بالی وڈ کے پرانےگانوں کی پراسرار کشش

Image caption ریکارڈ جب چلایا جاتا ہے تو اس میں سے سسکارنے کی آواز آتی ہے

بالی وڈ کے پرانے نغموں کے علاوہ کم ہی ایس چیزیں ہیں جن کی وجہ سے میں اپنے بچپن کو یاد کر کے اداس ہوجاتی ہوں۔

حال ہی میں مجھے معلوم ہوا کے میری خالہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ماجرا ہے۔

ان کے بقول وہ جب بھی 1950 کی دہائی کے گانے سنتی ہیں تو ان کی بیش قیمت اور تکلیف دہ یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔

میرے خاندان کے پاس کم ہی یادگاری چیزیں ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی ایسا فرنیچر یا زیورات نہیں ہیں جو نسل در نسل خاندان میں چلے آ رہے ہوں۔

میرے والدین کے خاندانوں کے پاس جو تھوڑا بہت سامان تھا وہ سب 1947 کے بٹوارے کے دوران گم ہوگیا تھا۔

اس لیے جب بھی میں اپنی یادیں تازہ کرنا چاہتی ہوں تو میں ایک ہی طریقہ اختیار کرتی ہوں۔

میرے فلیٹ کی الماری میں 1950 کی دہائی کے ریکارڈ جنھیں ’ایل پی‘ کہا جاتا ہے پڑے ہوئے ہیں جن میں بالی وڈ کے مشہور نغمے ہیں۔

ان میں سے کچھ میرے والدین کے ہیں جو انھوں نے 1974 میں نیویارک ہجرت کرنے کے بعد وہیں سے خریدے تھے۔ میں نے ایک دھول زدہ انڈین ایل پی کاسا بلانکا ایک قدیم چیزوں کی دکان سے بھی خریدا تھا۔

مجھے ان پرانے ریکارڈوں کی شکل بہت پسند ہے۔

ریکارڈ جب چلایا جاتا ہے تو اس میں سے سسکارنے کی آواز آتی ہے اور ریکاڈ کو گھومتے دیکھ کر انسان کو پرسکون نیند آنا شروع ہو جاتی ہے۔

میں جب بھی ریکارڈ سنتی ہوں تو میں اس دور میں چلی جاتی ہوں جب میں ایک چار سال کی بچی تھی۔ ریکارڈ سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں اس کی آواز میں ڈوب گئی ہوں، میں باقی تمام کام بھول جاتی ہوں۔

دہلی کے وسط میں ابھی بھی ایسی جگہیں ہیں جہاں ریکارڈوں کے ’خزانے‘ موجود ہیں۔

’نیوگرامو فون‘ نامی ریکارڈوں کی تنگ وتاریک دوکان میں بھی ریکارڈز کا ایک نایاب خزانہ ہے۔ اس چھوٹی سی دوکان میں تقریباً دو لاکھ پرانے ریکارڈ ہیں۔

Image caption ریکارڈ خریدنے کا رحجان کم ہوتا جا رہا ہے

اس دکان کے مالک انوج راجپال کا خاندان 1930 سے ریکارڈ بیچ رہا ہے۔ان کا خاندان بھی 1947 کے بٹوارے کے بعد دہلی منتقل ہوا تھا لیکن یہ لوگ اپنے ساتھ ریکاڈوں سے بھرا ایک ٹرک بھی لائے تھے۔

آج ان کے گاہکوں میں زیادہ تعداد میرے جیسے درمیانی عمر کے افراد کی ہے جو ان ریکارڈوں کو سن کر اپنی یادیں تازہ کرتے ہیں۔

میں نے اس دکان سے دو ریکارڈ خریدے اور احتیاط سے انھیں پیک کروایا۔

کچھ دن قبل میری خالہ مجھ سے ملنے آئیں تو ہم نے ساتھ بیٹھ کر ریکارڈ سنے۔

جب ہم ریکارڈ سن رہے تھے تو میں اپنی خالہ کی آنکھوں میں پرانی یادیں دیکھ سکتی تھی۔

اگلے کچھ گھنٹوں تک ہم بیٹھ کر پرانے گانے سنتے رہے اور میری خالہ مجھے اپنے بچپن کی کہانیاں سناتی رہیں۔

ہم نے مختلف ادوار کے گانے سنے لیکن میری خالہ کو ساٹھ کی دہائی کے گانے زیادہ پسند آئے۔

ہم تین گھنٹے تک ریکارڈز سن کے محظوظ ہوتے رہے اس دوران ہم نے کئی برِاعظموں کا سفر کیا اور کئی نسلوں کی یادوں کو تازہ کیا۔

اسی بارے میں