہ ’اگر آپ چاہتے ہیں تو میں چلی جاتی ہوں۔‘

اس انٹرویو کے بعد بالی وڈ کے کچھ اداکاروں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 2011 میں سنی لیونی بھارتی شو ’بگ باس‘ میں دکھائی دیں جس کے بعد انھیں بالی وڈ کے مرکزی دھارے میں شہرت حاصل کرنے کا موقع ملا تھا

سوشل میڈیا کے مزاح نگار رامیش سریوت نے ٹوئٹر پر اپنے چار لاکھ 67 ہزار فالوئرز سے کہا: ’میں نے ٹی وی پر ابھی ایک انٹرویو دیکھا ہے جس میں ایک بےہودہ انسان دیکھا جا سکتا ہے جو تمام مہذب اقدار کے لیے خطرہ ہے۔ اور سنی لیون کے لیے بھی۔‘

تو کیا چاؤبے نے واقعی چھوٹا منھ بڑی بات کر دی تھی؟ کیا ان کے سوالات کے بعد دیکھے جانے والا منفی ردعمل بھارتی معاشرے میں خواتین کے حوالے سے رویوں میں تبدیلی کی نشاندہی ہے؟

اپنے دفاع میں چاؤبے نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ان کا کوئی حتمی رائے دینے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ انھوں نے’سوال پوچھ کر صرف اپنا کام کیا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ سنی لیون سے متعلق ان مسائل کے بارے میں بات کر رہے تھے جو کئی بھارتی لوگوں کو ان کے حوالے سے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’میرا مدعا یہ ہے کہ اس ملک میں ماہرین اخلاقیات کسی کے بارے میں کوئی بھی رائے دے دیتے ہیں اور میں ان میں سے ایک نہیں بننا چاہتا۔‘

سنی لیون کا اصلی نام کیرن ملہوترا ہے جنھیں امریکہ کی پورن انڈسٹری میں انتہائی شہرت ملی تھی۔

لیکن سنہ 2013 میں پورن فلموں سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد بالی وڈ میں کام کرنے کے بارے میں ان کے اعلان سے پہلے ہی انھوں نے بھارت کے مرکزی دھارے میں فنکار کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

سنہ 2011 میں وہ بھارتی شو ’بگ باس‘ میں دکھائی دیں جس کے بعد انھیں بالی وڈ کے مرکزی دھارے میں شہرت حاصل کرنے کا موقع ملا تھا۔

اسی بارے میں