’60 سیکنڈز فلم فیسٹیول صرف ایک فلمی میلہ نہیں ہے‘

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے تعاون سے ایک منٹ یعنی ساٹھ سکینڈز کے دورانیے پر مشتمل فلموں کا میلہ سجایا گیا۔

60 سیکنڈز فلم فیسٹیول کی تقریب سرسید میموریل سوسائٹی میں منعقد ہوئی جہاں مختلف ممالک سے منتخب شدہ 35 فلموں کی نمائش کی گئی۔

منتظمین کے مطابق اس فیسٹیول کا آغاز 2012 میں ہوا تھا اور اس کا مقصد دنیا بھر کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا تاکہ وہ اپنے خیالات کا اظہار دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچا سکیں۔

فلمی میلے میں بچوں اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جبکہ دکھائی جانے والی فلموں کے موضوعات میں ماحولیات، ثقافت، مزاح، تجریدی فن، تخلیقی صلاحیت، تعلیم اور صنفی امتیاز جیسے موضوعات کو موضوع بحث لایا گیا تھا۔

اس فلمی میلے میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے فرزار سمیمی اور واحد امیدی کی فلم وژن بہترین فلم قرار دی گئی جبکہ دوسرا انعام خواتین کے خلاف تشدد پر بھارتی شیطان کو دیا گیا۔ یہ فلم سوربھا بالی کی تخلیق تھی۔

تیسرا انعام پاکستانی فلم طوفانی کڈو کے حصے میں آیا۔ طوفانی کڈو گجرات سے تعلق رکھنے والی رومیسہ شاہد کی تخلیق تھی۔

Image caption ہمیں 400 سے زائد فلمیں موصول ہوئیں جن میں ہم نے 35 بہترین فلموں کا انتخاب کیا: ابرار الحسن

رومیسہ شاہد نے حال ہی میں یونیورسٹی آف گجرات سے ملٹی میڈیا میں گریجوئیشن کی ہے اور ان کی تیار کردہ فلم فلپ موشن انداز میں تیار کی گئی تھی۔

60 سیکنڈز فلم فیسٹیول کے ڈائریکٹر ابرار الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ صرف ایک فلمی میلہ ہی نہیں ہے بلکہ فنون و لطیفہ اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے دنیا بھر کے لوگوں کے خیالات جاننے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

’ہمیں 400 سے زائد فلمیں موصول ہوئیں جن میں ہم نے 35 بہترین فلموں کا انتخاب کیا۔ یہ فلمیں تیار کرنے والوں کی عمریں 13 سے 25 سال کے درمیان تھیں اور فلمیں دنیا بھر میں اور خاص طور پر جنوبی ایشیا میں نوجوانوں کے خیالات کی عکاسی کرتی ہیں جنھیں ہمیں جاننے کا موقع ملا ہے۔‘

ساٹھ سکینڈز کے متعین کردہ وقت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا آج کا دور انتہائی تیز رفتار ہے اور سوشل میڈیا کے دور میں بیشتر لوگوں کے پاس تیس چالیس منٹ کی ویڈیو دیکھنے کا وقت نہیں ہے، لہٰذا ایک منٹ میں آپ نے اپنا پیغام پہنچانا ہے اور دیکھنے والے کی توجہ حاصل کرنا ہے۔

’ہم نے دیکھا ہے کہ بے شمار نوجوان ایک منٹ میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کئی اہم پیغامات پہنچانے میں کامیاب رہے ہیں۔‘

ابرار الحسن نے بتایا کہ ’ایک منٹ میں آپ اپنے خواب اور خیالات کو فلم کی صورت میں پیش کر سکتے ہیں اور یہی اس فلمی میلے کا مرکزی خیال ہے۔‘

اس فلمی میلے میں ایک منٹ کے دورانیے پر مشتمل 35 فلموں کی نمائش کے علاوہ بچوں کی بچوں کے لیے تیار کردہ فلموں کی نمائش، فلم سازی اور فوٹوگرافی کے حوالے سے ورکشاپ، ڈیجیٹل سکیورٹی، سماجی تبدیلی اور فلم سازی کے موضوع کے مباحثوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔

فیسٹیول میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کا کہنا تھا کی سوشل میڈیا نے انھیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے تخلیقی کام کو دنیا بھر تک پہنچا سکیں۔

منظمین کے مطابق یہ فلمی میلہ آئندہ دنوں میں پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی منعقد کیا جائے گا۔

اسی بارے میں