سلمان خان کی بریت کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل

Image caption سلمان خان کی جانب سے سابق وفاقی وزیر کپل سبل عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے کہا کہ حکومت مہارشٹر کے دلائل سننے سے قبل ان کا موقف سنا جانا چاہیے

بھارت کی مغربی ریاست مہارشٹر کی حکومت نے ممبئی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے جس کے تحت فلم سٹار سلمان خان کو’ہٹ اینڈ رن‘کیس میں بری کر دیا گیا تھا۔

اس سے قبل ایک ذیلی عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیا تھا۔

یہ حادثہ سنہ 2002 میں پیش آیا تھا۔ الزام یہ تھا کہ سلمان خان رات دیر گئے نشے کی حالت میں گاڑی چلا رہے تھے کہ گاڑی ایک فٹ پاتھ پر چڑھ گئی، جہاں کچھ بےگھر لوگ سو رہے تھے۔

حادثے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا تھا جبکہ چار کو شدید چوٹیں آئی تھیں۔

ذیلی عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے انھیں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن ممبئی ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ استغاثہ کا یہ دعوی پوری طرح ثابت نہیں ہوسکا کہ گاڑی سلمان خان ہی چلا رہے تھے اور اس وقت وہ نشے کی حالت میں تھے۔

عدالت نے انھیں بری کر دیا تھا لیکن مہاراشٹر کی حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے اور معاملے کی سماعت آئندہ جمعہ کو ہوگی۔

جمعہ کی صبح سپریم کورٹ میں حکومت کی جانب سے جرح کرتے ہوئے اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سلمان خان نے شراب پی تھی اور وہ نشے میں تھے، جس لینڈ کروزر سے فٹ پاتھ پر سویا ہوا ایک شخص ہلاک ہوا اسے سلمان خان ہی چلا رہے تھے۔ انھیں معلوم تھا کہ ایسی حالت میں انھیں گاڑی نہیں چلانی چاہیے تھی۔‘

Image caption عدالت نے سلمان خان کو بری کر دیا تھا لیکن مہاراشٹر کی حکومت نے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے

مکل روہتگی نے کہا کہ اس دلیل کو مسترد کر دیا جانا چاہیے کہ گاڑی سلمان خان کے ڈرائیور چلا رہے تھے کیونکہ ڈرائیور نے حادثے کے 12 سال گزر جانے کے بعد یہ دعوی کیا تھا۔

ممبئی ہائی کورٹ نے استغاثہ کے ایک اہم گواہ کے بیان کو بھی مسترد کردیا تھا۔ یہ گواہ سلمان خان کے باڈی گارڈ رویندر پاٹل تھے جنھوں نے حادثے کے بعد کہا تھا کہ گاڑی سلمان خان ہی چلا رہے تھے۔

رویندر پاٹل کی سنہ 2007 میں ٹی بی سے موت ہوگئی تھی۔

سلمان خان کی جانب سے سابق وفاقی وزیر کپل سبل عدالت میں پیش ہوئے اور انھوں نے کہا کہ حکومت مہارشٹر کے دلائل سننے سے قبل ان کا موقف سنا جانا چاہیے۔

بعد میں مقدمے کی سماعت آئندہ جمعہ تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

تعزیرات ہند کی جن دفعات کے تحت سلمان خان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے اس میں زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ حالانکہ عام طور پر سڑک کے حادثوں میں غفلت کا الزام عائد کیا جاتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا کی گنجائش ہے۔

سلمان خان کو غیر ارادتاً قتل کے الزام کا سامنا ہے کیونکہ استغاثہ کے مطابق وہ نشے میں تھے اور انھیں معلوم تھا کہ ایسی حالت میں انھیں گاڑی نہیں چلانی چاہیے تھی۔

اسی بارے میں