’قابلیت دیکھیں، یہ نہیں کہ عورت ہے یا مرد‘

Image caption فلم کی اینڈ کا کے ٹریلر لانچ پر ارجن کپور نے میڈیا سے بات کی

بالی وڈ کے نوجوان اداکار ارجن کپور کا کہنا ہے کہ خواتین خانہ کو اکثر گھر سنبھالنے والی کہا جاتا ہے لیکن وہ در اصل صرف ایک گھر سنبھالتی نہیں بلکہ اسےگھر جیسا بناتی ہیں۔

اپنی آنے والی فلم ’کی اینڈ کا‘ کے ٹریلر لانچ کے موقعے پر ارجن کپور نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ایک گھریلو خاتون کو اکثر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ تم تو صرف گھر پر بیٹھی رہتی ہو، لیکن وہی ہیں جو اصل میں گھر کو گھر بنائے رکھتی ہیں۔

آر بالكي کی ہدایتکاری میں بننے والی فلم ’کی اینڈ کا‘ میں ارجن کپور ایک ایسے انسان کا کردار ادا کر رہے ہیں جسے کام پر جانا پسند نہیں بلکہ وہ گھر کا کام کرنا زیادہ پسند کرتا ہے۔

ان کے مقابل فلم میں کرینہ کپور ایک پرعزم خاتون کا کردار ادا کر رہی ہیں۔

Image caption اس فلم میں کرینہ کپور نے ایک حوصلہ مند خاتون کا کردار ادا کیا ہے

ارجن مزید کہتے ہیں: ’آپ کو کسی چیز کی کمی نہ ہو اس کے لیے ایک گھریلو خاتون خود کتنی قربانی دیتی ہے۔ وہ اپنی خوابوں کو چھوڑ آپ کے سپنے پورا کرنے میں لگ جاتی ہے۔‘

دوسری جانب کرینہ کپور نے بھی ارجن کپور کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اس کردار کو نبھا کر بہادری کا ثبوت دیا ہے۔

کرینہ نے کہا: کتنے مرد ہیں جو ایپرن پہننے کی ہمت کر سکتے ہیں اور اپنی بیوی سے گھر چلانے کے لیے پیسے مانگ سکتے ہیں۔‘

Image caption کرینہ کپور نے ارجن کپور کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے اس کردار کو نبھا کر بہادری کا ثبوت دیا ہے

ارجن کہتے ہیں کہ کسی مرد یا عورت کو ایک دوسرے سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ کیا کام کریں یا کیا نہ کریں۔

وہ کہتے ہیں: ’کام قابلیت کے زور پر ملنا چاہیے نہ کہ یہ دیکھ کر کہ آپ مرد ہیں یا عورت۔‘

ارجن پرعزم ہونے کی بات پر کہتے ہیں: ’میں ایسی کئی خواتین کو جانتا ہوں جو اپنے کام میں بہت اچھی ہیں اور ایسے کتنے مردوں کو بھی جانتا ہوں جو یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ اپنے کام کے تئیں زیادہ حوصلہ مندانہ رویہ نہیں رکھتے لیکن معاشرے کے خوف سے وہ کھل کر بات نہیں کر پاتے ہیں۔‘

Image caption ارجن کپور نے صلاحیت کو کام ملنے کا معیار قرار دیا ہے

ان دنوں سوشل میڈیا پر بھی لوگ کھل کر رد عمل ظاہر کرتے ہیں جس پر ارجن کہتے ہیں: ’لوگ جتنا کھل کے سوشل میڈیا پر اپنی رائے دیتے ہیں شاید اصل زندگی میں وہ ویسا نہیں سوچتے یا کرتے ہوں گے۔‘

انھوں نے میڈیا کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’میڈیا پر بھی ایک بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو بیدار کرے، یہ ایک عمل ہے جو جاری ہے اور آنے والے دنوں میں بہتر ہی ہوگا۔‘

اسی بارے میں