میلہ لوٹنے والے آ گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ جو لفظ ہے لٹریچر، اگر اِس کا تعلق صرف لکھنے پڑھنے سے ہے تو کراچی لٹریچر فیسٹیول کا نام بدل دینا چاہیے۔ لیکن جیسے اِس لفظ کا دامن کشادہ ہوتا جارہا ہے اور فنون کی جدید صورتوں کو بھی اِنھیں معنوں میں لیا جارہا ہے، ویسے ہی کراچی کا جشنِ ادب ایک آرٹس فیسٹیول میں بدل گیا ہے۔

یہ فیسٹیول حلقہ اربابِ ذوق کی مجلسوں سے کچھ بڑھ کر ہے کہ جہاں چند ادیب شاعر جمع ہوتے ہیں اور ایک یا کئی تحریروں پر اظہارِ خیال کرتے ہیں۔

اب لٹریچر فیسٹیولز میں فقط افسانے اور شاعری پر بات نہیں ہوتی۔ تصویر کشی، چاہے برش سے کی جائے یا کیمرے سے، پر بھی گفتگو کی جاتی ہے، حالاتِ حاضرہ پر اظہارِ افسوس کرنے والے بھی آتے ہیں، امر ہوجانے والے فن کاروں کا ذکرِ خیر بھی آتا ہے اور تاریخ کے گڑے مردے بھی اکھاڑے جاتے ہیں۔

تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول پانچ فروری سے حسبِ روایت بیچ لگژری ہوٹل میں شروع ہو رہا ہے۔ اِس میلے کو یہ ساتواں سال ہے۔ 2010 میں جب یہ سلسلہ شروع ہوا تو کراچی کے پانچ ہزار شہری لکھنے پڑھنے والوں کی باتیں سننے آئے تھے۔ خیال ہے کہ گذشتہ سال تین دنوں میں ایک لاکھ افراد نے اِس میلے میں شرکت کی۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول کی کام یابی صرف یہ نہیں کہ اِس میں غیر ملکی ادیبوں اور فن کاروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور بڑی تعداد میں شہری شریک ہوتے ہیں۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ اب لاہور، اسلام آباد اور فیصل آباد میں بھی ایسے ادبی میلوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ دو ہفتے بعد شیڈول لاہور لٹریچر فیسٹیول کا یہ چوتھا سال ہے۔

کراچی لٹریچر فیسٹیول میں ڈھائی سو سے زیادہ ادیب، شاعر، صحافی، تاریخ داں، مصور، فوٹوگرافر، فلم ساز اور پبلشر شرکت کر رہے ہیں جن میں سے 37 غیر ملکی ہیں۔

ہندوستان سے آنے والے 16 مہمانوں میں اینکر پرسن برکھا دت، تاریخ داں رخشندہ جلیل اور سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر بھی شامل ہیں۔ نور ظہیر نے عصمت چغتائی کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اور اُس کتاب کی رونمائی ہوگی۔ انوپم کھیر کے نام کا اعلان کیا گیا تھا لیکن وہ ویزا نہ ملنے یا ویزا نہ مانگنے کی وجہ سے نہیں آ رہے۔ برطانیہ سے ممتاز سکالر ضیا الدین سرکار بھی شریک ہوں گے۔

فیسٹیول میں تقریباً سو سیشن ہوں گے جن کے گوناگوں موضوعات میں پاک بھارت تعلقات، تعلیم اور مطالعے کا تعلق، قومی زبان کی الجھن، حقوقِ دانش کا معاملہ اور کتابیں چھاپنے کے مسائل ہی نہیں، تھرپارکر کا المیہ، تیسری صنف کے دکھ اور سبز ہلالی پرچم پر سفید حصے والے پاکستانیوں کا نقطہ نظر بھی شامل ہے۔

ایک سیشن میں منٹو پر فلم بنانے والے سرمد کھوسٹ گفتگو کریں گے، ایک میں آسکر لیڈی شرمین عبید چنائے سے سوال ہوں گے، ایک میں سینیئر سفارت کار جمشید مارکر اظہارِ خیال کریں گے، ایک شام انور مسعود کے نام کی جائے گی، ایک میں زہرہ نگاہ کلام سنائیں گی۔

خورشید محمود قصوری، سلمان خورشید، برکھا دت اور جرمن ادیب اسٹیفن کوپٹزکی کی کتابوں سمیت 31 کتابوں کا اجرا ہوگا، نئے لکھنے والوں کی پذیرائی ہوگی، کالموں اور ڈائجسٹوں پر گفتگو کا اہتمام کیا گیا ہے، کئی سیشن کامیڈی کے ہیں، اردو کے علاوہ انگریزی کا مشاعرہ بھی ہے، کم از کم دو فلمیں بھی دکھائی جائیں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برکھا دت، خورشید محمود قصوری، سلمان خورشید اور جرمن ادیب اسٹیفن کوپٹزکی کی کتابوں سمیت 31 کتابوں کا اجرا اس ادبی میلے میں ہوگا

فکشن پڑھنے والوں کو نوید ہو کہ برطانیہ کے مرزا وحید اور جرمنی کے کرسٹوف پیٹرز کے خیالات جاننے کا موقع ملے گا۔ ان کے علاوہ کاملہ شمسی، بینا شاہ، عظمیٰ اسلم خان اور محمد حنیف بھی موجود ہوں گے۔

مستنصر حسین تارڑ، امر جلیل، فہمیدہ مرزا، امداد حسینی، پرویز ہود بھائی، شکیل عادل زادہ اور ندیم فاروق پراچہ کے پرستار ان سے مل سکیں گے۔ اور کیا چاہیے؟

منتظمین نے اس سال چار ادبی انعامات کا اعلان کیا ہے جن میں پہلی بار ایک انعام کسی اردو کتاب کو بھی دیا جائے گا۔

اس بار گفتگو کرنے والوں کی فہرست میں ضیا محی الدین کا نام شامل نہیں۔ دو سال پہلے کراچی لٹریچر فیسٹیول کے ایک سیشن میں ضیا صاحب نے انتظار حسین کا تعزیت نامہ پڑھ کر سنایا تھا۔ یہ تحریر مرحوم کی اپنی لکھی ہوئی تھی اور انھوں نے اگلی صف میں بیٹھ کر سنی تھی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ضیا صاحب آجائیں اور وہی تحریر دوبارہ پڑھیں۔ کیا خبر، انتظار صاحب وہیں بیٹھ کر سنیں۔

اسی بارے میں