امریکی راک بینڈ ایک بار پھر پیرس کے سٹیج پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیسی ہیوز کا کہنا ہے کہ’یہاں ہمیں بہت پسند کیا گیا ہے اور بہت پیار دیا گیا‘

امریکی راک بینڈ ایگل آف ڈیتھ میٹل نے فرانس میں ہونے والے حملوں کے بعد پہلی بار پیرس میں پرفارم کیا ہے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والا یہ راک بینڈ گذشتہ سال 13 نومبر کو پیرس کے بٹاکلان تھیئٹر میں پرفارم کر رہا تھا کہ جب چار شدت پسندوں نے وہاں حملہ کر دیا۔ شدت پسندوں کے اس حملے کے نتیجے میں وہاں موجود 89 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پیرس میں ہونے والے ان حملوں کے بعد سے بٹاکلان تھیئٹر بند ہے۔ اس لیے ایگل آف ڈیتھ میٹل بینڈ اولمپیا تھیئٹر میں پرفارم کر رہا ہے۔

اس سے قبل بینڈ کے نمایاں رکن جیسی ہیوز نے کہا تھا کہ اس قتل عام کے باوجود ان کے بندوق کے حق میں خیالات تبدیلی نہیں ہوئے ہیں۔

پیر کو جیسی ہیوز نے فرانس کے نیوز چینل آئی ٹیلی کو بتایا کہ ان کے بینڈ کو یہاں بہت سراہا گیا ہے۔

انھوں نے ٹی وی پریزینٹر لاورینس فراری کو بتایا کہ ’یہاں ہمیں بہت پسند کیا گیا ہے اور بہت پیار دیا گیا ہے یہ زبردست ہے۔‘

’میں کسی کو بھی مایوس نہیں کرنا چاہتا۔‘

فراری نے ہیوز سے پوچھا کہ کیا جس ٹراما سے آپ اور دیگر لوگ گزرے ہیں اس کے بعد سے آپ کے گن کنٹرول کے حوالے سے خیالات میں تبدیلی آئی ہے؟ اس کے جواب میں جیسی ہیوز کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ہر کسی مسلح ہونا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری سوچ میں اس قدر تبدیلی ضرور آئی ہے کہ اگر کسی کہ پاس گن نہیں ہے تو سب کو لینی چاہیے۔‘

’کیونکہ میں نہیں چاہتے کہ ایسا کچھ بھی دوبارہ ہوتا دیکھوں، میں چاہتا ہوں کے ہر کسی کے پاس زندہ رہنے کا بہترین موقع ہونا چاہیے۔ میں لوگوں کو مرتا دیکھا جو شاید زندہ رہ سکتے تھے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے شدت پسندوں کے حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد ’یو 2 ‘ سمیت کئی راک بینڈز نے احترام میں اپنی پرفارمنسز منسوخ کر دی تھیں۔

اسی بارے میں