لارنس آف عریبیہ کا خنجر باہر لےجانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ٹی ای لارنس کی چیزوں کو برطانیہ میں رکھنے کے لیے ان کے لیے برطانوی خریداروں کو ترجیح دی جا رہی ہے

پہلی جنگ عظیم میں مشرق وسطیٰ میں بغاوت کو ہوا دینے والے برطانوی سفارت کار لارنس آف عریبیہ کے سفید ریشمی لباس اور خنجر کو برطانیہ سے باہر لیےجانے پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

لارنس آف عریبیہ کے خنجر اور لباس کو ملک میں رکھنے کا فیصلہ برطانوی ثفاقت کو ملک میں رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

اس پابندی کا مقصد برطانیہ میں مقیم خریداروں کو ترجیح دینا بھی ہے۔

خنجر اور سفید لباس پر عارضی پابندی عائد کرنے والے وزیر ثقافت ایڈ ویزی کا کہنا ہے کہ ’ان تاریخی اشیا کی برطانیہ میں موجودگی بہت اہم ہے۔‘

لارنس آف عریبیہ پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک معروف سفارت کار تھے جن کے عرب رہنماؤں کے ساتھ بہت قریبی تعلقات تھا۔

لارنس مشرق وسطیٰ میں اپنے کام سے دنیا بھر میں جانے جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption لارنس پہلی عالمی جنگ کے دوران ایک معروف سفارت کار تھے

لارنس جو ایک تربیت یافتہ آثار قدیمہ کے ماہر تھے لیکن انھوں نے چھوٹے فوجی دستوں کی مدد سے ترکی کے مواصلات اور رسد کے راستوں پر کامیاب حملے کیے تھے۔

ان کے کارناموں کو ہالی وڈ نے سنہ 1961 میں اپنی فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ میں دکھایا جس میں ان کا کردار اداکار پیٹر او ٹول نے ادا کیا تھا۔

لوہے اور چاندی سے بنے ہوئے ان کے خنجر کی قیمت ایک لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ بتائی جاتی ہے۔

سفارت کار لارنس کو سنہ 1917 میں خنجر تحفے میں دیا گیا تھا جب عرب فوج نے اردن میں عقبہ کی بندرگاہ پر قبضہ کر لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption ہالی وڈ نے سنہ 1961 میں ٹی ای لارنس کی زندگی پر مبنی اپنی فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ بنائی جس میں اہم کردار پیٹر او ٹول نے ادا کیا تھا

لارنس نے یہی سفید لباس اپنی ایک مشہور تصویر میں پہنا تھا جو مصور آگسٹس جان نے بنائی تھی۔

ان کی چیزوں پر عارضی پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ’رویوئنگ کمیٹی آن دا ایکسپورٹس آف ورکس آف آرٹ اینڈ آبجیکٹس آف کلچرل انٹرسٹ‘ (آر سی ای ڈبلیو اے) کی ہدایت کے بعد لیا گیا ہے۔

آر سی ای ڈبلو اے کے چیئرمین سر ہیڈن فلپس نے کہا کہ ’لارینس کا لباس اور خنجر ان کی تصاویر، پینٹنگ اور مجسمے کے اہم حصے ہیں اور اس لیے یہ دونوں ان کی زندگی اور ہماری تاریخ کے لیے بھی اہم ہیں۔‘

اسی بارے میں