لیاری کا ’باب مارلے‘ اور افریقی لاوا رقص

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے شہر کراچی کے علاقے لیاری میں افریقہ کا لاوا ڈانس بے حد مقبول ہے۔

علاقے کے افریقی نژاد آبائی پس منظر رکھنے والے خود کو بلوچ کہلوانا پسند کرتے ہیں اور مقامی لہجے میں اسے ’لیوا ڈانس‘ کہتے ہیں۔

لیاری کے ذوالفقار حُسین تقریباً 21 برس سے یہ رقص کر رہے ہیں اور کراچی میں سمندر کنارے واقع فوڈ سٹریٹ ’پورٹ گرینڈ‘ میں اپنےگروپ کے ساتھ فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

انھوں نے یہ ڈانس 1986 میں اپنے استاد ابراہیم ڈاڈا سے سیکھا تاہم ان کے انتقال کے بعد ذوالفقار حُسین نے لیوا ڈانس سیکھانے کا بیڑا اٹھایا۔

’استاد ابراہیم ڈاڈانے بتایا تھا کہ جب ڈانس کرنے جایا کرو تو کیروسن تیل اپنا لے کر جایاکرو۔اسے کسی کو نہ دو، اپنے پاس رکھا کرو۔آگ جلاتے ہوئے ہوا کا رُخ دیکھا کرو۔اس کےعلاوہ تیل منہ میں ڈالو اور فائر کرو تو سانس کو روکو۔چار پانچ چیزوں کا لازمی خیال رکھنا ہوتا ہے کیونکہ اگر ان میں ذرا بھی غلطی ہو تو جان جانے کا بھی خطرہ ہوتاہے‘۔

اس رقص کے لاوا سے لیوا ڈانس ہونے میں کئی دہائیاں لگیں اور مقامی کلچر کے اثر نے اسے اور رنگارنگ بنا دیا۔

ذوالفقار حُسین کے مطابق’یہ کام بہت زیادہ خطرے اور جان جوکھم والا ہے لیکن اس میں پیسے بہت کم ہیں۔‘

Image caption رقص کے لاوا سے لیوا ڈانس ہونے میں کئی دہائیاں لگیں اور مقامی کلچر کے اثر نے اسے اور رنگارنگ بنا دیا

افریقی لاوا ڈانس کے کراچی پہنچنے کی کہانی سناتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ’ یہ ڈانس ہمارے دادا اُستاد بابا ملنگ چارلی پاکستان لائے تھے۔وہ 1972 میں پاکستان کی طرف سے جنوبی افریقہ گئے تھےاور وہاں انہوں نے یہ فن سیکھا اور کراچی لائے۔انھوں نے وہیں سے لکڑی کے ڈول کے بنانے اور جنگلی بننے کے فن کو سیکھا۔‘

انہوں نےآبدیدہ لہجےمیں بتایاکہ بابا ملنگ چارلی اور ابراہیم ڈاڈا نے بہت سے لوگوں کو یہ فن سکھایا لیکن ان کی زندگی کسمپرسی میں گزری۔دادا استاد بابا ملنگ چارلی اب تک زندہ ہیں لیکن ان کا کوئی پُرسان حال نہیں۔

افریقہ سے لیاری کے لوگوں کے لگاؤ کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ’لیاری کے اکثر بلوچوں کے رنگ اور چہرے افریقیوں سے ملتے جلتے ہیں۔اگر لیاری والے باہر چلے جائیں تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ افریقن ہیں یا سوڈانی ہیں۔‘

ذوالفقار حُسین، لیاری میں اپنے اصل نام سے زیادہ جمائیکا کے مشہور گلوکار ’باب مارلے’ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

ان کے بقول ان کاحُلیہ باب مارلے جیسا ہوا کرتا تھا۔’اکثر شادی بیاہ اوردیگر جگہوں پر میں باب کےگانوں پر پرفارم کیا کرتا تھا۔وہ انقلابی سنگر تھے اور ان کےگانے مجھےبہت اچھے لگتے تھے۔اُس زمانے میں میرے بڑے بڑے بال ہوتے تھے۔بالوں میں چُٹیا باندھا کرتا تھا۔میں یہ اتنا کرتا تھا کہ لیاری میں میرا نام ہی’ باب ’پڑگیا‘۔

مجھے اپنی ایک پرانی تصویر دکھائی اور ہلکے سے مسکراتے ہوئے بتایا کہ’وقت کے ساتھ تبدیل ہونا پڑا۔جب شادی کا وقت آیا تو سُسرال والوں نے کہا کہ یہ آپ کیسے دکھائی دیتے ہیں بڑے بال اور چوٹیاں۔چلو آپ اپنے شوق کو زندہ رکھو مگر اپنا کچھ حلیہ تبدیل کر لو۔تو نام رہ گیا لیکن سٹائل نہیں رہا! ‘

انھوں نے بتایا کہ ان کا خاندان اس فن میں تیل اور آگ کے عمل دخل کی وجہ سے فکرمند رہتا ہے لیکن ان کے بقول یہ کام ان کی مجبوری بھی اور شوق بھی۔

Image caption ذوالفقارحُسین کی شاگردی میں مختلف عمروں کےدس نوجوان افریقی یا لیاری کے لیوا ڈانس کو سیکھ رہے ہیں

انھوں نے کہاکہ’اس فن کے ذریعے جو پیسے آتے ہیں اس سے گھر چلتا ہے، میرے بچوں کے سکول کی فیس چلی جاتی ہے۔پیٹ کی آگ میں جلنے سے بہتر ہے، میں اس آگ میں جل جاؤں‘۔

انھوں نے حتمی انداز میں کہاکہ وہ کبھی بھی اپنے بیٹے کو یہ فن نہیں سکھائیں گے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے بیٹے کی زندگی ان کی اور ان کے استادوں جیسی گزرے۔

ذوالفقارحُسین کی شاگردی میں مختلف عمروں کےدس نوجوان افریقی یا لیاری کے لیوا ڈانس کو سیکھ رہے ہیں مگر وہ ناامید ہیں کہ اس فن کا کوئی مستقبل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فن ختم تو نہیں ہوگا لیکن اگر اکیڈمیاں قائم کی جائیں اور حکومتی سرپرستی ملے تو ممکن ہے زیادہ سے زیادہ لوگ اس جانب آئیں۔

اسی بارے میں